حامد میر کی اسٹیبلشمنٹ مخالف تقریر نے کھلبلی مچادی

اسلام آباد میں ریاستی ایجنسیوں کی جانب سے صحافیوں پر بڑھتے ہوئے حملوں اور گھر میں گھس کر تشدد کرنے کے واقعات کے بعد معروف صحافی اور اینکرپرسن حامد میر کی ایک تقریر نے طاقتور اسٹیبلشمنٹ کے ایوانوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔ اپنی اس تقریر میں سینئر صحافی نے ٹینکوں اور بندوقوں والوں کو تنبیہ کی کہ آئندہ کسی صحافی پر تشدد نہیں ہونا چاہیے ورنہ وہ انکے گھر کی باتیں بتانے پر مجبور ہوں گے اور سب کو پتہ چل جائے گا کہ کہ کس کی بیوی نے اپنے شوہر کو کس وجہ سے گولی مار دی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ ایسا ایک واقعہ ایک حاضر سروس جنرل کے ساتھ پیش آیا تھا جو ایک اہم ترین عہدے پر فائز ہیں۔
جمعہ کو اسلام آباد میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے زیراہتمام ایک مظاہرے کے دوران حامد میر کی دھواں دھار تقریر کے کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔ ان کی تقریر میں کہی گئی کئی باتوں سے واضح تھا کہ ان کی تنقید کا نشانہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیاں اور ملٹری اسٹیبلشمینٹ ہے۔
یاد رہے کہ اپریل 2014 میں حامد میر پر کراچی میں ایک خوفناک قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس میں ان کو چھ گولیاں لگی تھیں۔ انکے بھائی اور سینئر صحافی عامر میر کی جانب سے اس حملے کا الزام خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے تب کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام پر عائد کیا تھا۔ تاہم حملے کے بعد بروقت آغا خان ہسپتال پہنچ جانے کی وجہ سے حامد میر کی جان بچ گئی تھی۔ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے نواز شریف حکومت نے سپریم کورٹ کے تین اراکین پر مشتمل ایک بینچ تشکیل دیا تھا جس کی رپورٹ آج دن تک نہیں آ سکی۔ ظاہر ہے اس ملک میں کوئی بھی ادارہ فوج کی دھارے سے زیادہ تگڑا نہیں ہے۔
تاہم اس ہولناک واقعے کے باوجود حامد میر اپنے والد اور بیباک دانشور اور صحافی پروفیسر وارث میر مرحوم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے صحافت کی پرخار اور پرخطر وادیوں میں اپنا حق اور سچ کہنے کا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جمعہ کے روز اسلام آباد میں اسد علی طور پر حملے کے ردعمل میں ان کی دھواں دھار تقریر بھی اسی سفر کی ایک کڑی تھی۔ حامد میر نے اپنی تقریر میں اسد طور پر ہونے والے حملے کے بارے میں کہا کہ ایک ایسے گھر میں گھس کر حملہ کیا گیا جہاں اسد طور کی مدد کے لیے کوئی موجود نہیں تھا۔
انھوں نے سخت لہجے میں کہا کہ ‘تم اتنے بہادر ہو تو سینہ تان کر کہو کہ ہاں میں ہوں جو اس کے گھر میں گھسا تھا۔ لیکن تم اتنے بزدل اور بے غیرت ہو کہ یہ نہیں مان رہے کہ اسد کے گھر میں تم گھسے تھے، تم کہتے ہو، اوہو، وہ کسی لڑکی کا بھائی تھا جس نے اسد کو مارا ہے۔’ یاد رہے کہ اسد طور پر حملے کے بعد سوشل میڈیا پر یہ افواہ چلائی گئی کہ اسد طور کو کسی ذاتی معاملے کی وجہ سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ میں کسی ایسی لڑکی کو تو نہیں جانتا جس کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا ہو لیکن میں لڑکی کی ماں کو ضرور جانتا ہوں جس کا نام جنرل رانی ہے۔
حامد میر نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ دشمن ‘سمجھتا ہے کہ میرا پتا نہیں چلے گا، میں نامعلوم ہوں۔ لیکن ہم سب اپنے دشمن کو بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسد طور اور دیگر صحافیوں پر اسلام آباد میں حملے کرنے والے در اصل جنرل رانی کی ہی اولاد ہیں۔
اسد طور پر حملے کی خبر عام ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر جہاں ان پر ہونے والے حملے کی مذمت کا سلسلہ شروع ہوا وہیں ان پر طرح طرح کے الزمات بھی لگائے گئے اور یہ بھی کہا گیا کہ انہوں نے ملک سے باہر جانے کے لیے یہ ڈرامہ رچایا۔ ان الزامات کے تناظر میں حامد میر نے سابق فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسد طور پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ بیرون ملک سیاسی پناہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ تو وطن میں ہی موجود ہیں۔ مجھے بھی گولیاں ماری گئی تھیں لیکن میں بھی پاکستان میں موجود ہوں، اسی طرح مطیع اللہ جان کو اغوا کیا گیا اور ابصار عالم کو گولی ماری گئی لیکن ان میں سے کوئی بھی پاکستان چھوڑ کر فرار نہیں ہوا۔ ہاں لیکن ایک نام نہاد کمانڈو جرنیل ایسا بھی تھا جو ایک خوف زدہ چوہے کی طرح دم دبا کر ملک سے بھاگ گیا۔ اس کا نام جنرل پرویز مشرف ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ حامد میر نے اسٹیبلشمینٹ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ موجودہ اسٹیبلشمنٹ کشمیر اور اسرائیل کے معاملے پر پاکستانی قوم کے ساتھ دھوکا کرنے جا رہی ہے۔ لیکن چونکہ اس معاملے میں پاکستانی میڈیا اسٹیبلشمینٹ کا ساتھ نہیں دے رہا چنانچہ یہ لوگ میڈیا کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
اسلام آباد پریس کلب کے باہر اپنی تقریر کے آخر میں حامد میر نے، جو کہ شدید غصے میں نظر آ رہے تھے، ایک بار پھر خفیہ والوں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اب اگر صحافیوں کے ساتھ اس قسم کا برتاؤ کیا گیا اور ان پر گھروں میں گھس کر تشدد کیا گیا تو ‘تمھارے گھر کے اندر کی باتیں ہم آپ کو بتائیں گے۔’ حامد میر کی تقریر سے قبل منیزے جہانگیر نے بھی اسی طرح سخت لہجہ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ آج کے بعد صحافیوں پر اس طرح گھروں میں گھس کر حملے برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ انھوں نے آئین کے آرٹیکل 19 کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ‘یہ ہمارا ملک ہے اور ہم یہاں بولیں گے۔۔۔جہاں نہ فوج کے بارے میں بات کی جا سکتی ہے نہ عدلیہ کے بارے میں بات کی جا سکتی ہے۔ اگر آپ اس ملک میں سیاست کریں گے تو ہم آپ پر بات کریں گے اور کرتے رہیں گے۔’
یاد رہے کہ پاکستانی آئین کے مطابق شق 19 آزادی اظہار رائے سے متعلق ہے۔اس شق کے مطابق ’اسلام کی عظمت، یا پاکستان یا اس کے کسی حصہ کی سالمیت، سلامتی یا دفاع، غیر ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات، امن عامہ، تہذیب یا اخلاق کے مفاد کے پیش نظر یا توہین عدالت، کسی جرم کے ارتکاب یا اس کی ترغیب سے متعلق قانون کے ذریعے عائد کردہ مناسب پابندیوں کے تابع، ہر شہری کو تقریر اور اظہار خیال کی آزادی کا حق ہوگا اور پریس کی آزادی ہوگی۔‘
حامد میر کی تقریر کے بعد سوشل میڈیا پر رائے بڑی منقسم نظر آئی۔ جہاں ایک جانب حامد میر کے حامیوں نے ان کی ہمت کو سراہا اور داد دی، وہیں دوسری جانب خفیہ والوں کے میڈیا سیل کی جانب سے ان کی تقریر پر تنقید بھی کی گئی اور ان پر غلط بیانی کرنے کے الزامات لگائے گے۔ ایک صارف ‘آئی کراچی والا’ نے ان کی تقریر کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘حامد میر نے ریاستی ادارے پر دو بڑے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ وہاں سے جواب آنا چاہیے کیونکہ الزامات ہر جگہ سنے گئے ہیں۔ جواب نہ آنے کی صورت میں ادارے کے خلاف لوگوں میں نفرت پیدا ہو سکتی ہے۔’ ایک اور صارف نے حامد میر کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ان کے والد کہا کرتے تھے کہ ‘حامد میر اپنے والد وارث میر کی طرح ریاست اور اس کے اداروں کو جمہوریت اور آزادی صحافت کے نام پر نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ میں کبھی اپنے والد کی بات نہیں سمجھ سکی تھی تاوقتیکہ آج میں نے یہ تقریر دیکھ لی۔’
خیال رہے کہ پروفیسر وارث میر نے اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعے ببانگ دہل مشرقی پاکستان میں بنگالی عوام کے خلاف پاکستانی فوجی آپریشن کی مخالفت کی تھی جس میں ہزاروں معصوم شہری مارے گئے تھے۔ تاہم اسٹیبلشمنٹ نے فوجی آپریشن جاری رکھا جسکے نتیجے میں پاکستان دو ٹکڑے ہوگیا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ خود پاکستان توڑنے کی ذمہ دار اسٹیبلشمنٹ بڑی بے شرمی سے پاکستان بچانے کی جنگ لڑنے والے پروفیسر وارث میر کو غدار قرار دیتی ہے۔
دوسری جانب حامد میر کی حمایت میں ٹویٹ کرتے ہوئے محقق اور سماجی کارکن عمار علی جان نے کہا کہ وہ ان کو ‘اس طرح سر عام پاکستان کی تاریخ کے مسخ شدہ بیانیہ کو چیلنج’ کرنے پر داد پیش کرتے ہیں۔’ عمار نے مزید لکھا کہ پاکستان ‘عالمی طاقتوں کے لیے کرائے کی ریاست کا کردار ادا کرتا ہے’ اور اس شرمندگی کا باعث ‘صحافی یا ناقدین نہیں ہیں بلکہ وہ ہیں جو عام شہریوں پر غیر ملکی ایجنٹ ہونے کا الزام عائد کرتے ہیں۔’ سماجی کارکن علم زیب محسود نے حامد میر کی تقریر پر کہا کہ وہ حامد میر کے ساتھ مکمل طور پر اتفاق کرتے ہیں اور صحافت کے دشمنوں کو پردے کے پیچھے نہیں چھپنا چاہیے۔
دوسری جانب ان کی مخالفت کرنے والوں میں سے ایک صارف خورشید پٹھان نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ‘میں خورشید پٹھان اپنی حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ حامد میر کو فوج پر بغیر ثبوت الزام لگانے، دھمکیاں و گالیاں دینے، دشمن ملک کو مذاق اڑانے کا موقع دینے، ان کے بیانیے کو فروغ دینے کہ جرم میں فوری گرفتار کر کے غداری کا مقدمہ درج کیا جائے۔’ تاہم اس ٹویٹ کے جواب میں درجنوں صارفین نے لکھا کہ غداری کا الزام اب حریت پسندوں کے لیے ایک میڈل بن چکا ہے اور پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ اس الزام کی حقیقت کیا ہوتی ہے۔
دوسری جانب حامد میر نے خود اپنی تقریر پر سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ‘اب آپ دیکھیں گے کہ پچاس ہزار روپے مہینے پر بھرتی کیے گئے کئی وی لاگرز میدان میں آئیں گے اور ہم پر الزامات لگا کر اپنی تنخواہ حلال کریں گے، لیکن پاکستان کے عوام کو پتہ چل چکا ہے کہ فارن ایجنڈے پر عمل درآمد کرانے والے کون لوگ ہیں؟
