حریم شاہ نے مبشر لقمان کے خلاف قانونی جنگ جیت لی


معروف ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ نے اینکر مبشر لقمان کے خلاف قانونی جنگ جیت لی ہے جس کے بعد لاہورکی سیشن کورٹ نے ٹک ٹاک اسٹارز حریم شاہ اور صندل خٹک کے خلاف چوری کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست مسترد کردی ہے۔
دونوں کے خلاف جنوری 2020 میں اینکر پرسن مبشرلقمان کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے والٹن ایئر پورٹ پر اس کے چھوٹے جہاز میں گھس کر اسکا سامان چوری کیا تھا۔ تاہم عدالت نے قرار دیا ہے کہ مبشر لقمان دونوں لڑکیوں پر لگایا جانے والا چوری کا الزام ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ کیس کی سماعت کے دوران 4 دسمبر کو سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس ماڈل ٹاؤن لاہور نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے دونوں ٹک ٹاک اسٹارز کے خلاف تحقیقات کی ہیں اور دونوں کے پاس سے چوری کا کوئی سامان برآمد نہیں ہوا۔ دوران سماعت مبشر لقمان کے وکیل نے دونوں ٹک ٹاکرز حریم شاہ اور صندل خٹک کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے حق میں دلائل دیے تھے۔ بعد ازاں عدالت نے پولیس کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کی روشنی اور دلائل سننے کے بعد درخواست کو نمٹانے کا فیصلہ سنایا اور دونوں لڑکیوں کو بری کر دیا۔
خیال رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں مبشر لقمان نے حریم شاہ اور صندل خٹک نامی ٹک ٹاک اسٹارز پر ان کے نجی طیارے میں بغیر اجازت بیٹھنے اور قیمتی سامان چوری کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ مبشر لقمان نے لاہور ہائی کورٹ میں دونوں خواتین سمیت پنجاب کے صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان کے خلاف بھی مقدمہ دائر کرنے کی درخواست کی تھی۔ مبشر لقمان نے الزام لگایا کہ فیاض الحسن چوہان کی ایما پر یہ دونوں خواتین ان کے جہاز میں آئیں اور قیمتی چیزیں چرالیں، جن میں لاکھوں روپے مالیت کے کیمرے اور دیگر سامان شامل ہیں۔ اینکر نے حریم اور صندل کی جہاز میں بنائی گئی ویڈیو سامنے آنے کے بعد تھانے میں ان کے خلاف شکایت بھی درج کروائی تھی، البتہ انہوں نے عدالت میں بتایا کہ پولیس اسٹیشن میں درخواست پر تسلی بخش کارروائی نہ ہونے پر وہ عدالت سے رجوع کر رہے ہیں۔ دوسری جانب حریم شاہ اور صندل خٹک نے بھی لاہور کی ضلعی عدالت میں مبشر لقمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔ ٹک ٹاکرز نے اپنی درخواست میں بتایا تھا کہ مبشر لقمان نے ان پر چوری کرنے کا جھوٹا الزام عائد کیا جب کہ دونوں خواتین نے مبشر لقمان پر انہیں ڈرانے اور دھمکیاں دینے کا الزام بھی عائد کیا۔
یاد رہے کہ جنوری 2020 کےآغاز میں اسی معاملے پروفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے لاہورمیں ایک شادی کی تقریب کے دوران مبشر لقمان کو تھپڑ بھی رسید کیا تھا۔ مبشرلقمان نے حریم شاہ سے متعلق ایک طویل ویڈیو جاری کرتے ہوئے فواد چوہدری اور فیاض الحسن چوہان پر الزامات عائد کیے تھے۔ بعد ازاں پنجاب کے وزیر آب پاشی حسن لغاری کے بیٹے کی دعوت ولیمہ میں جہانگیر ترین، اسحاق خاکوانی اور فواد چوہدری آپس میں بات چیت کر رہے تھے کہ اسی دوران مبشر لقمان وہاں پہنچے اور دونوں میں تلخ کلامی ہوئی، معاملہ اس قدر بڑھا کہ فواد چوہدری نے مبشر لقمان کو تھپڑ رسید کردیا۔ فواد چوہدری نے ٹوئٹر پراس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ مبشر لقمان جیسے لوگوں کا صحافت سے کوئی تعلق نہیں، اس شعبے میں گھسے ایسے لوگوں کو بےنقاب کرنا سب کا فرض ہے اور میں آئندہ بھی صحافت کا لبادہ اوڑھ کر اپنا ذاتی ایجنڈا آگے بڑھانے والی کالی بھیڑوں کو دل کرتا رہوں گا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے فواد چوہدری نے ایک اور بدنام زمانہ اینکر سمیع ابراہیم کو تھپڑ رسید کیا تھا۔ دونوں نے عمران خان سے فواد چوہدری کی شکایت بھی کی لیکن کچھ نہیں ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button