حزب المجاہدین کی سید صلاح الدین پر حملے کی تردید

حزب ترجمان سلیم ہاشمی نے اس خبر کی سختی سے تردید کی ہے کہ حزب سربراہ سید صلاح الدین پر کوئی حملہ ہوا ہے۔ترجمان نے بھارتی میڈیا کو مشورہ دیا کہ بھارتی عوام کو وہ چینی افواج کے سامنے بھارتی فوجیوں کی بے بسی اور بے کسی کی کہانی بیان کریں۔۔بے بنیاد خبروں سے بھارتی عوام کا دل بہلانے کی کوششیں مت کریں۔۔ایسی کوششوں سے زمینی حقائق پر کوئی اثر نہیں پڑے گا.
یاد رہے کہ سید صلاح الدین بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حکومتی افواج سے برسرپیکار سب سے بڑی کشمیری عسکری تنظیم حزب المجاہدین کے سربراہ ہیں۔ سید صلاح الدین کو 1992ء میں حزب المجاہدین کا امیر منتخب کیا گیا تھا. بھارت کی طرف سے الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ سید صلاح الدین پاکستان میں رہ کر کشمیر میں مہم چلا رہے ہیں۔ انڈیا نے مئی 2011 میں پاکستان کو جن 50 مطلوب ترین افراد کی فہرست دی تھی اس میں صلاح الدین کا نام بھی شامل تھا جبکہ 2017 میں امریکہ کی طرف سے انھیں خصوصی طور نامزد کردہ عالمی دہشت گرد قراردیا تھا.
واضح رہے کی بھارتی میڈیا پرمتحدہ جہاد کونسل اور حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین پر حملہ کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ خبروں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سید صلاح الدین پر 25 مئی کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کسی نامعلوم شخص نے حملہ کیا.حملےمیں سید صلاح الدین محفوظ رہے۔ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ حملہ کے بعد حزب المجاہدین کے سربراہ کسی نامعلوم مقام پر منتقل ہو گئے ہیں۔ بھارتی میڈیا پر سید صلاح الدین پر حملہ خفیہ ادارے سے اختلافات کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے جبکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سید صلاح الدین پر حملہ حزب المجاہدین کے ذمہ داران کی ایماء پر ہی کیا گیا ہے چونکہ گزشتہ کچھ عرصے سے حزب میں اختلافات پیدا ہو گئے تھے اور سید صلاح الدین کے نئی حکمت عملی سے انکی بعض قریبی ساتھی ناخوش ہیں ۔ حزب المجاہدین کے بعض کمانڈروں کا خیال ہے کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں جو مظالم کر رہے ہیں اور خاص طور پر مقبوضہ کشمیر میں ریاض نائیکو کو گرفتاری کے بعد ظالمانہ تشدد سے شہید کرنے کے بعد حزب المجاہدین کو مقبوضہ کشمیر میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے لیکن چیف صلاح الدین اس سے متفق نہیں تھے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button