ملائیشیا کے سابق وزیراعظم مہاتیر آخری عمر میں رسوا

25 برس ملک کے حکمران رہنے اور عزت کمانے والے ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم مہاتیر محمد کا 95 برس کی عمر میں بھی سیاست جاری رکھنے کا شوق بالآخر اس وقت ان کی رسوائی پر منتج ہوا جب ان کی اپنی ہی سیاست جماعت نے ان کو پارٹی سے بے دخل کردیا۔
مہاتیر کے اپنے ہی ہاتھوں بنائی گئی سیاسی جماعت بیراستو کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مہاتیر محمد کی رکنیت فوری طور پر منسوخ کی جاتی ہے‘۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق پارٹی کے چیئرمین مہاتیر محمد کو ملائیشیا کی حکومت کی حمایت نہ کرنے پر برطرف کیا گیا جس کی سربراہی نئے وزیراعظم محی الدین یاسین کررہے ہیں۔ خیال رہے کہ محی الدین یاسین اب پارٹی کے صدر بھی ہیں۔ ماضی میں مہاتیر محمد اس پارٹی کے صدر تھے۔
سوشل میڈیا پر وائرل مراسلے میں پارٹی نے واضح کیا کہ جب گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ کا اجلاس ہوا تھا تو مہاتیر محمد اپوزیشن کے ساتھ بیٹھ گئے اور انہوں نے ظاہر کردیا تھا کہ وہ پارٹی کے صدر اور وزیراعظم محی الدین کی قیادت کو بھی تسلیم نہیں کرتے، اس طرح وہ خود ہی جماعت کی رکنیت کے دائرے سے باہر ہوگئے۔ وزیر اعظم محی الدین کے اس اقدام کو ’تمام اختیارات‘ اپنے پاس رکھنے کی کوشش سمجھا جارہا ہے کیونکہ انہیں اپنی نوزائیدہ وزارت عظمیٰ کے لیے ممکنہ چیلنجز درپیش ہے۔
یاد رہے کہ 95 سالہ مہاتیر محمد نے رواں برس فروری میں خلاف توقع وزرات عظمیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا لیکن بعد ازاں وہ دوبارہ وزارت عظمی کے امیدوار بن گئے تھے۔ ان کی سیاسی جماعت نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے محض 2 سال سے بھی کم عرصے میں حکمراں اتحاد سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔ اس نئے سیاسی بحران کا اختتام اس وقت ہوا جب محی الدین کو وزیراعظم منتخب کر لیا گیا۔ خیال رہے کہ محی الدین اور مہاتیر محمد بیراستو پارٹی کے بانیوں میں شامل ہیں۔ مہاتیر اور ان کی اتحادی جماعت نے مئی 2018 میں حریف جماعت بریسن نیشنل اور اس کے اتحادیوں کے 60 سالہ دور اقتدار کا خاتمہ کر کے پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل کی تھی۔
اس سے پہلے مہاتیر کے پہلے دور اقتدار کے دوران وہ اور انور ابراہیم ملائیشیا کے 2 اعلیٰ ترین رہنما تھے جنہوں نے مئی 2018 کے انتخابات میں ایک بدعنوان حکومت کو ختم کرنے کے سیاسی معاہدے کے تحت اتحاد کرلیا تھا۔ انتخابات سے قبل ہوئے سمجھوتے کے تحت اتحادی جماعتوں میں اقتدار منتقل کرنے کا معاہدہ ہوا تھا لیکن مہاتیر محمد کی جانب سے اقتدار سے دست برداری کی تاریخ دینے سے انکار پر ان کے تعلقات میں دراڑ آگئی تھی۔ دلچسپ بات یہ کہ اپنے پہلے دور اقتدار میں مہاتیر محمد نے اسی جماعت کے زیر سایہ 22 سال تک حکومت کی تھی۔ انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے انہوں نے نجیب رزاق کی حکومت کا خاتمہ کیا تھا جنہیں طویل عرصے سے کرپشن کے الزامات کا سامنا تھا۔ تاہم جب مہاتیر محمد پہلی مرتبہ برسرِاقتدار تھے اس وقت نجیب رزاق ان کے اہم راز داں سمجھے جاتے تھے۔ حکمراں جماعت پر کرپشن کے الزامات منظر عام پر آنے کے بعد مہاتیر نے نجیب رزاق کی حکومت کو پارلیمنٹ سے بے دخل کرنے کے لیے اپوزیشن جماعت میں شمولیت اختیار کی تھی جبکہ وہ سیاست کو خبر باد کہہ چکے تھے۔
مہاتیر محمد کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے اپنے دور حکومت میں ملائیشیا کو جدید خطوط پر استوار کیا اور ساتھ ہی وعدہ کیا تھا کہ نئی حکومت سیاسی حریف سے ہرگز ‘بدلہ’ نہیں لے گی۔ تاہم 95 برس کا ہو جانے کے باوجود سیاست جاری رکھنے کے فیصلے نے بالآخر ان کو اس وقت رسوائی کا شکار کردیا جب انہیں ان کی اپنی ہی سیاسی جماعت نے اٹھا باہر پھینکا۔
