حماس اسرائیل جنگ پاکستان کو مہنگی پڑنے کا خدشہ کیوں؟

حماس اور اسرائیل کی تین ہفتوں سے جاری جنگ کے نہ صرف سیاسی بلکہ معاشی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے سائے مزید گہرے ہونے سے اور دنیا کی معیشتیں مزید متاثر ہو سکتی ہیں۔کرونا وائرس اور اس کے بعد یوکرین پر روس کے حملے کے نتیجے میں دنیا کی کئی معیشتوں کی طرح پاکستان کی معیشت بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ معاشی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی مزید طول پکڑتی ہے تو اس صورت میں پاکستان کی معیشت پر اس کے گہرے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

لاہور میں مقیم ماہر معاشیات عمران احمد کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک طویل جنگ ہوگی اور اس کے معاشی اثرات پاکستان پر نظر آئیں گے کیوں کہ اسرائیل اور حماس کی اس جنگ کی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے جس سے پاکستان میں بھی آںے والے مہینوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے اپنے معاشی مسائل کے تناظر میں یہ بات بھی اہم ہے کہ گزشتہ ہفتے ملک میں ایک بار پھر انٹر بینک میں روپے کی قدر میں کمی آنا شروع ہوئی ہے جو اس سے پہلے ڈالر کی اسمگلنگ کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے باعث بہتر ہوئی تھی۔عمران احمد کے بقول پاکستان کے اندرونی عوامل ایک طرف لیکن خام تیل کی قیمتیں بڑھنے اور اوپر سے روپے کی قدر میں اگر کمی کا سلسلہ پھر سے شروع ہوگیا تو اس دو دھاری تلوار کا نتیجہ پاکستانیوں کے لیے مزید مہنگائی میں اضافے کا باعث بنے گا۔

بین الاقوامی تجزیہ کاروں نے بھی اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ پاکستانی روپے کی قدر میں حالیہ بہتری ممکنہ طور پر قلیل المدت کے لیے ہو گی۔ ملک میں بڑھتے ہوئے شرح سود ، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ صرف قلیل مدتی انتظامات اور بیرونی توازن کو سہارا دینے کے لیے دو طرفہ مالی اعانت کے بھی کم انتظامات کے باعث روپے کی قدر میں حالیہ بہتری جُز وقتی دکھائی دیتی ہے۔

ایک اور معاشی ماہر عبدالعظیم کا کہنا ہے کہ اسرائیل حماس جنگ کا اثر نہ صرف دنیا کے معاشی مستقبل پر اثر ہوگا بلکہ اس کے اثرات پاکستانی معیشت پر بھی نظر آئیں گے۔انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس جنگ کے باعث امریکہ کی معیشت پر پڑنے والے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہوں گے۔عبد العظیم نے مزید کہا کہ دنیا میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا رجحان جاری رہا تو ایسی صورت میں پاکستان کا تجارتی خسارہ مزید بڑھ سکتا ہے اور معاشی ترقی رفتار جو پہلے ہی انتہائی کم ہے مزید کم رہنے کا خدشہ ہوگا۔ معاشی نمو میں کمی ملازمتوں میں کمی، غربت میں اضافے اور پھر اس سے پیدا ہونے والے سماجی اور معاشی حالات مزید خراب ہونے کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ان کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں رواں سال پاکستان کی اقتصادی نمو صرف 2.5 فی صد رہنے کی توقع ظاہر کی ہے۔ جب کہ اس سے قبل ایشیائی ترقیاتی بینک نے رواں مالی سال ترقی کی شرح اس سے بھی کم 1.9 فی صد رہنے کی توقع ظاہر کی تھی۔

معاشی ماہرین کے خیال میں دوسری جانب عالمی معیشت کی خراب حالت کے باعث بیرونِ ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم میں بھی کمی آئے گی۔

معاشی تجزیہ کار عبدالعظیم کے مطابق اگر جنگ جاری رہتی ہے اور اس سے امریکہ اور یورپ کی معیشتوں میں بھی مندی آئی تو بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی گئی ترسیلات زر میں مزید کمی کا خدشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر میں بڑا حصہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کا ہوتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا دائرہ کار بڑھنے کی صورت میں یہاں کی معیشتوں میں یقینا سست روی آ سکتی ہے جو براہِ راست پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر کو کم کرنے کا باعث بنے گی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل حماس جنگ کو وسیع ہونے سے روکنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ یہ تنازع معاشی تناؤ کو بڑھا سکتا ہے اور ممکنہ طور پر مختلف ممالک میں عدم استحکام کا سبب بھی بن سکتا ہے۔مبصرین کے مطابق اگر صورتِ حال پر قابو نہ پایا گیا تو یہ بحران ایسےخطے میں پھیل سکتا ہے جو تیل کی عالمی سپلائی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

Back to top button