ٹی ٹی پی نے پاکستان مخالف حکمت عملی تبدیل کر لی؟

طالبان مقامی پشتون آبادی کی حمایت حاصل کرنے کی ناکام کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے ٹی ٹی پی نے پشتون قوم پرستی کو اپنانے کی بھی کوشش کی، جو روایتی طور پر ایک سیکولر تحریک رہی ہے ۔ تاہم اسے کوئی کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔یہاں تک کہ پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما منظور پشتین سے اس بنیاد پر پاکستانی طالبان نے ماہانہ جریدہ مجلہ طالبان میں جنوری کے شمارے میں بات چیت کی پیشکش کی۔ لیکن اس پیشکش کا بھی ٹی ٹی پی کو مثبت جواب نہ ملا۔

انڈیپینڈنٹ اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق علاقائی کنٹرول اور عوامی حمایت نہ ہونے کے باوجود ٹی ٹی پی امتیازی ہدف بنانے یعنی سکیورٹی فورسز پر حملہ کرنے اور کمزور اہداف سے گریز کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے،۔دوسرے لفظوں میں ٹی ٹی پی نے علاقے کو کنٹرول کیے بغیر یا عوامی حمایت حاصل کیے بغیر ایک باغی گروپ کا طرز عمل اپنایا ہوا ہے۔موجودہ صورت حال کے تناظر میں ٹی ٹی پی نے ایک ’پروٹو باغی‘ یا ’ہائبرڈ دہشت گرد گروہ‘ یعنیٰ ایک ہی وقت میں ’دہشت گرد‘، باغی اور گوریلا حکمت عملی کا استعمال شروع کر رکھا ہے۔

مبصرین کے مطابق ٹی ٹی پی نے بیانات کے ذریعے خود کو القاعدہ سے ایک ایسے موڑ پر دور کر لیا ہے جہاں اس نے ماضی میں القاعدہ کے قیام، مالی اعانت اور نظریاتی رہنمائی میں اپنے کردار کو مسترد کر دیا ہے۔ٹی ٹی پی نے بار بار اپنی پاکستان کی حد تک توجہ کا اعادہ کیا ہے ، یہاں تک کہ عالمی برادری کو اشارہ دیا کہ وہ افغان طالبان جیسی شرعی ریاست کے قیام کے لیے پاکستانی ریاست سے لڑ رہی ہے۔ یہ متنازع ایڈجسٹمنٹ ٹی ٹی پی کی سیاسی ہوشیاری پر خاصی توجہ دیتی ہیں۔

تنقیدی طور پر دیکھا جائے تو ٹی ٹی پی کا گروپ العمر میڈیا کے بیانات اور دیگر پروپیگنڈا ذرائع پہلے سے مضبوط ہو چکے ہیں۔ العمر میڈیا ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وسیع پیمانے پر موجود ہے۔ القاعدہ برصغیر پاک و ہند کے پروپیگنڈا چیف قاری منیب جٹ کے ٹی ٹی پی میں شامل ہونے کے بعد گروپ کے پروپیگنڈے کا لسانی اور ادارتی معیار کافی حد تک بہتر ہوا ہے۔اس سے پہلے وہ القاعدہ کے پروپیگنڈا ونگ الصحاب سے میڈیا آپریشنز چلا رہے تھے۔

مبصرین کے مطابق ٹی ٹی پی نے اپنے تنظیمی ڈھانچے کو نئے ماڈل کے ساتھ ایک مضبوط مرکزی فریم ورک میں تبدیل کیا ہے۔ ٹی ٹی پی نے پاکستان میں اپنی عسکری کارروائیوں کو دو زونز میں تقسیم کیا ہے یعنی شمال اور جنوب۔اسی طرح، اس نے سات شیڈو وزارتیں، انٹیلی جنس، خودکش اور تربیتی یونٹس، تین پرتوں پر مشتمل عدالتی نظام، ایک اسلامی فقہ کا ادارہ، ایک ہاؤسنگ ڈیپارٹمنٹ اور 12 ولایت یعنی نصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ان اقدامات سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ٹی ٹی پی پر افغان طالبان کا گہرا اثر و رسوخ ہے۔ یہ فیصلے 2022 میں لیے گئے تھے لیکن اس پر مرحلہ وار عمل کیا جا رہا ہے اور 2023 میں بھی جاری ہے۔

ٹی ٹی پی پاکستان میں اپنی موجودگی کو بڑھانے کے لیے افغانستان میں اپنی سرحد پار پناہ گاہوں کی موجودگی کو استعمال کر رہی ہے۔ یہاں تک کہ 2008-2013 کی مدت کے دوران اپنے عروج پر ٹی ٹی پی پنجاب میں خاطر خواہ قدم جمانے میں ناکام رہی۔

کشمیری عسکریت پسند گروپوں اور شیعہ مخالف فرقہ وارانہ تنظیموں کے الگ ہونے والے دھڑوں پر مشتمل پنجابی طالبان کے ساتھ مضبوط گٹھ جوڑ کے باوجود ٹی ٹی پی تنظیم نو پر توجہ دے رہی ہے، جس میں پہلی بھرتی کے عمل کو پنجاب تک پھیلانا، دوسرا پاکستان میں پبلسٹی کے لیے ہائی پروفائل حملے کرنا شامل ہے۔تیسرا اس تاثر کو زائل کرنا کہ پاکستان پر مبنی بیان بازی کے باوجود ٹی ٹی پی ایک پشتون عسکریت پسند گروپ ہے۔

خیال رہے کہ ٹی ٹی پی کی توسیع 40 سے زائد عسکریت پسند دھڑوں کا اس گروپ میں شمولیت سے ممکن ہوئی، جنہوں نے مفتی نورولی محسود سے وفاداری کا حلف اٹھایا ہے، جس سے اس گروپ کی آپریشنل اور تنظیمی طاقت کو بڑھانا ممکن ہوا۔ اس وقت اس گروپ کی صفوں میں آٹھ سے 10 ہزار عسکریت پسند ہیں۔

مبصرین کے مطابق سابقہ فاٹا میں پاکستانی ریاست لوگوں کے ساتھ وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس موقعے سے تحریک طالبان پاکستان نے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ تاہم یہ امر قابل ذکر ہے کہ فاٹا کے لوگوں میں ٹی ٹی پی کے لیے کوئی ہمدردی نہیں۔ تاہم دوسری جانب افغان طالبان کی واپسی اور اس گروپ کو افغانستان میں پناہ گاہیں فراہم کرنے کے علاوہ ملک میں سیاسی اور اقتصادی عدم استحکام کا ٹی ٹی پی نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔مبصرین کے مطابق ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں کی دوسری اور تیسری نسل افغانستان کے طالبان کے زیر انتظام مدارس میں تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ٹی ٹی پی کی پہلی نسل کے برعکس نئی نسل زیادہ بنیاد پرست اور اس کی پاکستان کے ساتھ وابستگی کمزور ہو گی۔

Back to top button