حکومتی درخواست مسترد،ضمنی وبلدیاتی الیکشن مقررہ تاریخوں پرہونگے

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وزات داخلہ کی ضمنی و کراچی بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ضمنی انتخابات مقررہ تاریخ 16 اکتوبر اور کراچی کی تمام ڈویژنز میں بلدیاتی انتخابات 23 اکتوبر کو کروانے کا اعلان کر دیا۔
وزارت داخلہ کی جانب سے ای سی پی کو قومی اسمبلی کے 9 اور پنجاب اسمبلی کے 3 حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات 90 روز کے لیے ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی جبکہ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے کہا تھا کہ اگر ضمنی انتخابات مزید ملتوی ہوئے تو ان کی جماعت حکومتی اتحاد سے علیحدہ ہو جائے گی۔
الیکشن کمیشن سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کا آج اہم اجلاس چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں منعقد ہوا، جس میں ممبران الیکشن کمیشن کے علاوہ سیکریٹری الیکشن کمیشن، سیکریٹری وزارت داخلہ، سیکریٹری دفاع، چیف سیکریٹری، انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب، آئی جی خیبر پختونخوا اور آئی جی سندھ نے شرکت کی،اس کے علاوہ ملٹری آپریشنز (ایم او) ڈائریکٹریکٹ اور دیگر سیکیورٹی اداروں کے نمائندگان اور الیکشن کمیشن کے سینئر افسران نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
جاری بیان کے مطابق چیف الیکشن کمشنر نے ضمنی انتخابات اور کراچی ڈویژن میں بلدیاتی انتخابات کے پر امن انعقاد کی اہمیت پر زور دیا۔
اجلاس میں سیکریٹری الیکشن کمیشن نے بریفنگ دی کہ الیکشن کمیشن نے 9 قومی اسمبلی، 3 صوبائی اسمبلی اور کراچی ڈویژن کے تمام اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔
جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انتخابات کے انعقاد کے لیے تیار ہیں، تاہم صوبائی حکومتوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی کے دیگر اداروں کی ان انتخابات میں اپنی خدمات سرانجام دینے کے حوالے سے ان کا مؤقف درکار ہے تاکہ انتخابات کا پُرامن انعقاد اور ووٹروں کو پولنگ کے دن پُرامن ماحول کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔
اجلاس کے دوران سیکریٹری وزارت داخلہ، سیکریٹری دفاع، چیف سیکریٹری، آئی جیز اور سیکیورٹی کے دیگراداروں کے نمائندوں نے میٹنگ میں اپنا اپنا مؤقف پیش کیا۔
الیکشن کمیشن نے مذکورہ بالا تمام افسران و نمائندگان کا موقف سننے کے بعد مندرجہ ذیل فیصلے کیے ہیں، ضلع کرم کی قومی اسمبلی کی نشست جہاں پر امن وامان کی صورت حال بہتر نہیں ہے، اس کے علاوہ باقی تمام قومی و صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں بہتر انتظامی انتظامات کے ساتھ انتخابات مقررہ تاریخ یعنی 16اکتوبر 2022 کو ہوں گے، قومی اسمبلی کے حلقے این اے 45 ضلع کرم کا انتخاب مقررہ تاریخ یعنی 16 اکتوبر 2022 کو نہیں ہوگا، یہاں پر انتخاب کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا، علاوہ ازیں کراچی ڈویژن کے تمام اضلاع میں دوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات بھی شیڈول کے مطابق 23 اکتوبر 2022 کو ہوں گے۔
واضح رہے کہ 7 اکتوبر کو وزارت داخلہ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کو قومی اسمبلی کے 9 اور پنجاب اسمبلی کے 3 حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات 90 روز کے لیے ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔ وزارت داخلہ کی طرف سے لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ 16 اکتوبر کو ان حلقوں میں ضمنی انتخابات ہونے ہیں مگر بااعتماد انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق 12 اور 17 اکتوبر کے درمیان ایک سیاسی جماعت وفاقی دارالحکومت کا محاصرہ کرنا چاہتی ہے جس کے لیے فوجی دستے اور پولیس نفری کو وہاں تعینات کیا گیا ہے۔
خط میں کہا گیا تھا کہ سیلاب کی ہنگامی صورتحال کی وجہ سے پاک فوج اور دیگر ادارے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں لہٰذا ضمنی انتخابات کی تاریخ میں 90 دن کی توسیع کی جائے، سیلاب کی ہنگامی صورتحال کی وجہ سے پاک فوج اور دیگر ادارے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں لہٰذا ضمنی انتخابات کی تاریخ میں 90 دن کی توسیع کی جائے، الیکشن کمیشن نے ملک میں تباہ کن سیلابی صورتحال کے پیش نظر ملک کے مختلف حلقوں اور علاقوں میں ضمنی اور بلدیاتی انتخابات ملتوی کیے ہیں۔
خط کے مطابق
جیسا کہ پاک فوج، فرنٹیئر کور نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور دیگر اداروں کے ہمراہ سیلاب زدہ علاقوں سے پانی کی نکاسی، متاثرین کی امداد و بحالی، محفوظ مقامات تک منتقل کرنے جیسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اس صورتحال میں وفاقی حکومت اور صوبوں نے اپنے تمام وسائل سیلاب زدگان کی بحالی کے لیے بروئے کار لائے ہیں، مذکورہ صورتحال کے پیش نظر پاک فوج اور فرنٹیئر کور کو الیکشن کی سیکیورٹی کے لیے تعینات کرنا مشکل ہوگا جن پر پہلے ہی اضافی کام کا دباؤ ہے۔
یہ بھی واضح رہے کہ8 اکتوبر کوعوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) خیبرپختونخوا کے صدر ایمل ولی خان نے وفاقی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ضمنی انتخابات مزید ملتوی ہوئے تو ان کی جماعت حکومتی اتحاد سے علیحدہ ہو جائے گی،ٹویٹر پر ایمل ولی خان نے کہا تھا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے وفاقی حکومت کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ اگر ضمنی انتخابات مزید ملتوی ہوئے تو وہ انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔
