حکومت آئینی عدالت بنانے کےلیے دیگر متنازعہ شقیں نکالنے پر تیار

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کی اجارہ داری اور سیاست بازی کے خاتمے کےلیے وفاقی آئینی عدالت کے قیام کےلیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اسی لیے حکومت نے اکتوبر کے مہینے میں عدالتی اصلاحات پر مبنی آئینی ترامیم کی منظوری کو ہر صورت یقینی بنانے کےلیے مجوزہ ترمیمی پیکج کی متنازعہ شقوں سے دستبردار ہونے اور سارا فوکس آئینی عدالت کے قیام کی منظوری پر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے وہیں پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت کےلیے مختلف پلانز بھی مرتب کر لیے ہیں۔

روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق ملکی سیاسی منظر نامے میں اکتوبر کا مہینہ اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ حکومت کی جانب سے اگلے مہینے کے وسط تک ایک بار پھر آئینی ترامیم منظور کرانے کی کوشش کی جائے گی تاہم حکام کے مطابق اس بار آئینی ترمیم کی منظوری میں ناکامی کا امکان کم ہے۔ ذرائع کے مطابق آئینی ترامیم کی دوسری کوشش کامیاب بنانے کےلیے بہت سی شقوں سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاکہ جے یو آئی سمیت اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کو اپنے ساتھ ملایا جا سکے۔ تاہم ذرائع کا دعوی ہے کہ اگر مولانا یا دیگر اپوزیشن جماعتوں نے آئینی ترمیم  کی منظوری میں حکومت کا ساتھ نہ بھی دیا تو بھی حکومت ہر صورت اسمبلی میں اپنی نمبر گیم پوری کر کے ترمیم کو دو تہائی اکثریت سے منظور کروا لے گی۔

واضح رہے کہ مجوزہ چھبیسویں آئینی ترمیم کے مسودے کی بہت سی شقیں غیر سرکاری طور پر منظر عام پر آچکی ہیں۔ ان میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی شق سرفہرست ہے۔ اسی طرح ترمیمی پیکج میں سپریم جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نو کی بات بھی کی گئی ہے۔ کمیشن کی سربراہی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے بجائے وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے پاس ہوگی۔ جب کہ ایک اور شق کے مطابق ہائی کورٹ کے ججز کو ملک کے کسی بھی صوبے میں ٹرانسفر کرنے کا اختیار بھی کمیشن کے پاس ہوگا۔ اسی طرح مجوزہ مسودے میں آئین کے آرٹیکل تریسٹھ اے میں بھی ترمیم کی تجویز دی گئی ہے۔ جس کے مطابق پارلیمانی پارٹی کی ہدایت کے برخلاف کسی بھی قانون سازی پر ووٹ دینے والے رکن کا ووٹ گنتی میں شمار کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے انتخاب کا طریقہ کار تبدیل کرنے کی شق بھی شامل ہے۔ جس کے تحت اس عہدے کےلیے تین نام وزیراعظم کو بھیجے جائیں گے جن میں سے وزیر اعظم ایک جج کا نام بطور چیف جسٹس تجویز کرے گا۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے اب دیگر شقوں کو سائیڈ میں رکھ کر سارا فوکس وفاقی آئینی عدالت کے قیام پر کرلیا ہے۔ کیونکہ وفاقی آئینی عدالت کے قیام پر تقریباً تمام اتحادی پارٹیاں تو آمادہ ہیں ہی، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے بھی اس پر نیم رضا مندی کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت سمجھتی ہے کہ اگر پہلے مرحلے میں وفاقی آئینی عدالت کے قیام سمیت چند دیگر آئینی شقوں پر عملدرآمد ہوجاتا ہے تو بہت سے معاملات بہتر ہوسکتے ہیں۔ اس لئے سارا زور وفاقی آئینی کورٹ کےلیے لگایا جارہا ہے۔ جسے نون لیگ کے علاوہ پیپلز پارٹی بھی بھرپور سپورٹ کر رہی ہے۔ مولانا فضل الرحمن کو اس معاملے پر مکمل طور پر آمادہ کرنے کا ٹاسک حکومت نے بلاول بھٹو زرداری کو سونپا ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ بلاول بھٹو اس ٹاسک کو پورا کرلیں گے اور مجوزہ آئینی ترامیم کے مسودے کی جن شقوں پر مولانا کو اعتراض ہے، اسے تسلیم کرکے کم از کم وفاقی آئینی کورٹ سمیت چند دیگر ناگزیر شقوں پر انہیں منالیا جائے گا۔ یہ ہوم ورک مکمل کرنے کے بعد اکتوبر کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں آئینی ترامیم منظور کرانے کی ایک اور کوشش کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق حکومت کے نزدیک آئینی عدالت کے قیام سے سپریم کورٹ کی اجارہ داری ختم ہو جائے گی اور قانون سازی سمیت دیگر آئینی و سیاسی معاملات میں سپریم کورٹ کی رکاوٹ کو دور کیا جاسکے گا۔ آئینی کورٹ کے قیام کے نتیجے میں چیف جسٹس پاکستان کا عہدہ آئینی کورٹ کے سربراہ کو مل جائے گا۔ اس آئینی کورٹ کے چیف جسٹس کی تقرری کا اختیار قومی اسمبلی میں موجود پارٹیوں پر مشتمل آٹھ رکنی پارلیمانی کمیٹی کے پاس ہوگا۔ سب سے اہم بات یہ کہ دفعہ ایک سو چوراسی کے تحت از خود نوٹس کا اختیار بھی سپریم کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی حکومت کو دیدیا جائے گا۔ ملک کے تمام ادارے سپریم کورٹ کے بجائے وفاقی آئینی عدالت کے فیصلوں کے پابند ہوں گے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہر طرح کا آئینی و سیاسی معاملہ وفاقی آئینی عدالت سنے گی۔ سپریم کورٹ صرف فوجداری اور دیوانی مقدمات نمٹائے گی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صرف ایک آئینی عدالت کے قیام سے پورا موجودہ سیاسی منظر نامہ تبدیل ہوسکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق آئینی عدالت بننے کی صورت میں 9 مئی کے حوالے سے عمران خان کا مقدمہ بھی آرمی عدالت میں چلنے کا راستہ ہموار ہوجائے گا۔ یہ معاملہ اس وقت سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ وفاقی آئینی کورٹ بنتا ہے تو یہ مقدمہ بھی اسے منتقل ہوجائے گا۔

راولپنڈی احتجاج : بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجا گرفتار، پی ٹی آئی کا دعویٰ

مبصرین کے مطابق اکتوبر میں آئینی ترامیم کی منظوری کےلیے دوسری کوشش کے سلسلے میں آرٹیکل تریسٹھ اے نظر ثانی کیس بھی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت کو امید ہے کہ نظر ثانی اپیل میں منحرف رکن کے ووٹ کو شمار کرنے کا معاملہ بحال ہوجائے گا۔ اس صورت میں مجوزہ آئینی ترمیم کےلیے حکومت کو دو تہائی اکثریت کی خاطر پی ٹی آئی کے آزاد ارکان کے ووٹ حاصل کرنے میں آسانی ہوجائے گی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بہت سے ارکان اپنی نااہلی کی پروا کیے بغیر حکومتی آئینی ترامیم کےلیے ووٹ دینے پر تیار ہیں۔ تاہم جب تک ووٹ شمار نہ کرنے سے متعلق تریسٹھ اے میں کی جانے والی عدالتی ترمیم موجود ہے، ان کا ووٹ موثر نہیں ہوگا۔

 

 

Back to top button