حکومت تحریک لبیک کے احتجاج پر کنفیوژن کا شکار


تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے اپنے مطالبات کے حق میں پانچ روز سے جاری احتجاج ختم کروانے کے لیے حکومت کی کوشش میں ابھی تک کامیاب نہیں ہو پائیں اور وزیرداخلہ شیخ رشید کے تمام تر دعوے بھی کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں۔ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ حکومت ٹی ایل پی کے حوالے سے دوغلی پالیسی اپنائے ہوئے ہے اور ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر پا رہی کہ اسے اس کالعدم شدت پسند تنظیم کو رعایتیں دے کر پاکستان کے لیے مسائل پیدا کرنے چاہیے یا نہیں؟

پنجاب کے سب سے بڑے شہر لاہور سے اسلام آباد تک مارچ کرنے والی کالعدم تحریک لبیک پاکستان نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے حالیہ بات چیت کے دوران طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد نہیں کر رہی اور مسلسل اپنی زبان سے پھر رہی ہے۔ یاد رہے کہ جمعہ کے روز سے ٹی ایل پی کا مارچ لاہور سے نکلنے کے بعد گوجرانوالہ کے قریب مریدکے میں رکا ہوا ہے۔ پارٹی قائدین کا الزام ہے کہ انہوں نے جی ٹی روڈ کھول دی ہے لیکن حکومت نے کنٹینرز لگا کر اور سڑکوں پرجگہ جگہ خندقیں کھود کر معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے ٹی ایل پی کی مرکزی قیادت سے بات چیت کے بعد ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ سعد رضوی سے انکی بات چیت کامیاب رہی ہے اور تحریک لبیک دو روز میں اپنا احتجاج ختم کر دے گی۔ انہوں نے اعلان کیا تھا کہ حکومت نے ٹی ایل پی کے 350 کارکن رہا کر دیے ہیں اور اب وہ پارٹی کی جانب سے جی ٹی روڈ کھولنے کا عہد پورا ہونے کے منتظر ہیں۔

تاہم ٹی ایل پی کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے جی ٹی روڈ دونوں اطراف سے ٹریفک کے لیے بحال کر دی ہے اور لانگ مارچ کے شرکا سڑک کے کنارے کھڑے ہو کر اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں رہے ہیں۔ لیکن ان کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے اچانک جی ٹی روڑ کے دونوں اطراف کنٹینرز لگا کر دوبارہ جی ٹی روڑ بلاک کر دی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت معاہدے پر عمل نہ کرنے کی نیت رکھتی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت نے جی ٹی روڈ بند کرکے الزام تحریک لبیک پر ڈال دیا ہے جو کہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

تحریک لبیک کے ایک ترجمان کے مطابق اپنے مطالبات کی منظوری تک ٹی ایل پی کے کارکن واپس نہیں جائیں گے۔ انکا کہنا تھا کہ اگر حکومت کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو لانگ مارچ اسلام آباد کی طرف سفر کرے گا۔ اس سے پہلے پولیس اور رینجرز نے مارچ کو روکنے کی کوشش کی تھی جس دوران جھڑپوں میں دو پولیس اہلکار اور ٹی ایل پی کے دو کارکن ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم حکومت کی جانب سے پولیس والوں کی ہلاکت کا مقدمہ ابھی تک دائر نہیں کیا گیا۔ یاد رہے کی تحریک لبیک کا مارچ لاہور میں رکاوٹیں عبور کرتا ہوا ہفتے کی شام مرید کے پہنچا تھا اور تب سے وہیں پر موجود ہے۔

دوسری جانب وزیرِ داخلہ شیخ رشید کا تحریکِ لبیک سے متعلق بیان موضوع بحث بنا ہوا ہے جس میں اُن کا کہنا تھا کہ حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی یقینی بنانے کے لیے سپریم کورٹ سے رُجوع نہیں کیا اور وہ اب بھی الیکشن میں حصہ لے رہی ہے۔ شیخ رشید احمد کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب پیغمبرِ اسلام کی خاکوں کے اشاعت کے معاملے پر فرانسیسی سفیر کی بے دخلی اور ٹی ایل پی کے امیر سعد رضوی کی رہائی کے لیے تحریک کے کارکنوں نے مریدکے میں دھرنا دے رکھا ہے اور وہ اسلام آباد کی جانب مارچ کرنا چاہتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹی ایل پی کے معاملے پر پاکستانی ریاست اب بھی کنفیوژن کا شکار ہے اور یہی وجہ ہے کہ رواں برس اپریل میں کابینہ کی منظوری کے باوجود ٹی ایل پی پر تاحال پابندی عائد نہیں کی جا سکی۔پاکستان کی حکومت ٹی ایل پی کے بارے میں مختلف اوقات میں مختلف رویے کیوں اختیار کرتی ہے؟ اس بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہا کہ ٹی ایل پی کے حوالے سے ریاست کی کوئی مؤثر پالیسی نہیں ہے۔ ایک طرف ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے چکر میں کہا جاتا ہے کہ ریاست کے خلاف اٹھنے والی شدت پسند آوازوں سے سختی سے نمٹا جائے گا اور انہیں کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ لیکن دوسری طرف جب وہ اپنی طاقت دکھاتے ہیں تو ان سے مذاکرات شروع ہو جاتے ہیں۔ تجزیہ کار یاد دلواتے ہیں کہ اسی تحریک لبیک کے خلاف پہلے حکومت نے ہی دہشت گردی کے مقدمے درج کروائے، اسے کالعدم قرار دیا لیکن اب جب لبیک والے ایک مرتبہ پھر اپنی طاقت دکھاتے ہوئے سڑکوں پر موجود ہیں تو ان سے بات چیت کر کے انہیں رعایتیں دی جا رہی ہیں اور پولیس والوں کے قتل جیسے سنگین مقدمات واپس ہو رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ فرانس کے سفیر کو ملک سے نکالنے کا معاملہ تحریک لبیک ایک ٹول کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ اس وقت ٹی ایل پی کے تین مطالبات ہیں کہ فرانسیسی سفیر کو پاکستان سے بے دخل کیا جائے، سعد رضوی کو رہا کیا جائے اور ٹی ایل پی کارکنان کے خلاف درج کیسز ختم کیے جائیں۔ تاہم انکا کہنا ہے کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف میں پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے اور تحریک لبیک کے مطالبات ماننے سے پاکستان کو مزید مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب شیخ رشید کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم عمران خان کی ہدایت پر ٹی ایل پی کے زیرِ انتظام مدارس کے منجمد اکاؤنٹس کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سعد رضوی کی رہائی کا معاملہ کابینہ میں لے جایا جا رہا ہے جب کہ فرانسیسی سفیر کی بے دخلی کا معاملہ وفاقی کابینہ میں زیرِ بحث آئے گا۔

Back to top button