حکومت عیاری سے اپنی نا لائقیوں کا بوجھ قومی اداروں پر ڈال رہی ہے

مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا ہےکہ حکومت بڑی چالاکی اور عیاری سے اپنی نا لائقیوں کا بوجھ قومی اداروں پر ڈال رہی ہے۔ عمران خان بڑی کامیابی سے خود کو دوسروں کے پیچھے چھپارہے ہیں، حکومت اپنی ذمہ داری دوسرے اداروں پر ڈال دیتی ہےاور کہتے ہیں فوج اور حکومت ایک پیج پر ہیں۔
اسلام آباد کی احتساب عدالت میں سابق وفاقی وزیر احسن اقبال کے خلاف نارووال اسپورٹس سٹی پراجیکٹ کے کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں نیب حکام نے احسن اقبال کو جوڈیشل ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت میں پیش کیا۔
دورانِ سماعت احسن اقبال نے عدالت میں کہاکہ نیب سے پوچھیں کہ سعودی عرب کو باہمی قانونی معاونت کے تحت جو خط لکھا تھا اس کا کیا بنا؟ کتنے ملین ریال ریکور کیے گئے؟ نیب سے میری بینکنگ ٹرانزیکشنز کی تفصیل معلوم کریں، کیا وہ تمام ٹرانزیکشنز جائیداد کی فروخت سےحاصل ہونے والی رقم سےمتعلق نہیں؟ اس پر نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ باہمی قانونی معاونت کا معاملہ ابھی پراسیس میں ہے، ریفرنس دائر کریں گے جس میں تمام تفصیل ہو گی۔ لیگی رہنما نے کہا کہ نیب 20 ماہ سے یہ معاملہ انویسٹی گیٹ کررہا ہے اور ابھی تک ریفرنس بھی دائر نہیں کیا، نیب سے پوچھیں کہ ریفرنس کب تک آجائے گا، اس پر نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ 90 دن کے اندر دائر کردیں گے۔ نیب کے مؤقف پر احسن اقبال کے وکیل بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا کہ 90 روز کی مدت ریمانڈ کےلیے ہے،ریفرنس دائر کرنے کے لیے نہیں۔
بعد ازاں احسن اقبال کے وکیل اور نیب پراسیکیوٹر کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے لیگی رہنما کے جوڈیشل ریمانڈ میں 28 فروری تک توسیع کردی۔
عدالت میں پیشی کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس آمد پر احسن اقبال نے میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب سے یہ حکومت اقتدار میں آئی ہر پاکستانی کی گردن پر ایک لاکھ 60 ہزار کا قرض ہے، 72 سالوں میں جو قرض ایک پاکستانی پر ایک لاکھ 20 ہزار روپے تھا، ایک سال میں 40 ہزار کا قرض ایک پاکستانی پر بڑھا۔ انہوں نے کہا کہ جو پہلے سے جاری منصوبے ہیں یہ حکومت ان کو بھی مکمل نہیں کر سکی، یہ پاکستان کو معاشی طور پر دیوالیہ کرنے آئے ہیں۔ سابق وزیر نے الزام لگایاکہ سب سے بڑا مافیا عمران خان خود ہے، انہیں فارن فنڈنگ کے تحت مسلط کیا گیا ہے، پاکستان کی معیشت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے، عمران خان کو لانے والے اسپانسرز کا ایجنڈا کمزور معیشت سے ایٹمی قوت پر سمجھوتا کرنے پر مجبور کرنا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف کی صحت پر ڈاکٹرز نے اہم فیصلے لیے ہیں، مریم نواز کو معالجین سے مشاورت کے لیے وہاں ہونا چاہیے مگر انہیں جانے نہیں دیا جارہا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نواز شریف کی صحت میں بہتری آتے ہی وہ وطن واپس آئیں گے، شہباز شریف بھی چاہتے ہیں کہ صحت یاب ہوتے ہی ملک میں واپس آ کر وہ اپوزیشن کا کردار نبھائیں۔
حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیا فوج کہتی ہے نالائقی کرو معیشت نہ چلاو گورننس نہ کرو، حکومت بڑی چالاکی اور عیاری سے اپنی نا لائقیوں کا بوجھ قومی اداروں پر ڈال رہی ہے۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ عمران خان بڑی کامیابی سے خود کو دوسروں کے پیچھے چھپارہے ہیں، حکومت اپنی ذمہ داری دوسرے اداروں پر ڈال دیتی ہے، یہ کہتے ہیں فوج اور حکومت ایک پیج پر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپنی نالائقیوں کا بوجھ قومی اداروں پر ڈال کر چھپننے کی کوشش کرنا ملک کے ساتھ زیادتی ہے، حکومت اداروں کے پیچھے چھپ کر ان کی غیر متنازع حیثیت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما کا کہنا تھا کہ اداروں کو معیشت کے معاملات سے دور رہنا چاہئیے تاکہ ان پر انگلی نہ اٹھے، حکومت اپنی نااہلی کو تسلیم کرے اور حکومتی حلیف اپنی ذمہ داریاں کو محسوس کریں۔
خیال رہے کہ 23 دسمبر، 2019 کو قومی احتساب بیورو نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما احسن اقبال کو نارووال کے اسپورٹس سٹی منصوبے میں مبینہ بدعنوانیوں سے متعلق کیس میں گرفتار کیا تھا۔ نیب کے اعلامیے میں بتایا گیا تھا کہ نیب راولپنڈی نے نارووال اسپورٹس سٹی کمپلیکس اسکینڈل میں رکن قومی اسمبلی احسن اقبال کو گرفتار کیا۔ واضح رہے کہ احسن اقبال پر نارووال اسپورٹس سٹی منصوبے کے لیے وفاقی حکومت اور پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) کے فنڈز استعمال کرنے کا الزام ہے۔
احسن اقبال 5 مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے سابق دور میں وہ وزیر منصوبہ بندی اور بعد ازاں وزیر داخلہ رہے تھے۔
