نیازی حکومت کی نااہلی کی قیمت آنے والی نسلوں کوادا کرنی پڑے گی

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے ٹیکس وصولی ہدف میں کمی کی بھیک معاشی تباہی کا اعلان ہے.ملکی تاریخ کا سب سے بڑا 9.5 فیصد کا متوقع خسارہ قوم اور ملک کے لئے بربادی کا سامان اور بری خبر ہے، معاشی خسارہ چیخ چیخ کر خبردار کر رہا ہے کہ اندرونی و بیرونی قرض اور مہنگائی کا خوفناک طوفان آرہا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے چینی بحران اور قیمت میں اضافے کا ذمہ دار حکومت کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرپٹ اور مفاد پرست ٹولے نے پہلے چینی برآمد کی، اب درآمد کر رہا ہے۔ شہباز شریف نے الزام عائد کیا کہ پہلے چینی برآمد کرکے قوم کا حق مارا گیا اور اب درآمد کرکے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ عمران خان کی سرپرستی میں بااثر حکومتی شخصیات چینی کے اربوں روپے کے خوفناک سکینڈل میں ملوث ہیں۔ اپوزیشن لیڈر نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کے قریبی دوستوں کی چینی ملوں کا سٹاک چیک کرایا جائے۔ حکومت قوم کو بتائے کہ کس کس کی مل نے کتنی چینی باہر بیچی؟ قوم کو بتایا جائے کہ حکومت میں شامل بااثر افراد نے کتنی چینی بیرون ملک فروخت کی اور اس پر کتنا منافع کمایا؟ ان کا کہنا تھا کہ شریف خاندان کی ملکیت چودھری شوگر اور رمضان شوگر مل کا ڈیٹا بھی نکلوایا جائے جبکہ حکومتی وزرا اور دوستوں کی ملوں میں چینی کے ذخیرے کی تفصیل سامنے لائی جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ملک میں گنے کی پیداوار 20 فیصد کم ہوئی تو چینی کی برآمد کی اجازت کیوں دی گئی؟ حکومت بتائے کہ بیرون ملک چینی برآمد کرنے والے نمبر ایک، نمبر دو اور نمبر تین پر کون سی حکومتی شخصیات ہیں؟ لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ اس سارے معاملے میں حکومت چور نہیں تو پارلیمانی کمیٹی کیوں نہیں بناتی تا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔ پارلیمانی کمیٹی تحقیقات کرے کہ چینی کی برآمد، ذخیرہ اندوزی اور قیمت بڑھا کر کس نے ڈاکا ڈالا؟
اپوزیشن لیڈر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں شہباز شریف کا کہنا ہے کہ معاشی سرگرمیوں کے جمود نے لاکھوں چولہے بند کرتے ہوئےعوام کو غربت کے جہنم میں دھکیل دیا ہے۔ انہوں نے کہا آٹے اور گندم کا بحران نیچے سے نہیں اوپر سے پیدا کیا گیا، عمران خان کے حواری غریبوں کی جیب صاف کرچکے ہیں، 18 ماہ میں 11000 ارب قرض لے کر ریکارڈ قائم کرنے والے قوم کے مجرم ہیں۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے ٹیکس وصولیوں کے اہداف میں کمی کی حکومتی درخواست پر کہا کہ آئی ایم ایف سے 800 ارب ٹیکس وصولی کے ہدف میں کمی کی بھیک معاشی تباہی کا اعلان ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں آئی ایم ایف کے جائزہ مشن سے مذاکرات میں ایف بی آر نے ٹیکس اہداف میں کمی کا مطالبہ کیا تھا لیکن 4 فروری کو ہونے والے مذاکرات میں ایف بی آر کی ٹیم آئی ایم ایف کے وفد کو قائل کرنے میں ناکام رہی۔ اس حوالے سے اپنے ردعمل میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے 800 ارب روپے ٹیکس وصولی کے ہدف میں کمی کی بھیک معاشی تباہی کا اعلان ہے اور ملکی تاریخ کا سب سے بڑا 9.5 فیصد کا متوقع خسارہ ملک کے لیے بربادی کا سامان ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرپٹ اور نالائق ٹولے کا کیا دھرا ہے کہ ملک وقوم اس بدقسمت صورتحال سے دوچار ہے، معاشی خسارہ خبردار کررہا ہے کہ اندرونی وبیرونی قرض اور مہنگائی کا خوفناک طوفان آرہا ہے۔ بے حسی و سفاکی ہے کہ حکومت نے ترقیاتی بجٹ اور انکم سپورٹ پر کلہاڑا چلادیا. انہوں نے کہا کہ نیازی حکومت کی نااہلی اور کرپشن کی قیمت آنے والی نسلوں کو کئی دہائیوں تک ادا کرنی پڑے گی۔
خیال رہے کہ ملک میں مہنگائی کا جن بے قابو ہوگیا ہے اور رواں سال کے پہلے مہینے میں مہنگائی کی شرح 14.6 فیصد رہی جو کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت میں سب سے زیادہ ہے۔ ادارہ شماریات پاکستان کی ماہانہ رپورٹ کے مطابق دسمبر 2019 میں مہنگائی کی شرح 12.6 فیصد تھی جو جنوری 2020 میں بڑھ کر 14 اعشاریہ 6 فیصد ہو گئی جب کہ جنوری 2019 میں یہ شرح 5.6 فیصد تھی۔ دوسری جانب گزشتہ روز قومی اسمبلی میں جمع کرائی گئی دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ موجودہ حکومت جولائی تک مزید 1900 ارب روپے کا قرض لے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button