حکومت نے سوشل میڈیا پرزبان بندی کا فیصلہ کیوں کیا؟

وفاقی کابینہ کی جانب سے ملکی سائبر سکیورٹی سے متعلق دو مجوزہ قوانین کے مسودوں کی منظوری کو کڑی تنقید کا سامنا ہے۔وفاقی کابینہ کی طرف سے منظور کیے جانے والے پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل 2023 اور ای سیفٹی بل 2023 پر ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے کارکنوں نے نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور انہیں سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر رہی سہی آزادی کو سلب کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ناقدین کے مطابق حکومت نئے بلوں کے متن کو تقریباً مخفی رکھ کر اظہار رائے کی آزادی پر سخت ترین قدغنیں لگانے کے درپے ہے جبکہ حکومت اس مجوزہ قانون سازی کو ملکی سائبر سکیورٹی کے لیے ناگزیر قرار دے رہی ہے۔

خیال رہے کہ بلوں کی منظوری کے موقع پر حکومت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی سوشل میڈیا اور آن لائن میڈیا سائٹس کو جانچنے اور ریگولیٹ کرنے میں ناکام ہو گئی ہیں۔خیال کیا جاتا ہے کہ ای سیفٹی بل کے ذریعےڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز کو سخت ریگولیشن میں لایا جائے گا اور اس حوالے سے متعلقہ قوانین کے خلاف ورزی سے نمٹنے کے لیے ایک دوسری ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جائے گی۔ اس بل کے ذریعے ویب ٹی وی چینلز یا آن لائن نیوز ویب سائٹس کو آسانی سے قابو کیا جا سکے گا۔

پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل کے ذریعے افراد کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا اور اس کے تحت نیشنل کمیشن فار پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بنایا جائے گا۔ ناقدین کے خیال میں ان دونوں بلوں سے نہ صرف اظہار رائے کی آزادی متاثر ہوگی بلکہ بھانت بھانت کی اتھارٹیاں قائم کرنے سے ابہام بھی پیدا ہوگا تاہم حکومت بضد ہے کہ یہ دونوں بل عوام کے وسیع تر مفاد میں لائے گئے ہیں۔ اس ضمن میں وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی سید امین الحق نے ڈی ڈبلیو کوبھجوائے گئے اپنے ایک تحریری بیان میں کہا کہ پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل کے تحت حکومت، مختلف ادارے اور کمپنیاں صارفین کے ڈیٹاکے تحفظ کو یقینی بنانے کی پابند ہوں گی۔وفاقی وزیر کے مطابق ان مجاز حکام کی اجازت کے بغیر کسی بھی کمپنی، فرد یا حکومتی ادارے کوصارف کا ڈیٹا نہیں دیا جا سکے گا۔ ان کا کہنا تھا، ”اگر کسی صارف کا ڈیٹا اس کی اجازت کے بغیر کسی تیسرے فریق کو مہیا کیا گیا تو اس سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے نیشنل کمیشن فار پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن موجود ہو گا، جہاں وہ شکایت کر سکے گا۔ کمیشن کی حیثیت دیوانی عدالت جیسی ہوگی۔‘‘سید امین الحق کے اس بیان میں کہا گیا ہے کہ اب یہ مجوزہ بل وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد وفاقی کابینہ کی قانون سازی سے متعلق کمیٹی کو بھجوایا جائے گا، جہاں سے منظوری کے بعد اسے دوبارہ کابینہ میں پیش کیا جائے گا اور کابینہ کی حتمی منظوری کے بعد پارلیمنٹ میں پیش کردیا جائے گا۔ اور وہاں سے منظوری کے بعد یہ بل فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔

دوسری طرف اس قانون سازی کے مخالفین کا موقف ہے کہ حکومت سوشل میڈیا پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہے جبکہ اس بل کو متعارف کیے جانے کے حوالے سے ڈیجیٹل حقوق کی پاسداری کرنے والے کارکنان کے تحفظات بھی ہیں۔ایک ڈیجیٹل رائٹس ایکٹیوسٹ فریحہ عزیز کا کہنا ہے کہ جمہوری ممالک میں اس طرح کی قانون سازی کے گرد کوئی رازداری نہیں ہوتی۔ انہوں نے بتایا، ” لیکن ان بلوں کے حوالے سے تو تقریباﹰ مکمل ہی رازداری رہی ہے۔ تھوڑے بہت معاملات میں اگر مشاورت بھی کی گئی تو یہ نہیں بتایا گیا کہ مشاورت کے ذریعے تجویز کیے گئے نکات کو اس بل کا حصہ بنایا گیا ہے یا نہیں ۔‘‘فریحہ عزیز کا دعویٰ تھا کہ ان بلوں کے ذریعے حکومت سوشل میڈیا اور دوسرے پلیٹ فارم پر مزید کنٹرول حاصل کر لے گی اور جو چیز سرکار کو پسند نہیں آئے گی اس پر بولا نہیں جا سکے گا اور نہ ہی تنقید کی جا سکے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کا کہنا تھا کہ حکومت جب بھی اس طرح کی قوانین لے کر آتی ہے تو انہیں خوبصورت لفظوں میں بیان کیا جاتا ہے۔ ”پیکا آرڈیننس لاتے وقت بھی انہوں نے یہ بہانہ کیا تھا کہ اس سے ہراسمنٹ اور اشتعال انگیز تقریر کو روکا جائے گا لیکن یہ سب کے سامنے ہے کہ پیکا قوانین کو کن مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔‘‘انہوں نے تجویز دی کے بار بار کی قانون سازی اور اتھارٹیاں بنانے کے بجائے حکومت کو سنجیدگی سے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشورہ کرنا چاہیے اور ایک ہی وقت میں ایک موثر قانون لے کر آنا چاہیے،س جو جمہوری روایات کا عکاس ہو۔ ناقدین کا مزید کہنا ہے کہ ان بلوں کو عوام کی انٹرنیٹ تک رسائی محدود کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور خصوصاﹰ جب حکومت ایسا سیاسی بنیادوں پر کرے۔‘‘سرکار کسی بھی ڈیجیٹل مواد کو حساس یا نقصان دے قرار دے سکتی ہے۔ ” ان بلوں کو اظہار ازادی اظہار رائے پر قدغن لگانے کے لیے استعمال کیا جائے گا اور سوشل میڈیا پر زیادہ سے زیادہ مواد سینسرشپ کی زمرے میں آ جائے گا، جس چیز کو حکومت نقصان دہ یا حساس سمجھے گی، اسے روک لیا جائے گا یا ہٹا دیا جائے گا۔‘‘

Back to top button