ارب پتی سیٹھ تنخوادار طبقے سے دگنا کم ٹیکس کیوں دیتے ہیں؟

سینئر صحافی اور کالم نگار محممد حنیف نے کہا ہے کہ ٹیکس دینا رعایا کا کام ہے اور وہ ٹیکس ریاست مزدور کی جیب سے نکال بھی لیتی ہے۔ پاکستان کا تنخواہ دار طبقہ سارے سیٹھوں اور تاجروں سے مل کر دوگنا ٹیکس دیتا ہے۔ ان سیٹھوں میں ٹیکسٹائل کے ایکسپورٹر بھی شامل ہیں، جن کی دہائی آپ فرنٹ پیج اشتہار میں ہمیشہ پڑھتے رہتے ہوں گے کہ ہم لُٹ گئے یا بس لُٹا ہی چاہتے ہیں جب تک ہم اپنے سرمایہ داروں کو شہزادہ بنا کر رکھیں گے کوئی ترغیب کام نہیں آئے گی۔ اپنے ایک کالم میں محمد حنیف لکھتے ہیں کہ اس وقت پاکستان میں 26 ہزار سے زیادہ شہزادے ایسے ہیں جن کے پاس ایک ملین ڈالر سے زیادہ پیسے ہیں اور سوال یہ ہے کہ ان میں سے کتنے ٹیکس دیتے ہیں؟ پاکستان میں فارن کرنسی کے کاروبار کرنے والوں کے اعدادوشمار کے مطابق یہ پاکستانی شہزادے سال میں چار ارب صرف اپنے کریڈٹ کارڈ کے بل کے طور پر دیتے ہیں۔ میرا جیسا معیشت سے نابلد شخص بھی یہ رقم دیکھ کر چونک جاتا ہے اور پوچھتا ہے کہ کیا ہم نے آئی ایم ایف سے تین ارب ڈالر لینے کے لیے پورا سال اپنی جگ ہنسائی نہیں کروائی۔ ہماری اتنی بڑی معیشیت کہ ہم ایک ہاتھ سے کریڈٹ کارڈ گھما کر چار ارب ڈالر خرچ کر دیں اور دوسرا ہاتھ تین ارب ڈالر کے لیے صبح شام پھیلائے رکھیں؟کیا ہمارے گلشن کا کاروبار صرف اتنی چھوٹی سی رقم کا محتاج ہے؟ ان تین ارب ڈالر سے بھی ہمارا گزارا نہیں ہوگا، اس سے ہم صرف اپنا پرانا سود چکائیں گے اور پھر نئے قرضے لیں گے اور شاید ہماری ساکھ تھوڑی بہتر ہو، کہ ہو سکتا ہے ہم لگتے دیوالیہ ہیں لیکن ہیں نہیں۔
محمد حنیف کہتے ہیں کہ پاکستان کے تنخواہ دار طبقے سے دگنا کم ٹیکس دینے والے ان سیٹھوں اور تاجروں میں ٹیکسٹائل کے ایکسپورٹر بھی شامل ہیں، جن کی دہائی آپ فرنٹ پیج اشتہار میں ہمیشہ پڑھتے رہتے ہوں گے کہ ہم لُٹ گئے یا بس لُٹا ہی چاہتے ہیں جم خانہ وغیرہ کلبوں کی زمین کا بھی تذکرہ ہوتا ہے، جو تقریباً مفت میں دستیاب ہے تاکہ ہمارے شہزادے اور ان کے حواری سارا دن ٹیکس بچانے کی محنت کرنے کے بعد شام کو گالف کھیل سکیں اور یاروں دوستوں سے گپ لگا سکیں، جس کا موضوع یہی ہوتا ہے کہ یار یہ ملک جا کدھر رہا ہے۔ ہر حکومت کوئی نہ کوئی ایمنسٹی سکیم جاری کرتی رہی ہے کہ ہمیں کچھ تھوڑا سا ٹیکس دے دو گے تو ہم نہیں پوچھیں گے کہ آپ کے پاس آخر سرمایہ ہے کتنا اور کہاں سے آیا ہے۔ ان سکیموں کے نتیجے میں سرکار کے خزانے میں کچھ آیا ہو نہ ہو ہمارے شہزادوں کے کریڈٹ کارڈ کچھ تیزی سے گھومتے رہے ہیں۔
بادشاہت کی اور شہزادہ ہونے کی پہلی شرط یہی ہے کہ آپ ٹیکس نہیں دیتے۔ جن ملکوں میں براہ راست بادشاہت ہے وہاں بھی شاہی خاندان ٹیکس نہیں دیتا۔ خلیجی ممالک میں ان گنت شہزادے ہیں، ٹیکس نہیں دیتے۔ ملکہ الزبتھ بھی ٹیکس نہیں دیتی تھی۔ اس کا بادشاہ بیٹا بھی ٹیکس نہیں دیتا۔ اگر بادشاہ ہو کر، شہزادے بن کر ٹیکس دینا پڑے تو پھر ایسی بادشاہت کا کیا فائدہ۔ ٹیکس دینا رعایا کا کام ہے اور وہ ٹیکس ریاست مزدور کی جیب سے نکال بھی لیتی ہے۔ جب تک ہم اپنے سرمایہ داروں کو شہزادہ بنا کر رکھیں گے کوئی ترغیب کام نہیں آئے گی۔ ان کا ایک ہاتھ کریڈٹ کام گھماتا رہے گا اور دوسرا سرکاری خزانے سے اپنا خرچ وصول کرتا رہے گا۔
