حکومت نے مرزا آفریدی کو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا امیدوار نامزد کر دیا

وزیر اعظم عمران خان نے قبائلی علاقے سابق فاٹا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مرزا محمد خان آفریدی کو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے عہدے کےلیے اُمیدوار نامزد کردیا۔
وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں بتایا کہ سابق فاٹا کو نمائندگی دینے کےلیے پی ٹی آئی رکن مرزا محمد خان آفریدی کو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔ قبل ازیں ڈان اخبار کی رپورٹ میں وزیراعظم کے قریبی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے عہدے پر حکمران جماعت کےلیے امیدوار کےلیے 4 ناموں پر غور کیا جارہا ہے۔ جن افراد کے ناموں پر غور کیا جارہا تھا ان میں سیف اللہ نیازی، اعجاز چوہدری، مرزا آفریدی اور عون عباس شامل تھے اور کہا گیا تھا کہ نامزد فرد کے نام کا اعلان پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے 12 مارچ کو ہونے والے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی جانب سے 26 مارچ کو دھرنے پر بات چیت کےلیے کور کمیٹی کا اجلاس بلایا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ‘حکومت نے ارادتاً ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے امیدوار کی جگہ خالی رکھی تا کہ نہ صرف حکومت کی اتحادی جماعتوں بلکہ اس معاملے پر بارگیننگ کےلیے اپوزیشن جماعتوں کو بھی راغب کیا جاسکے۔ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب حکومت کےلیے خاصہ مشکل لگ رہا ہے کیوں کہ ایوانِ بالا میں اپوزیشن اراکین کو اکثریت حاصل ہے۔ چنانچہ 12 مارچ کو حکومت کےلیے یہ انتخاب جیتنا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کچھ اپوزیشن اراکین حکومت کو ووٹ نہ دیں یا خفیہ بیلٹ کے دوران اپنے ووٹ ضائع نہ کردیں۔ اس وقت ایوانِ بالا میں 99 اراکین موجود ہیں ان میں مسلم لیگ (ن) کے خودساختہ جلاوطنی اختیار کرنے والے رہنما اسحٰق ڈار شامل نہیں جنہوں نے اپنی نشست کا حلف بھی نہیں اٹھایا تھا۔ ان 99 اراکین میں 47 کا تعلق حکمران اتحاد جب کہ 52 کا اپوزیشن جماعتوں سے اور اگر جماعت اسلامی کے واحد سینیٹر گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی میں انتخاب کی طرح ووٹ ڈالنے نہیں آئے تو اس وقت بھی اپوزیشن کے پاس 4 ووٹوں کی برتری ہوگی۔ تاہم 3 سال قبل جب اپوزیشن کے پاس حکمراں اتحاد سے 26 نشستیں زیادہ تھیں اس وقت بھی صادق سنجرانی نہ صرف چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے بلکہ جب اپوزیشن نے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لا کر انہیں ہٹانا چاہا اس وقت بھی وہ اپنا عہدہ بچانے میں کامیاب رہے تھے۔
خیال رہے کہ سینیٹ الیکشن ایوان کے نصف اراکین کے انتخاب کےلیے ہر 3 سال بعد ہوتے ہیں، ہر رکن کی مدت 6 سال ہے جب کہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو 3 سال کےلیے چنا جاتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کے عہدے کےلیے پاکستان پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی جب کہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کےلیے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مولانا عبدالغفور حیدری کو نامزد کیا گیا ہے۔ رواں ماہ 3 مارچ کو اپوزیشن کے متفقہ امیدوار یوسف رضا گیلانی نے حکومتی امیدوار عبدالحفیظ شیخ کو سینیٹ انتخابات میں اسلام آباد کی نشست پر شکست دے دی تھی۔
