وزیر اعظم عمران خان نے نئے انتخابات کا اشارہ دے دیا

وزیر اعظم عمران خان نے لانگ مارچ کا دباؤ قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے نئے انتخابات کا اشارہ دے دیا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں نئے انتخابات سمیت تمام آپشنز مدنظر رکھنا پڑیں گے۔
وزیر اعظم کی زیر صدارت تحریک انصاف کی کورکمیٹی اجلاس ہوا جس میں موجودہ سیاسی صورت حال، سینیٹ انتخابات اور پارٹی تنظیمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعظم نے موجودہ سیاسی صورتحال کے پیش نطر حکومتی رہنماوں کو متحرک رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ یاد رکھیں ہم اقتدار کے لیے نہیں، نظام کی تبدیلی کے لیے آئے ہیں، ہم ملک کو لوٹنے والوں کے ساتھ سمجھوتہ کرکے نہیں چل سکتے۔
وزیراعظم نے کہا ہمیں نئے انتخابات سمیت تمام آپشنز مدنظر رکھنا پڑیں گے، ہمیں عوامی حمایت حاصل ہے کسی بھی میدان میں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اجلاس میں اپوزیشن کے لانگ مارچ کے پیش نظر حکومتی حکمت عملی پر بھی مشاورت کی گئی ۔
وزیراعظم نے کہا پی ڈی ایم لانگ مارچ کا مقصد عوامی مفاد نہیں این آراو حاصل کرنا ہے۔ نہ پہلے دباو قبول کیا اور نہ آئندہ کسی دباو میں آوں گا، اپوزیشن احتجاج کی سیاست کے ذریعے ملک میں افراتفری پیدا کرنا چاہتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈھائی سال میں بہت محنت اور مشکل سے معیشت کوسنبھالا ہے، میں میدان چھوڑ کر بھاگنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ ملک میں پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کریں۔
اجلاس میں عامر کیانی اور سیف اللہ نیازی نے ملک بھر میں پارٹی تنظیمی امور پر بریفنگ دی ۔ کور کمیٹی نے وفاق اور صوبوں میں گورنننس پر تحفظات کا اظہار کیا اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا۔
قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سینیٹ انتخابات سے ظاہر ہوگیا کہ ہم اخلاقی تنزلی کا شکار ہورہے ہیں۔اپنی ٹوئٹ میں وزیر اعظم نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا کہ تم سے پہلے بہت سی اقوام اس لئے تباہ ہوئیں کیوں کہ ان میں طاقتور کے لیے الگ اور کمزور کے لیے الگ قانون تھا، تاریخ گواہ ہے کہ اخلاقی گراوٹ اوربدعنوانی نے ریاستوں کوتباہ کردیا،اخلاقی اقدارکے بغیر ریاستیں انصاف فراہم نہیں کرسکتیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ انصاف اور قانون کی حکمرانی کے بغیر ریاستیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہیں، ریاستیں اخلاقی اقدار کھو دیں تو طاقتورمجرموں کے ساتھ این آر او جیسے معاہدوں کا سہارا لیا جاتا ہے، سینیٹ انتخابات سے ظاہر ہوا کہ ہم اخلاقی تنزلی کا شکار ہورہے ہیں۔
علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے نومنتخب سینیٹرز کے اعزاز میں دیے گئے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سے پہلے ڈھائی سال پارلیمنٹ میں اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے قانون سازی میں مشکلات پیش آئیں، امید ہے سینیٹ میں اکثریت کے بعد ہمارے لیے قانون سازی آسان ہوگی، پرانے نظام کی تبدیلی بغیر قانون سازی کے ممکن نہیں، اگلے دو سال میں ہماری پوری توجہ عوامی مفاد کی قانون سازی پر ہوگی۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہماری ترجیحات عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے، مہنگائی سمیت تمام مسائل سے آگاہ ہوں، ہم نے معیشت کو ٹریک پر کھڑا کر دیا، معیشت کا ڈھانچہ ٹھیک نہ ہو تو وقتی ریلیف کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا، ہم ملک کو ایسا نظام دینا چاہتے ہیں جو دیرپا اور نتیجہ خیز ہو، مگر ایک پرانے نظام کو ختم کرکے نیا سسٹم لانے میں وقت لگتا ہے۔
عمران خان نے سینیٹرز سے گفتگو میں ووٹ ڈالنے کے طریقہ پر زور دیتے ہوئے مزید کہا کہ اتحادیوں کے تحفظات سے آگاہ ہوں، انہیں مایوس نہیں کریں گے، اب بھی ہمارے سینیٹرز کے ساتھ رابطے کیے جارہے ہیں، ہم نے نظام کو شفاف بنانا ہے تاکہ کرپشن کی گنجائش نہ ہو، انشاءاللہ ایوان بالا میں ہم کامیاب ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button