حکومت پارلیمنٹ اجلاس میں تمام بلز کی منظوری کیلئے پراعتماد

اتحادی جماعتوں کی حمایت کی یقین دہانیوں کے بعد حکومت صرف دو ووٹ زیادہ ہونے کے باوجود آج پارلیمنٹ کے متوقع مشترکہ اجلاس میں اپنے تمام بلوں کی منظوری کے لیے پراعتماد دکھائی دیتی ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے باضابطہ طور پر پارلیمان کا مشترکہ جلاس بدھ کی دوپہر بلایا جس میں انتخابی اصلاحات کے بل سمیت دو درجن سے زائد اہم بلوں پر غور کیا جائے گا جو سینیٹ سے یا تو ختم ہو چکے ہیں یا مسترد ہوچکے ہیں۔گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی میں بلوں کی منظوری کے لیے دو تحاریک پر ووٹنگ کے دوران حکومت کو دو بار شکست دینے والے اپوزیشن ارکان اس بار کم پرجوش اور مایوس دکھائی دے رہے ہیں۔

اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے کہ اتحادیوں کے تحفظات کی وجہ سے بلوں کو مشترکہ اجلاس سے منظور کرانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، حکومت نے قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کے ذریعے اپوزیشن کو مشغول کیا تاکہ ووٹ کے لیے اپنے اتحادیوں کو سنبھالنے اور انہیں راضی کرنے کے لیے کچھ وقت مل سکے۔

خیال رہے کہ حکومت نے اس سے قبل اپنے اتحادیوں، بالخصوص مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم کی جانب سے الیکٹرونک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے استعمال سے متعلق مجوزہ انتخابی اصلاحات کے بل پر تحفظات کا اظہار کرنے کے بعد مشترکہ اجلاس ملتوی کردیا تھا۔پارلیمنٹ میں پارٹی پوزیشن ظاہر کرتی ہے کہ اگر دونوں ایوانوں کو ایک ساتھ ملایا جائے تو حکومت میں صرف دو ووٹوں کی اکثریت ہے۔

پارلیمنٹ نے انتخابات ترمیمی بل 2021 پر تحریک کثرت رائے سے منظور کر لی ، تحریک کے حق میں 221 اور مخالفت میں 203 ووٹ آئے۔پارٹی پوزیشن کے مطابق 440 رکنی مشترکہ ایوان میں اپوزیشن ارکان کی تعداد 221 کے مقابلے میں 219 بنتی ہے۔اپوزیشن اراکین کی جانب سے ووٹوں کی گنتی کو غلط قرار دیتے ہوئے اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کر کے احتجاج کیا گیا جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ گنتی پر ووٹنگ بالکل ٹھیک ہوئی ہے۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ حکمران اتحاد کو قومی اسمبلی میں 17 ووٹوں کی اکثریت حاصل ہے جبکہ سینیٹ میں وہ اپوزیشن سے 15 ووٹوں سے پیچھے ہے۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری منگل کی شام اسلام آباد پہنچ گئے جب کہ ان کے والد و رکن قومی اسمبلی آصف علی زرداری پہلے ہی دارالحکومت میں موجود ہیں۔

پیپلز پارٹی کے ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ ان کے کم از کم تین ارکان مشترکہ اجلاس میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔سینئر پارٹی رہنما سید نوید قمر اور سینیٹر سکندر میندھرو علالت کے باعث اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے جب کہ پی پی پی کے ایک اور سینئر ایم این اے نواب یوسف تالپور اس وقت لندن میں ہیں۔

اسی طرح مسلم لیگ (ن) کی شائستہ پرویز ملک کے بھی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا امکان ہے کیونکہ وہ اپنے شوہر پرویز ملک جو کہ پارٹی کے ایم این اے تھے، کی وفات کی وجہ سے عدت گزار رہی ہیں۔

پیپلز پارٹی کے سید یوسف رضا گیلانی کی سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر نامزدگی کے وقت 6 آزاد امیدواروں کا ایک گروپ، جنہوں نے اپوزیشن بینچز پر بیٹھنے کا انتخاب کیا تھا، نے بھی حکومت کے لیے ووٹ دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔پی پی پی کے ایک سینئر رہنما نے ڈان کو بتایا کہ گروپ کے ارکان نے اپوزیشن جماعتوں کے حالیہ اجلاسوں میں شرکت نہیں کی تھی۔

پیر کو ایک اجلاس میں اپوزیشن کی اتحادی جماعتوں کے سربراہان نے ان رپورٹس پر تشویش کا اظہار کیا تھا کہ ریاستی ادارے حکومت کے اتحادیوں کو حکومت کے مجوزہ متنازع بلوں کے حق میں ووٹ دینے کے لیے ’مجبور‘ کر رہے ہیں۔

پی ڈی ایم کے اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’پی ڈی ایم، ریاستی اداروں کی طرف سے اس قسم کی مداخلت کو منظور نہیں کرتی اور اس طرح کے عمل کو آئین کی خلاف ورزی سمجھتی ہے۔پی ڈی ایم رہنماؤں نے ریاستی اداروں کو خبردار کیا تھا کہ وہ اپنی آئینی حدود میں رہیں اور ’عوام کے صبر کا امتحان نہ لیں ، پی ڈی ایم نے پہلے ہی اشارہ دیا ہے کہ وہ مشترکہ اجلاس سے منظور شدہ متنازع بلوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر سکتی ہے اور اس نے اس مقصد کے لیے پہلے ہی دو رکنی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔

اجلاس کے بعد پی ڈی ایم کی جانب سے کیے گئے ایک سرکاری اعلان کے مطابق اپوزیشن اتحاد کے رہنما انتخابات میں ای وی ایم کے استعمال، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اختیارات میں کمی اور قومی احتساب آرڈیننس میں ترمیم سے متعلق بلوں کو چیلنج کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

Back to top button