حکومت چیف الیکشن کمشنر کے خلاف کیا سازش کر رہی ہے
معروف صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ عمران حکومت کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر پر دباؤ ڈالنے کا بنیادی مقصد انہیں تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ دینے سے روکنا ہے کیونکہ سکندر سلطان راجہ پچھلے چیف الیکشن کمشنر سردار رضا کی طرح مٹی کا مادھو بننے کو تیار نہیں، چنانچہ اب حکومت نے انہیں بلیک میل کر کے فارغ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اسی لیے پہلے ان کے خلاف ریفرنس بھیجا گیا اور اب ان پر الزامات لگائے جا رہے ہیں جن کا ایک اور مقصد مقصد متنازعہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین سسٹم کے ذریعے اگلے انتخابات کو بھی الیکشن 2018 جیسا ‘صاف اور ‘شفاف’ بنانا ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ ابتدا میں موجودہ الیکشن کمشنر بھی سابق الیکشن کمشنر کی طرح مہربان رہا کیونکہ پارٹی فنڈنگ کیس کو وہ اسی طرح لٹکاتا رہا جس طرح جسٹس سردار رضا کا الیکشن کمیشن لٹکاتا رہا۔لیخن موجودہ چیف الیکشن کمشنر اس حد تک نہیں جا سکتے جس حد تک سابق چیف الیکشن کمشنر اور بالخصوص ان کے سیکرٹری گئے تھے۔ اس دوران ڈسکہ کے الیکشن کا مرحلہ آیا جس میں حکومت نے پریزائڈنگ افسروں کو اغوا کر کے حد کر دی۔ یہ وہ انتہا تھی جس پر الیکشن کمیشن کو احساس ہوا کہ اگر اس نے خاموشی اختیار کرلی تو اسکی ساکھ خاک میں مل جائے۔ چنانچہ الیکشن کمیشن اس معاملے پر متحرک ہوا اور حکومت کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ یہاں سے حکومتی صفوں میں خطرے کی گھنٹی بجنے لگی۔
صافی کہتے ہیں کہ اس کے بعد الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا معاملہ کھڑا کردیا گیا جسکا بنیادی مقصد اگلے الیکشن کے نتائج اپنے حق میں لینا ہے۔ انکا کہنا یے کہ اگلے الیکشن کو بھی 2018 جیسے انتخابات بنانے کی ذمہ داری عارف علوی اور بابر اعوان نےاٹھا رکھی ہے۔منصوبہ بندی کرنا ان دونوں کا کام ہے اور روبوٹ کی طرح اس کے تحت کردار ادا کرنا شبلی فراز وغیرہ کا کام ہے۔ ای وی ایم مشین سے بھی زیادہ اوورسیز پاکستانیز کی ووٹنگ میں گڑبڑکرنا مقصود ہے لیکن اپوزیشن کی نااہلی کی وجہ سے زیادہ توجہ ای وی ایم مشین پر ہے۔ بہر حال اعظم سواتی کی قیادت میں فواد چودھری اور شبلی فراز چیف الیکشن کمشنر کے پاس گے۔ پہلے ان پر احسانات جتائے گے کہ کس طرح ہم نے آپ کو الیکشن کمشنر بنایا اور پھر اوورسیز ووٹنگ اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے متعلق اپنے مطالبات رکھ دیے۔ اس دوران چیف الیکشن کمشنر کو دبائو میں رکھنے کے لئے الیکشن کمیشن کے ریٹائرڈ ہونے والے دو ارکان کے تقرر میں بھی تعطل سے کام لیا جارہا تھا تاکہ تین افراد پر مشتمل کمیشن کو منیج کرنا حکومت کے لئے آسان ہو۔
سلیم صافی کے مطابق چیف الیکشن کمشنر اور ان کی ٹیم نے وفاقی وزرا سے عرض کیا کہ یہ دونوں کام ممکن نہیں۔انہیں بتایا گیا کہ اوورسیز پاکستانی زیادہ تر عرب ممالک میں ہیں، جن میں اکثریت مزدور طبقے کی ہے۔ وہ ای میل وغیرہ کے ذریعے ووٹنگ نہیں کرسکیں گے جبکہ عرب ممالک میں ہم درجنوں پولنگ اسٹیشن بناسکتے ہیں اور نہ وہاں کی حکومتیں اس کی اجازت دیں گی۔ یہی عذر الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے حوالے سے پیش کیا گیا کہ اتنی تعداد میں مشینیں خریدنا، اس کے لئے بجٹ کا انتظام کرنا، پھر ان کو رکھنا، بھر میں ان کی ترسیل کا بندوبست کرنا اور انہیں چلانے کے لئے آئی ٹی کے ماہر بندوں کا انتظام کرنا، بالکل بھی ممکن نہیں۔
جب ہزاروں مشینوں کو رکھنے کی بات آئی تو شبلی فراز نے یہ تجویز رکھ دی کہ میں اپنی سائنس و ٹیکنالوجی کی وزارت کی بلڈنگ میں ان کو رکھوا دوں گا۔ جس پر انہیں بتایا گیا کہ جناب عالی! الیکشن کمیشن حکومت کا نہیں بلکہ ریاست کا ادارہ ہے اور یہ کہ الیکشن کے وقت آپ نہیں بلکہ نگران وزیر ہوں گے۔ یہ بھی پوچھا گیا کہ الیکشن کمیشن اپنا میٹیریل کس طرح ایک وزارت کی بلڈنگ میں رکھ سکتا ہے۔ بہر حال اس نشست کے بعد وزرا سیخ پا اور مایوس ہوکر نکلے اور عمران خان کو یہ رپورٹ دی کہ چیف الیکشن کمشنر تو سردار رضا بننے کو بالکل بھی تیار نہیں،چنانچہ سکندر سلطان راجہ کو بلیک میل اور رخصت کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔
سلیم صافی بتاتے ہیں کہ اس سلسلے میں پہلے ان کے خلاف ریفرنس بھیجا گیا اور پھر ان پر الزامات کی بارش کر دی گئی۔ صافی کے مطابق ہم سب جانتے ہیں کہ ہر الیکشن میں گڑبڑ ہوتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ہم سب یہ بھی جانتے ہیں کہ اصل گڑبڑ پری پول رگنگ ہوتی ہے۔ الیکشن سے پہلے پارٹیوں کو توڑ ا جاتا ہے۔ ان کے رہنمائوں کے خلاف کیسز درج کئے جاتے ہیں۔ مختلف حربوں سے کبھی مسلم لیگ (ن)، کبھی مسلم لیگ (ق) اور کبھی پی ٹی آئی کے غبارے میں ہوا بھری جاتی ہے۔ بلیک میلنگ کے ذریعے الیکٹ ایبلز کو کنگ پارٹی میں شامل کر دیا جاتا ہے۔ اب کیا ای وی ایم مشین اس مسئلے کے حل میں کوئی مدد دے سکتی ہے ؟ ہر گز نہیں۔ دوسری قسم کی گڑبڑ گنتی کے دوران اور پھر ریٹرننگ افسران تک نتائج پہنچانے کے دوران کیجاتی ہے۔ پچھلے الیکشن میں یہ نئی ریت ڈالی گئی کہ بعض جگہوں پر گنتی کے وقت پولنگ ایجنٹوں کو نکالا گیا۔
اب ووٹنگ آپ نے مشین سے کی ہو یا مینول کی ہو، لیکن اگر پولنگ ایجنٹوں کے ساتھ وہ سلوک کیا جائے تو پھر اس مشین کا کیا فائدہ ؟ یہ تجویز لانے والے یہ بھی نہیں سوچتے کہ پاکستان میں تقریبا ڈھائی لاکھ پولنگ بوتھ ہوں گے۔ یہ مشین تین حصوں پر مشتمل ہے جس میں ایک ووٹر آئیڈنٹٹی فکیشن مشین بھی ہے۔ وہ 80 ہزار سے لے کر ایک لاکھ تک درکار ہوںگی۔ مشین کا دوسرا حصہ بیلٹ یونٹ ہے جو ساڑھے تین لاکھ درکار ہوں گے۔ اسی طرح ساڑھے تین لاکھ بیلٹ پرنٹ کرنے والے پرنٹرز درکار ہوں گے۔ یوں تقریبا دس لاکھ مشینیںدرکار ہوں گی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس پر دو سو ارب روپے خرچہ آئے گا۔ اب وہ حکومت جو تین سال میں قبائلی اضلاع کو ایک سو ارب روپے نہیں دے سکی، اس کام پر دو سو ارب روپے خرچ کررہی ہے! یہ مشینیں بجلی سے چلیں گی اور خود ہمارے ایک وزیر اسمبلی کے فلور پر کہہ چکے ہیں کہ بلوچستان کے تیس فی صد علاقے میں بجلی نہیں۔ لہازا الیکشن کے دوران لوڈ شیڈنگ میں یہ مشینیں کیسے چلیں گی؟ پھر ان مشینوں کو چلانے کے ماہر لاکھوں کی تعداد میں لوگ کہاں سے آئی گے۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ پاکستان میں ایک بڑا مسئلہ پولنگ اسٹیشن سے ریٹرننگ آفیسر اور مرکزی الیکشن کمیشن تک ریکارڈپہنچانے کا ہے کیونکہ زیادہ گڑبڑ اس عمل میں کی جاتی ہے۔ لیکن الیکٹرانک مشین اس کام میں مدد نہیں دے سکتی کیونکہ یہ مرکزی سسٹم کے ساتھ منسلک نہیں ہوگی۔ اس مسئلے کے حل کے لئے گزشتہ الیکشن میں آر ٹی ایس سسٹم بنایا گیا تھا لیکن ہم نے اس کا حشر دیکھ لیا۔ اس تناظر میں معاملے کو دیکھ لیں تو ہر کوئی سمجھ سکتا ہے کہ ای وی ایم محض بہانہ، الیکشن کمیشن کو بلیک میل کرکے پارٹی فنڈنگ کیس کے فیصلے سے باز رکھنا اور اگلے انتخابات کو بھی 2018 کے الیکشن جیسا صاف اور شفاف بنانا ہے۔
