حکومت کا تحریک لبیک کے احتجاجی مظاہرین سے سختی سے نمٹنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے تحریک لبیک کے احتجاجی مظاہرین سے سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کرتے ہوئے جڑواں شہروں کی انتظامیہ کو فری ہینڈ دے دیا ہے. مذاکرات سے معاملات حل نہ ہونے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے آپریشن کیا جائے گا.
وفاقی حکومت نے تحریک لبیک کے احتجاجی مارچ کے شرکاء کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے مظاہرین نے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ دوسری طرف فیض آباد سے ٹی ایل پی کا رکنوں کے اٹھانے کے لئے بڑے آپریشن کی تیاریاں بھی مکمل کر لی گئی ہیں.
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کا دھرنے کے شرکا کو وفاقی دارلحکومت میں داخل نہ ہونے دینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس حوالے سے وفاقی حکومت نے راولپنڈی اور اسلام آباد انتظامیہ کو واضح ہدایات دے دی گئی ہیں. ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے بھی فیصلے کی توثیق کر دی ہے جبکہ وزارت داخلہ کی جانب سے گائیڈ لائن بھی جاری کر دی گئی ہے. ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں مظاہرین نے مذاکرات کئے جائیں گے جبکہ مذاکرات کی ناکامی پر مکمل آپریشن کرنے کا اختیار انتظامیہ کو دے دیا گیا ہے. کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پولیس کے تازہ دم دستے بھی تیارہیں جبکہ ریجن کے دیگر اضلاع سے اضافی نفری اور ٹیئر گیس شیل بھی منگوالئے گئے ہیں.
اسلام آباد انتظامیہ نے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر فیض آباد میں پولیس، رینجرز اور فرنٹیئر کور کے 3 ہزار 113 سیکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کردیا ہے.گزشتہ روز راولپنڈی میں منعقدہ احتجاجی ریلی میں 5 ہزار افراد نے شرکت کی تھی، ریلی آج بھی جاری رہی اور ریلی کے شرکا نے روڈ بلاک کردیا جس کے باعث لوگوں کو دارالحکومت میں داخل ہونے میں دشواری کا سامنا رہا۔
15 نومبر کو اسلام آباد کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (آپریشنز) کے دفتر سے جاری نوٹی فکیشن میں پرتشدد واقعات کے پیش نظر دارالحکومت میں سیکیورٹی کے تفصیلی انتظامات کا تذکرہ کیا گیا۔نوٹی فیکیشن میں کہا گیا کہ ‘توقع کی جارہی ہے کہ ریلی میں شامل شرکا پرتشدد واقعات کے مرتکب ہوسکتے ہیں اور وہ ضلعی انتظامیہ سے کیے گئے وعدے توڑ کر فرانسیسی سفارت خانے کی طرف بڑھ سکتے ہیں’۔اسلام آباد کی انتظامیہ کے سینئر افسران نے گزشتہ روز احتجاجی ریلی کے لیے حفاظتی انتظامات طلب کرنے کے بعد ٹی ایل پی رہنماؤں سے رابطہ کیا تھا۔مظاہرین حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ فرانس سے پاکستان کے سفیر کو واپس بلائے اور اسلام آباد میں تعینات فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرے۔
ذرائع نے بتایا کہ افسران نے ٹی ایل پی کے رہنماؤں اور ریلی کے منتظمین کو کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر قائل کرنے کی کوشش کی تھی کہ اسلام آباد سمیت پورے ملک میں کووڈ 19 پھیل رہا ہے’۔ایس ایس پی آپریشنز کے جاری کردہ نوٹی فکیشن میں سیکیورٹی عہدیداروں کو شہریوں کی حفاظت، اہم سرکاری تنصیبات، عوامی نظم و ضبط کی بحالی اور مبینہ طور پر دہشت گردی کے حملوں کے سدباب کی ہدایت کی گئی۔تیسرے دن بھی اسلام آباد اور راولپنڈی میں موبائل سگنلز معطل رہے اور فیض آباد انٹر چینج جانے والی سڑکوں کے ساتھ اسلام آباد کے انٹری پوائنٹس کو کنٹینرز رکھ کر بلاک کردیا گیا۔
جڑواں شہروں میں امن و امان کی صورتحال قابو میں ہے اور کچھ علاقوں میں موبائل سگنلز بحال ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔اتوار کے دن صورتحال بالکل مختلف تھی جب لیاقت باغ میدان جنگ کا منظر پیش کر رہا تھا اور پورے دن پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہیں۔جھڑپوں کے دوران وارث خان پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او عبدالعزیز سمیت پولیس کے درجنوں اہلکار اور ٹی ایل پی کے متعدد کارکن زخمی ہوئے جنہیں ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیا۔شہر کے 24 داخلی راستوں کو کنٹینر لگا کر سیل کیا گیا تھا جن میں سوان برج، کچری چوک، ماریئر چوک، لیاقت باغ، شمس آباد، رحمٰن آباد، ڈبل روڈ، اڈیالہ روڈ، چور چوک اور آئی جے شامل ہیں۔اسلام آباد جانے والے مرکزی روڈ کو بھی بلاک کردیا گیا تھا۔
راولپنڈی اور اسلام آباد کے سنگم فیض آباد کے مقام پر مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان کا اتوار سے جاری دھرنا جاری ہے جس کے باعث اسلام آباد ایکسپریس وے کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔جڑواں شہروں میں اتوار سے موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی تھی جبکہ پیر کی صبح چند علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال کردی گئی۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے کہا ہے کہ اسلام آباد ایکسپریس وے زیرو پوائنٹ سے کھنہ پل تک سیل رہے گی۔اپنے ٹویٹ میں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے کہا کہ ‘ہر ایک سے درخواست ہے کہ براہ مہربانی متبادل راستے استعمال کریں، تکلیف کے لیےمعذرت خواہ ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ہم راستہ صاف کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ تحریک لبیک پاکستان نے فرانس میں پیغمبر اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے خلاف اتوار کو راولپنڈی کے لیاقت باغ سے فیض آباد تک ریلی نکالنے کا اعلان کیا تھا۔
ریلی کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان متعدد مقامات ہر جھڑپیں بھی ہوئی۔ترجمان تحریک لبیک نے الزام عائد کیا تھا کہ ‘پولیس نے پر امن ریلی کے شرکاء پر آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا جبکہ ہمارے کارکنان کو بھی گرفتار کیا گیا۔’راولپنڈی پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق اب تک 100 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں اور پولیس نے مشتعل شرکاء کو روکنے کے لیے آنسو گیس کے شیل کو استعمال کیا ہے۔اتوار کو اسلام آباد اور راولپنڈی کے سنگم فیض آباد کے مقام پر جب ریلی پہنچنی تو شرکاء نے اسلام آباد داخل ہونے کی کوشش کی۔ اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں نے مظاہرین کو اسلام آباد داخلے سے روکنے کی کوشش کی۔اسلام آباد پولیس کے مطابق امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے اور کسی صورت بھی امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایس ایس پی ٹریفک اسلام آباد نے شہریوں کو ٹریفک کے مسائل سے بچنے کے لیے غیر ضروری طور پر سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔اپنی ٹویٹ کے ذریعے انہوں نے کہا ’اسلام اباد کے داخلی اور خارجی راستوں پر ٹریفک ڈائیورژن لگائی گئی یے، شہریوں سے گزارش ہے کہ کسی بھی دقت سے بچنے کے لیے غیر ضروری سفر کرنے سے گریز کریں’اسلام آباد ٹریفک پولیس کے مطابق لاہور سے آنے والی ٹریفک کو روات ٹی چوک سے راولپنڈی کی طرف موڑا گیا ہے جبکہ پشاور سے آنے والی ٹریفک کو 26 نمبر چونگی سے موٹر وے استعمال کرنا ہوگا۔ فیض آباد کو چاروں اطراف سے ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے، راول ڈیم چوک سے فیض آباد جانب والی سڑک کو بھی بند کر دیا گیا یے۔
راول ڈیم چوک سے پارک روڈ، ترامڑی اور لہتراڑ روڈ سے براستہ کھنہ ایکسپریس وے استعمال کرنا ہوگا۔زیرو پوائنٹ سے فیض آباد کی جانب ٹریفک کو بھی دونوں اطراف سے بند کر دیا گیا ہے۔ زیرو پوائنٹ سے شہریوں کو کشمیر ہائی وے نائنتھ ایوینیو اور آئی جی پی روڈ استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔کرال چوک سے اسلام آباد آنے والے شہری کھنہ پل سے لہتراڑ روڈ، ترامڑی چوک اور پارک روڈ سے ہوتے ہوئے راول ڈیم چوک استعمال کر سکتے ہیں۔راستوں اور موبائل سروسز کی بندش کی وجہ سے شہریوں کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اسلام آباد میں لبیک یارسول الله ریلی کے دهرنے کی وجه سے تمام بین الصوبائی ٹریفک کا دباؤ ایکسپریس وے اور کشمیر هائ وے پر هے جس کی وجه سے مختلف مقامات سے روڈز کو بند کیا گیا هے, ٹریفک کے بهاؤ کو رواں دواں رکهنے کے لیے اسلام آباد ٹریفک پولیس کی اضافی نفری تعینات ہے.شہریوں سے اپیل کی گئی هے که ٹریفک پلان کے مطابق روڈ استعمال کریں اور اسلام آباد کی طرف غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں،لاهور سے آنے والی هیوی ٹریفک روات ٹی کراس سے راولپنڈی کی جانب راسته اختیار کریں،،پشاور سے آنے والی هیوی ٹریفک 26 نمبر چونگی سے موٹر وے پر ڈال دی جائے گی،،،کلثوم پلازه جناح ایونیو سے بجانب ایکسپریس چوک دونوں اطراف ٹریفک کے لیے بند هیں،،،شهری ناظم الدین اور مارگله روڈ استعمال کریں،،،جیو چوک سے بجانب پولی کلینک چوک فضل حق روڈ دونوں اطراف ٹریفک کے لیے بند هے،،شهری لقمان حکیم روڈ استعمال کریں،،،
فیض آباد چاروں اطراف ٹریفک کے لیے بند هے جس کی تفصیل درج ﺫیل هے،،،راول ڈیم چوک سے بجانب فیض آباد دونوں اطراف ٹریفک کے لیے بند هے،،،راول ڈیم چوک سے پارک روڈ،ترامڑی،لهتراڑ روڈ کهنه اور ایکسپریس هائ وے استعمال کریں،،زیرو پوائنٹ سے بجانب فیض آباد دونوں اطراف ٹریفک کے لیے بند هے،،،شهری کشمیر هائ وے ناینتھ ایونیو اور آئ جے پی روڈ استعمال کریں،،کهنه پل سے بجانب فیض آباد ایکسپریس هائ وے دونوں اطراف ٹریفک کے لیے بند هے،،،کرال سے اسلام آباد آنے والے شهری کهنه پل سے لهتراڑ روڈ ترامڑی پارک روڈ اور راول ڈیم چوک استعمال کریں،،،
ناینتھ ایونیو آئ جے پی روڈ سے بجانب فیض آباد دونوں اطراف ٹریفک کے لیے بند هے،،،شهری آئ جے پی روڈ سے براسته گوهر شهید چوک،گندم گودام چوک،فقیر ایپی روڈ سے کشمیر هائ وے استعمال کریں،اسی طرح آئ جےپی روڈ سے براسته ناینتھ ایونیو کشمیر هائ وے استعمال کریں،راولپنڈی سے براسته مری روڈ اسلام آباد آنے والے شهری مری روڈ سے براسته سٹیڈیم روڈ ناینتھ ایونیو استعمال کریں یا براسته کرال کهنه پل،لهتراڑ روڈ ترامڑی پارک روڈ راول ڈیم چوک استعمال کریں،،، ڈھوکڑی سهروردی سرینا چوک بجان فرانس ٹرن دونوں اطراف ٹریفک کے لیے بند هے،،،ریڈ زون،سیکریٹریٹ اور ڈپلومیٹک انکلیو جانے والے براسته ایمبیسی روڈ،نادرا چوک سے ریڈیو پاکستان چوک یا مارگله روڈ استعمال کر سکتے هیں،،،


