ٹارگٹ کلنگ اورساتھیوں کی گمشدگی، پی ٹی ایم سراپا احتجاج

پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے سربراہ منظور پشتین نے قبائلی اضلاع میں بڑھتی ہوئی ٹارگٹ کلنگ اور گمشدگیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف حکومت ہمارے ساتھ مذاکرات کی بات کر رہی ہے اور دوسری طرف ہمارے لوگوں کو لاپتہ کر دیا جاتا ہے۔
اتوار (15 نومبر کو) شمالی وزیرستان کی تحصیل میران شاہ میں پی ٹی ایم کے لانگ مارچ سے خطاب میں منظور پشتین نے کہا: ’اس جلسے کو دیکھ کر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پی ٹی ایم کو کوئی بھی ختم نہیں کرسکتا۔‘انہوں نے جلسے کو خرقمڑ واقعے میں ہلاک ہونے والے اپنے ساتھیوں کے نام کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ سب لوگ انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔‘منظور پشتین نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں، ’اسے یہ لوگ ٹارگٹ کلنگ کا نام دیتے ہیں لیکن اصل میں یہ لوگ حالات خراب کرنا چاہتے ہیں، یہ لوگ اس وطن کو برباد کرنا چاہتے ہیں۔‘ان کا مزید کہنا تھا کہ ’لیکن میں ان کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اب یہ پی ٹی ایم کا وقت ہے، آپ لوگ ان کو دھوکہ نہیں دے سکتے کہ آپ کو آئی ڈی پیز بنائیں گے، پی ٹی ایم کے لوگ ان کو ایسا نہیں کرنے دیں گے۔‘
جلسے پی ٹی ایم رہنماؤں محسن داوڑ، افراسیاب خٹک اور عثمان کاکڑ کے ساتھ ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابر نے بھی خطاب کیا۔محسن داوڑ نے اپنے خطاب میں مسئلہ افغانستان کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ صرف افغان شہری ہی اپنی تقدیر کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔بقول محسن داوڑ: ’پاکستان گلبدین حکمت یار کو لے کر آیا، انہیں سٹیٹ پروٹوکول دیا اور انہوں نے یہاں سے افغانستان کو دھمکیاں دیں، جسے افغانوں نے مسترد کردیا ہے۔‘انہوں نے کہا: ’ میں یہاں بتاتا چلوں کہ پی ٹی ایم کی کوئی حدود نہیں ہے، پی ٹی ایم یہاں سے افغانوں پر فیصلے مسلط کرنے کی کوششوں کی مخالفت کرے گی۔ صرف افغان ہی اپنی تقدیر کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔‘محسن داوڑ نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لانگ مارچ میں شرکت کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا: ’یہ ایک ریفرنڈم تھا جس میں ریاستی دہشت گردی کے تمام ماضی کے واقعات کے حوالے سے انصاف کا مطالبہ کیا گیا تھا۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button