حکومت 1 لیٹر پیٹرول میں سے کتنا ٹیکس وصول کرتی ہے؟

31 اگست کو پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 300 کی حد عبور گئی ہے، 31 اگست کی تاریخ ختم ہونے کے قریب آئی تو پاکستان کی وزارت خزانہ کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا جس کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 300 کا ہندسہ عبور کر کے ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 14.91 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 18.44 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا اور اب آئندہ 15 دن کے لیے جہاں پٹرول کی فی لیٹر قیمت 305.36 روپے ہو گئی وہیں ایک لیٹر ڈیزل 311.84 روپے میں ملے گا۔معاشی امور پر رپورٹنگ کرنے والے صحافی شہباز رانا نے بی بی سی کو بتایا کہ زیادہ خطرے کی بات یہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں یہاں بھی نہیں رُکیں گی بلکہ ان میں ڈالر کی قیمت میں اضافے اور روپے کی بےقدری کے ساتھ مزید اضافہ دیکھنے میں آئے گا اگر پیٹرول کی تازہ ترین فی لیٹر قیمت کو دیکھا جائے تو پاکستان کی آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کے اعداد و شمار کے مطابق 305.36 روپے میں سے ایندھن کی ایکس ریفائنری فی لیٹر قیمت 228.59 روپے بنتی ہے۔قیمت میں تیسرا حصہ ان اخراجات کا ہے جو ایندھن کی ترسیل، اسے فروخت کرنے والے ادارے اور پیٹرول پمپ ڈیلران کے کمیشن کی مد میں آتا ہے۔

ان تمام اخراجات کو اکٹھا کریں تو صارف فی لیٹر 16.77 روپے اس مد میں ادا کر رہا ہے۔حکومتِ پاکستان نے رواں برس جولائی میں آئی ایم ایف سے جو معاہدہ کیا اس کے تحت ایک لیٹر پر پی ڈی ایل کی مد میں 60 روپے وصول کیے جانے ہیں۔ شہباز رانا کے مطابق استعمال پر ضرور ٹیکس عائد کیے جاتے ہیں مگر ایسا کرنے سے قبل لوگوں کی قوت خرید کو بھی مدنظر رکھا جا سکتا ہے، اس وقت ملک میں 38 فیصد سے زیادہ افراط زر ہے جبکہ پاکستان میں اکثریت لوگوں کی فی کس آمدن دو ڈالر سے بھی کم ہے۔ مصباح شہزاد اسلام آباد کے علاقے غوری ٹاؤن کی رہائشی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو ان کی تنخواہ کا بڑا حصہ ٹیکسز میں چلا جاتا ہے اور دوسری طرف انھیں اب فی لیٹر پیٹرول پر علیحدہ سے بھی اپنی جیب سے بھاری ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے، جس کے بعد گھر کا بجٹ خراب ہو جاتا ہے۔ٹیکس امور کے ماہر ڈاکٹر حامد عتیق سرور نے بی بی سی کو بتایا کہ نیشنل فنانس ایوارڈ کے تحت ریونیو کا بڑا حصہ صوبوں کو چلا جاتا ہے، دفاع کے اخراجات ہوں یا روزمرہ کے معاملات، قرضوں کی ادائیگی ہو یا دیگر فرائض کی انجام دہی تو اس سب کے لیے پیسہ تو حکومت کو چاہیے۔

شہباز رانا کے مطابق اصل مسئلہ حکومت کی ترجیحات کا ہے کیونکہ اس وقت تنخواہ دار طبقہ بڑے بڑے سرمایہ داروں سے کئی گنا زیادہ سالانہ ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ٹیکس نطام کی سب سے بڑی خامی ہی یہی ہے کہ کم آمدنی والوں پر زیادہ بوجھ ڈال دیا گیا ہے یعنی غریب آدمی امیر سے زیادہ ٹیکس دے رہا ہے۔تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر حماد اظہر نے سوشل میڈیا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’ڈالر بھی 305 اور پیٹرول بھی، مارچ 2022 سے اب تک کتنا کچھ بدل گیا۔ جس طرف معاملات جا رہے ہیں الیکشن 90 کی بجائے 60 دن میں کرانا چاہئیں، نگران حکومت بھی پی ڈی ایم کی طرح کسی کام کی نہیں، ملک کو فوری بے یقینی اور عدم استحکام سے نکالنا ہوگا ورنہ معاشی اور سیاسی افراتفری کا خطرہ ہے۔ٹوئیٹر پر صارف شمع جنیجو لکھتی ہیں کہ بجلی کے بلوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اور اب پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے غریب کو مزید کچل دیں گے۔ نزہت نذر نامی صارف نے لکھا کہ ’اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اگر میرے پاس کار ہے تو میں انتہائی مہنگا پیٹرول بھی برداشت کر سکتی ہوں، سینیٹر زرقا تیمور نے ٹویٹ کیا کہ ’ڈالر کی اُڑان، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا نیا طوفان، مہنگائی سے عوام پریشان لیکن سکون سے سو رہے ہیں سب حکمران، ویلکم ٹو پرانا پاکستان۔‘

Back to top button