جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس بندیال کے سامنے ڈٹ گئے

قانونی حلقوں میں جہاں چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس عمر عطا بندیال کی جانب سے اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل 4 اہم فیصلے سنائے جانے کی باز گشت عروج پر ہے وہیں جسٹس بندیال کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے سپریم کورٹ میں تقسیم کھل کر سامنے آ چکی ہے۔ سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطا بندیال۔کو ایک بار پھر ہزیمت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ نیب کیس میں عجلت دکھانے پر جسٹس منصور علی شاہ کھل کر جسٹس عمر عطا بندیال۔کے سامنے کھڑے ہو گئے ہیں۔ جہاں ایک طرف جسٹس بندیال اپنی ریٹائرمنٹ سے قبل نیب ترامیم کیس کا ہر صورت فیصلہ سنانا چاہتے ہیں وہیں دوسری طرف نیب ترامیم کیس کی سماعت کرنے والے بینچ میں شامل جج جسٹس منصور علی شاہ نے نیب کیس میں عجلت پر سوال اٹھاتے ہوئے اپنے اختلافی نوٹ میں نیب ترامیم کیس سے پہلے پریکٹس اینڈ پروسییجر ایکٹ کے حوالے سے فل بینچ تشکیل دے کر فیصلہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے جسٹس منصور علی شاہ نے مزید ریمارکس دئیے ہیں کہ 17 غیر منتخب جج 25 کروڑ عوام کی منتخب پارلیمنٹ کی قانون سازی کو کیسے بدنیتی قرار دے کر ختم کر سکتے ہیں؟
جسٹس منصور علی شاہ نے نیب ترامیم کیخلاف کیس میں اختلافی نوٹ لکھ دیا، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسییجر ایکٹ درست ہونے کی صورت میں موجودہ کیس کا فیصلہ غیر مؤثر ہوجائے گا۔اختلافی نوٹ میں جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا کہ ’پریکٹس اینڈ پروسیجرایکٹ کے تحت آرٹیکل 184کی شق تین کے تحت مقدمات سننے کیلئے تین رکنی کمیٹی اور پانچ رکنی بینچ تشکیل دینے کا ذکر ہے۔ بادی النظر میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا اطلاق نیب کیس تمام زیر التواء مقدمات پر بھی ہوتا ہے۔انہوں نے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ اگر پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو درست قانون قرار دیا گیا تو اسکا اطلاق عدالتی فیصلے کے بجائے قانون کی منظوری سے ہوگا اور درست قرار دینے کی صورت میں موجودہ نیب ترامیم کیس کا فیصلہ خودبخود غیر موثر ہو جائے گا۔
جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا کہ میری رائے میں پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کا فیصلہ تین رکنی بینچ کی بجائے آٹھ رکنی بینچ نے کرنا ہے، وفاقی حکومت کا یہ کہنا کہ قانون کو معطل نہیں کیا جا سکتا یہ طے کرنا بھی آٹھ رکنی بینچ کا کام ہے، میری نظر میں پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو معطل کرنے کی جو وجوہات تھیں یہ فیصلہ بھی اٹھ رکنی بینچ نے کرنا ہے، ہمارا یہ تین رکنی بینچ کسی دوسرے عدالتی بینچ کے فیصلے کا دفاع نہیں کر سکتا۔
انہوں نے لکھا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کا اطلاق ماضی سے ہوگا یا نہیں یہ فیصلہ بھی آٹھ رکنی بینچ نے ہی کرنا ہے، اگر ہم پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے فیصلے کا انتظار کریں تو اس کیس پر لٹکتی ہوئی تلوار ہٹ جائے گی، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو 13 اپریل کو معطل کیا گیا، چار ماہ سے زائد وقت گزرنے کے باوجود کیس کو دوبارہ سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا جا سکا، براہ راست عدلیہ کے امور سے متعلق قانون پر غیر ضروری تاخیر سمجھ سے بالاتر ہے جبکہ نیب ترامیم کے خلاف تقریباً پچاس سماعتیں ہو چکی ہیں، اگر پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کا پہلے ہی فیصلہ کر دیا جاتا تو عدالت آسانی کے ساتھ قانون کے مطابق اپنے امور کو جاری رکھتی، پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون پر حکم امتناع جاری کرنے کی بجائے جلد فیصلہ کر لیا جاتا تو غیر یقینی کی صورتحال پیدا نہ ہوتی۔انہوں نے لکھا کہ میں اپنی رائے کو پھر دوہراتا ہوں کہ نیب ترامیم کیس کے فیصلے سے پہلے پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کا فیصلہ کیا جائے یا فل کورٹ تشکیل دیا جائے۔
دوسری جانب جسٹس سید منصور علی شاہ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران مزید ریمارکس دیے ہیں کہ نیب قوانین میں ترمیم پر پارلیمنٹ کو ’دائرہ اختیار کی مشق‘ پر بددیانتی کا مرتکب قرار دینا پارلیمانی جمہوریت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ہم غیر منتخب 17 ججز، 25 کروڑ عوام کے نمائندوں کی جانب سے بنائے گئے قانون کو صرف اس صورت میں چھو سکتے ہیں جب یہ آئین کے آرٹیکل 8 سے متصادم ہو جو بنیادی حقوق سے متعلق ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے حیرت کا اظہار کیا کہ جب پارلیمنٹ اپنی دانشمندی کے ساتھ یہ چاہتی ہے تو ہم پارلیمنٹ کے ساتھ کسی بددیانتی کو کیسے منسوب کر سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ کیا عدالت پارلیمنٹ کو روک سکتی ہے اگر وہ یہ نتیجہ اخذ کرے کہ تحقیقات بہت مہنگی تھی اور کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
