حیات بلوچ کے والد نے شناخت پریڈ میں مبینہ ملزم کو شناخت کر لیا

تربت میں فرنٹیئر کور کے اہلکار کی فائرنگ سے قتل ہونے والے طالب علم حیات بلوچ کے والد نے ملزمان کی شناخت پریڈ کے دوران شاہدی اللہ کو بطور ملزم شناخت کر لیا ہے۔ ایف سی اہلکار شاہدی اللہ، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے فائرنگ کر کے حیات بلوچ کو قتل کیا تھا، پہلے ہی پولیس کی حراست میں ہیں۔
ایس ایس پی تربت نجیب پندرانی کے مطابق شناخت پریڈ ڈسڑکٹ جیل تربت میں جوڈیشل مجسٹریٹ کی نگرانی میں منعقد ہوئی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ قانون کے مطابق ملزم شاہدی اللہ کے ساتھ دیگر افراد (قیدیوں) کو لائن میں شناخت پریڈ کی غرض سے کھڑا کیا گیا جس کے بعد حیات بلوچ کے والد کو کہا گیا کہ وہ ان افراد میں سے ملزم کی شناخت کریں۔ پولیس کے مطابق حیات بلوچ کے والد مزار نے لائن میں کھڑے تمام افراد میں سے ایف سی اہلکار شاہدی اللہ کو تینوں بار درست شناخت کیا۔ نجیب پندرانی کا کہنا تھا کہ ملزم کی شناخت کے ساتھ ہی حیات بلوچ قتل کیس کی تفتیش کا انتہائی اہم مرحلہ مکمل ہو گیا ہے۔
یاد رہے کہ حیات بلوچ کو مبینہ طور پر 13 اگست کو تربت میں ہونے والے ایک بم دھماکے کے بعد ایف سی اہلکاروں نے فائرنگ کر کے قتل کیا تھا۔
حیات بلوچ کی موت کا مقدمہ ان کے بھائی محمد مراد کی مدعیت میں ’نامعلوم‘ ایف سی اہلکار کے خلاف درج کروایا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا جب حیات بلوچ کو قتل کیا گیا اس وقت ان کے والد موقع پر موجود تھے اور ملزم کے سامنے آنے پر باآسانی اسے شناخت کر سکتے ہیں۔ حیات بلوچ کے قتل کے خلاف کوئٹہ میں ہونے والے مظاہروں کے دوران مظاہرین کی جانب سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا تھا کہ اس واقعے میں ملوث ایف سی کے تمام اہلکاروں کو گرفتار کر دے سزائیں دی جائیں۔
گزشتہ روز برمش یکجہتی کمیٹی کوئٹہ کے زیر اہتمام پریس کلب کے باہر ہونے والے مظاہرے میں طالب علموں کے علاوہ سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے کارکنوں نے شرکت کی تھی۔
مظاہرے سے خطاب کے دوران مقررین کا کہنا تھا کہ حیات بلوچ کے کیس میں صرف ایک ایف سی اہلکار کو پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب حیات بلوچ کو حراست میں لیا گیا اور تشدد کیا گیا تو وہاں فرنٹیئر کور کا صرف ایک اہلکار نہیں تھا بلکہ اس وقت کئی اہلکار موجود تھے اس لیے ان کی ہلاکت کے تمام ذمہ داران کو گرفتار کیا جائے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ بلوچستان گزشتہ کئی برسوں سے شورش کی زد میں ہے اور یہاں سکیورٹی اداروں کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے مقامی افراد کی زندگی اجیرن کی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان بھر میں آئے روز آپریشن کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور اجتماعی سزا کے طور پر لوگوں کو مبینہ طور پر جبری طور پر لاپتہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ اب حیات بلوچ کو مبینہ طور پر سرِ عام ہلاک کرنے کا واقعہ ایک نئے راستے کی طرف جانے کا عندیہ ہے جس میں بلوچ نوجوانوں کو باقاعدہ ٹارگٹ کیا جائے گا تاکہ نوجوان خوف کے سائے تلے زندگی گزاریں اور اپنی تعلیمی سرگرمیاں معطل کر دیں۔
تاہم بلوچستان میں سرکاری حکام اور محکمہ داخلہ کا یہ موقف رہا ہے کہ ایف سی سمیت سیکورٹی فورسز کے اہلکار قیام امن کےلیے تعینات ہیں اور بعض حلقے ایک ایجنڈے کے تحت ان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کررہے ہیں۔ مظاہرے کے شرکا نے ایک قرارداد بھی منظور کی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ فرنٹیئر کور کو بلوچستان کے تمام شہروں سے فوری طور پر نکالا جائے اور ان کی سکیورٹی کی ذمہ داری پولیس کے حوالے کی جائے۔
اس موقع پر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا کہنا تھا کہ حیات بلوچ کو سر عام گولی مارنے کا اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی بلوچستان میں اس طرح کے واقعات ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کہیں سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا جاتا ہے تو اس کے بعد بڑی تعداد میں ایسے لوگوں کو اٹھا کر لاپتہ کیا جاتا ہے جن کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے اور بعد میں ان میں سے بعض کو حراست میں قتل کرکے ان کی لاشیں پھینکی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تربت میں کچھ عرصہ قبل مبینہ ’ڈیتھ اسکواڈ‘ کے لوگوں نے گھروں پر حملہ کیا جن میں ملک ناز اور کلثوم نامی دو خواتین قتل ہوئیں جب کہ ایک بچی زخمی ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ ملک ناز کے قتل کے الزام میں جس بڑے ملزم کو گرفتار کیا گیا تھا ان کو گرفتاری کے دو روز بعد چھوڑ دیا گیا۔
وائس فار مسنگ بلوچ پرسنز کے وائس چیئر مین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ تین روز قبل کراچی سے بگٹی قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ شخص خان محمد بگٹی کو مبینہ طور خفیہ اداروں کے اہلکار ان کے گھر سے اٹھا کر لے گئے اور گزشتہ روز ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاش پھینک دی گئی۔
ماما قدیر کے بقول ’31جولائی کو پہلے سے ڈیرہ بگٹی سے جبری طور پر لاپتہ کیے جانے والے بگٹی قبیلے سے تعلق رکھنے والے پانچ افراد کو حراست میں قتل کرنے کے بعد ان کی لاشیں راجن پور کے علاقے میں پھینک کر یہ کہا گیا کہ یہ دہشت گرد تھے۔‘
تاہم قانون نافذ کرنے والے ادارے سی ٹی ڈی کے مطابق ان افراد کے ٹھکانے سے اسلحہ و گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا تھا۔ سکیورٹی فورسز پر لگائے جانے والے ان الزامات کے حوالے سے بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاءاللہ لانگو سے فون پر متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی تھی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا تھا۔
تاہم اس سے قبل محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان ایف سی سمیت سکیورٹی فورسز پر لگنے والے ایسے الزامات کو سختی مسترد کرتا رہا ہے۔ بلوچستان میں سرکاری حکام اور محکمہ داخلہ کا یہ موقف رہا ہے کہ ایف سی سمیت سکیورٹی فورسز کے اہلکار قیام امن کےلیے تعینات ہیں اور بعض حلقے ایک ایجنڈے کے تحت ان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے فون پر بی بی سی کو بتایا تھا کہ سیکورٹی فورسز قیام امن کےلیے تعینات ہیں اور جہاں ان پر حملے ہوتے ہیں یا بد امنی کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو وہ آئین اور قانون کے مطابق ان میں ملوث لوگوں کے خلاف کارروائی کرتے ہیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ جہاں تک حیات بلوچ کے مارے جانے کا تعلق ہے اس کے حوالے سے باقاعدہ فرنٹیئر کور کے اہلکار کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرنٹیئر کور کا اہلکار ریمانڈ پر پولیس کے حوالے ہے اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی ہوگی گی۔ حیات بلوچ کا تعلق ایران سے متصل بلوچستان کے سرحدی ضلع کیچ سے تھا۔ وہ کراچی یونیورسٹی میں فزیالوجی ڈپارٹمنٹ کے طالب علم تھے۔
13اگست کو ایک بم دھماکے کے بعد ایف سی اہلکاروں نے مبینہ طور پر ا نہیں فائرنگ کر کے قتل کیا تھا۔
ان کے بھائی مراد محمد نے بتایا کہ وہ چھٹیوں پر گھر آئے تھے اور اس روز جائے وقوعہ کے قریب ایک باغ میں والد کا ہاتھ بٹا رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے بعد فرنٹیئر کور کے اہلکار باغ میں گھس آئے اورحیات بلوچ کو تھپڑ مارے، بعد میں اس کے ہاتھ، پاؤں باندھے گئے اور روڈ پر لا کر آٹھ گولیاں ماری گئیں جس سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ تربت پولیس کے ایک پریس ریلیز کے مطابق 13 اگست کو آبسر روڈ پر بلوچی بازار کے مقام پر ایف سی کی دو گاڑیوں پر دھماکہ ہوا تھا، جس پر ایف سی کے اہلکار نے قریبی باغات میں موجود محمد حیات کو اپنی سرکاری رائفل سے گولیوں کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں محمد حیات جاں بحق ہوگئے۔
حیات بلوچ کے قتل کا مقدمہ ان کے بھائی محمد مراد کی مدعیت میں درج کروایا گیا تھا۔ محمد مراد نے ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا تھا کہ وقوعہ کے وقت تقریباً دن بارہ بجے وہ ڈیوٹی پر تھے جب انھیں یہ اطلاع ملی کہ ان کے چھوٹے بھائی کو ایف سی اہلکار نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق جب وہ بتائی گئی جگہ پر پہنچے تو ان کے بھائی حیات کی لاش خون میں لت پت سڑک کے جنوبی کنارے پر پڑی ہوئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے پوچھنے پر میرے والد نے بتایا کہ ایف سی کے دو اہلکار باغ میں آئے اور حیات کو گھسیٹ کر سڑک پر لے گئے۔
مدعی مقدمہ کے مطابق ان کے والد نے انہیں بتایا کہ ایف سی کے ایک باریش سفید کپڑوں میں ملبوس شخص نے میرے سامنے حیات کو سڑک پر اپنی رائفل سے فائرنگ کرکے قتل کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button