خفیہ آڈیو ریکارڈنگز کرنے والا طاقتور وارداتیہ کون ہے؟


آڈیوز ریکارڈنگ سکینڈل کے ذریعے وزیراعظم آفس سمیت تمام اہم حکومتی شخصیات کو غیر محفوظ ثابت کر کے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ طاقت کا اصل مرکز اب بھی ہم ہی ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ اگر ایک نیوکلیئر ریاست کے وزیراعظم کا آفس اور ان کی کابینہ کے فون محفوظ نہیں اور سائبر حملوں کی زد میں ہیں تو دنیا پاکستان پر کس طرح اعتبار کر سکتی ہے؟

ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار عاصمہ شیرازی بی بی سی کے لئے اپنے تازہ تجزیے میں کہتی ہیں کہ خطرہ اب اندر سے ہے، باہر سے نہیں، دشمن کہیں یہیں آستینوں میں ہیں جبکہ ہم اُنھیں سرحد پار ڈھونڈ رہے ہیں۔ اس بے چہرہ لڑائی میں ہاتھ تو استعمال ہو رہے ہیں مگر چہروں سے نقاب اُترنا ابھی باقی ہے۔ گویا لڑائی اب فیصلہ کُن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جبکہ حالات کے اُونٹ کو کسی بھی کروٹ بٹھانے کے لیے دروازوں اور دہلیزوں کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ ہر روز لگتا ہے کہ شاید تغیر کو کسی طور استحکام ملے مگر ہر روز نئے کردار کہانی کو اُلجھاتے چلے جا رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ہم کسی پُراسرار ناول کی کسی جادوئی کہانی کے اُس موڑ پر پہنچ چُکے ہیں جہاں ’جن‘ کی جان جس طوطے میں ہے، اُسے یا تو گردن سے دبوچا جائے گا یا کہانی کے کردار اپنی بقا کی آخری لڑائی میں چند آخری ہتھکنڈے استعمال کریں گے۔ بہر کیف کہانی اس جگہ پر ہے جہاں کردار جانتا ہے کہ ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔ عمران خان ’آخری واردات‘ کی بات کر رہے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ اس آخری واردات کا کُھرا جہاں بھی پہنچے گا نقصان ضرور پہنچائے گا، اب ہار بھی جائیں تو بازی مات نہیں۔ اب جنھیں آخری واردات کا احساس ہے وہ آخری لڑائی میں جان کی بازی بھی لگا سکتے ہیں اور مدمقابل کو حیران بھی کر سکتے ہیں۔ عاصمہ کے بقول آڈیو سیزن میں شاید یہ آخری سیزن ہو مگر اس سیزن کا کلائمیکس چونکا دینے والا ضرور ہو سکتا ہے۔ اس سے قبل آنے والی آڈیوز اور اس آڈیو میں فرق یہ ہے کہ اس میں وزیراعظم آفس سمیت تمام اہم افسران کو غیر محفوظ دکھا کر یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ہم ہی طاقت کا اصل مرکز ہیں۔ اب یہ پیغام کون دے سکتا ہے اس پر کسی قیاس آرائی سے بہتر ہے کہ چند سوالات اُٹھا دیے جائیں۔ عاصمہ سوال کرتی ہیں کہ وزیراعظم کے آفس، گھر، سیکریٹری یا اُن کی کابینہ کے فون غیر محفوظ اور سائبر حملوں کی لپیٹ میں ہیں تو اس کا فائدہ کس کو ہے اور نقصان کس کا ہو سکتا ہے؟ اگر ہیکرز کے پاس گھنٹوں کی ریکارڈنگ موجود ہے تو کون کون سا مواد ہیکرز کے ہاتھ لگا ہے جس کی وہ بولی لگا رہے ہیں؟ اگر، مگر، چونکہ، چنانچہ، لیکن۔۔۔ یہ سب الفاظ اس سارے کھیل میں بے معنی ہیں۔ اصل جواب ’کیونکر‘ میں چُھپا ہو گا جس کی تلاش جاری ہے اور کھُرا کسی جگہ پہنچ رہا ہے۔

عاصمی کہتی ہیں کہ دلچسپ امر یہ ہے کہ آڈیو لیکس میں وہ آڈیو بھی خان صاحب کے علم میں ہے جو ابھی تک منظر عام پر آئی ہی نہیں۔ انہوں نے ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جلد ہی مریم نواز کی ایک ایسی آڈیو آنے والی ہے جس میں وہ بتا رہی ہیں کہ الیکشن کمیشن توشہ خانہ کیس میں جلد ہی عمران خان کو نا اہل کر دے گا۔ آخر وہ کون سے ذرائع ہیں جو ڈارک ویب پر آڈیو ڈالنے سے پہلے خان صاحب کو آگاہ کر رہے ہیں کہ اُنھیں توشہ خانہ کیس میں نااہل کیا جا رہا ہے؟سوال یہ بھی ہے کہ وہ کون ہے جو اس اندھے جال میں ڈالی گئی آوازوں کو جان دے سکتا ہے، جو بروقت یا وقت سے پہلے اُنھیں خبردار کرتا ہے۔۔۔ کیا یہ سب محض اتفاق ہے؟ کیا اسی کی بُنیاد پر عمران خان کو بھی شامل تحقیقات کیا جا سکتا ہے؟

عاصمہ شیرازی یاد دلاتی ہے کہ عمران خان صاحب آخری واردات میں تین وکٹیں گرانے کی بات بھی کر رہے ہیں، پہلی دو تو آصف زرداری اور شہباز شریف کی وکٹیں ہیں جبکہ تیسری وکٹ ’نامعلوم‘ ہے جو صرف اُنھیں معلوم ہے تاہم وہ اسکا نام لینا نہیں چاہتے۔ عاصمہ کہتی ہیں کہ اب یہ نامعلوم وکٹ وہ کیسے گرائیں گے یہ سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ اگر تیسری وکٹ سے مراد آرمی چیف ہیں تو وہ کس بل بوتے پر گرانے کا دعویٰ کر رہے ہیں، اُن کے پاس ایسا کون سا آئینی اختیار ہے جس کو وہ استعمال کر سکتے ہیں؟ کیا اُنھیں اس سلسلے میں کہیں سے کوئی امید اب بھی باقی ہے؟ ’آخری واردات‘ کا ایک مطلب یہ بھی نکالا جا سکتا ہے کہ یا تو واردات کامیاب ہو جائے گی یا وارداتیہ پکڑا جائے گا۔ بقول عاصمہ، واردات چونکہ ہمیشہ چھپ کر ہوتی ہے لہذا وارداتیہ اب تک سامنے نہیں آیا۔ ہو سکتا ہے کہ نیشنل سکیورٹی کمیٹی وارداتیے کا کھوج لگا لے اور اس معاملے کو کسی منطقی انجام تک پہنچانے میں کامیاب ہو جائے۔ بہرحال اب اس تجسس بھری سیریز کو کسی نہ کسی انجام تک تو جلد پہنچانا ہو گا ورنہ طاقت کے مرکز پر تو سوالات اُٹھ ہی چُکے ہیں۔

Back to top button