خفیہ کیمرے لگوانے والے خفیہ کردار بے نقاب

سینیٹ الیکشن سے ایک رات پہلے پولنگ بوتھ میں خفیہ کیمرے لگانے کی کارروائی میں خلائی مخلوق سے تعلق رکھنے والے خفیہ اداروں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آ گئے ہیں۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں حکومتی اراکین کو مانیٹر کرنے کیلئے خفیہ کیمرے لگانے کا فیصلہ اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر کیا گیا اور یہ تجویز ملک کی طاقتور ترین انٹیلی جنس ایجنسی کی جانب سے آئی۔ خفیہ کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ تب کیا گیا جب پی ٹی آئی کے کچھ اراکین سینیٹ نے پنجاب ہاؤس میں ہونے والے ایک اجلاس کے دوران حکومتی امیدوار کو ووٹ دینے کے لئے قرآن پاک پر حلف لینے سے انکار کر دیا۔ اس انکار سے ان خدشات کو تقویت ملی کہ ہو سکتا ہے کہ یہ حکومتی اراکین صادق سنجرانی کو ووٹ دینے کی بجائے یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دے دیں۔ چنانچہ پولنگ بوتھ میں خفیہ کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور جمعرات کیو رات گے اس آپریشن کو عملی جامہ پہنایا گیا۔
معلوم ہوا ہے کہ اس آپریشن کو خفیہ رکھنے کیلئے حکومت نے ہنگامی طور پر 12 مارچ کو بغیر اشتہار دئیے وجاہت افضل نامی شخص کو 18ویں گریڈ میں ایک سال کے لیے سینیٹ کر عمارت کا انچارج تعینات کیا جس نے اس منصوبے کو خاموشی سے رستنکی تاریکی میں مکمل کروانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ بتایا گیا ہے کہ جو خفیہ کیمرے پولنگ بوتھ میں نصب کیے گئے وہ انتہائی جدید اور اعلی کوالٹی کے ہیں جو کہ زیادہ تر خفیہ ایجنسیاں استعمال کرتی ہیں۔
دوسری طرف سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر اور مصدق ملک نے سینیٹ کے نئے سکیورٹی انچارج وجاہت افضل سے ملاقات کی اور سینیٹ کی سکیورٹی کے حوالے سے پوچھا۔سکیورٹی انچارج وجاہت افضل نے اپوزیشن رہنماؤں کو بتایا کہ ابھی تک کسی نے سینیٹ کی سی سی ٹی وی ویڈیو تک رسائی حاصل نہیں کی۔
مصطفیٰ نواز کھوکھر نے سینیٹ کے سکیورٹی انچارج سے پوچھا کہ کیا ایوان بالا کی سی سی ٹی وی فوٹیج ابھی تک محفوظ ہے؟ جس پر جواب دیا کہ جی سی سی ٹی وی ویڈیو ابھی تک محفوظ ہے اور انھوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج کو محفوظ رکھنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔ اس موقع پر مصدق ملک نے اس کی ورنٹی انچارج کو یاد دہانی کروائی کہ اس کی کوئی ہیرا پھیری نہیں ہونی چاہیے۔ تاہم باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے سینٹ کی عمارت میں گھس کر یہ خفیہ کیمرے نصب کیے انہوں نے اپنی آمد اور رخصتی کا کوئی ثبوت پیچھے نہیں چھوڑا ہوگا۔
خیال رہے کہ سینیٹ میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے ہونے والی ووٹنگ سے قبل پولنگ بوتھ میں کیمروں کی تنصیب کی نشاندہی کے بعد اس معاملے کی تحقیقات کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے چھ سینیٹرز پر مشتمل کمیٹی بنا دی گئی ہے۔ سینیٹ چئیرمین کے الیکشن کے دوران پریزائیڈنگ افسر کا کردار ادا کرنے والے مظفر علی شاہ نے ایوان کو بتایا کہ انھوں نے سیکریٹری سینیٹ کو کیمروں کی تنصیب کے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اور حکومت دونوں جانب سے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے انھیں درخواستیں دی گئیں اور انھوں نے اس سلسلے میں ملنے والے ثبوت اور سی سی ٹی وی ریکارڈ سیل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
واضح رہے کہ کیمروں کی تنصیب کا انکشاف حزبِ اختلاف کے اتحاد پی ڈی ایم کے دو رہنماؤں مصطفیٰ نواز کھوکھر اور ڈاکٹر مصدق ملک نے کیا تھا جبکہ پیپلز پارٹی کی شیری رحمان نے دعویٰ کیا کہ کیمروں کے علاوہ پولنگ بوتھ کے قریب مائیکرو فون بھی نصب کیے گئے۔
ادھر اجلاس سے قبل ایوان بالا کے باہر سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ اس الیکشن کو خراب کرنے کی پوری سازش کی گئی ہے۔’ ایک یا دو نہیں بلکہ پورے چھ کیمرے برآمد ہوئے ہیں جبکہ مصدقہ خبر ہے کہ صادق سنجرانی صبح ساڑھے پانچ بجے ایوان سے گھر گئے ہیں۔انھوں نے الزام لگایا کہ ’خفیہ ادارے آئی ایس آئی اور آئی بی اس انتخاب کی نگرانی کر رہے ہیں اور وزیراعظم کو اس بارے میں رپورٹ کر رہے ہیں۔‘
دوسری جانب مصطفیٰ نواز کھوکھر اور مصدق ملک نے ٹی وی سکرین کے نیچے نصب کیمروں کی تصاویر سوشل میڈیا پر بھی شیئر کیں۔ ان کا الزام ہے کہ اس الیکشن میں خفیہ رائے شماری کے باوجود یہ دیکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ حکومتی اتحاد کے اراکین کسے ووٹ دیتے ہیں۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ انھوں نے شیری رحمان کی تجویز پر سینیٹ ہال کا جائزہ لیا تو انھیں سکرین کے نیچے دو کیمرے ملے۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ ’چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب سے قبل رات کے اخری پہر کس کے کہنے پر خفیہ کیمرے لگائے گئے؟‘
دوسری جانب وفاقی وزیر برائے اطلاعات شبلی فراز نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی طرف سے ایسی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ انھوں نے اپوزیشن پر الزام لگایا کہ یہ کیمرے خود ان کی جانب سے لگوائے گئے ہیں۔شبلی فراز نے اس معاملے کی بھرپور تحقیقات کروانے کا اعلان کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ یہ مسلم لیگ نون سمیت اپوزیشن کی اپنی سازش تھی۔ تاہم وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ بظاہر یہ سی سی ٹی وی کیمرے لگ رہے ہیں اور جاسوسی کے لیے استعمال ہونے والے کیمرے ایسے نہیں ہوتے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ’اصول کی بات ہے کہ کیمرے نہیں لگائے جا سکتے اور آج کل اتنے بڑے کیمرے تو بچوں کے پاس بھی نہیں ہوتے۔‘ انھوں نے مزید کہا ’دیکھ تو لیں کیمرے کام بھی کرتے ہیں یا نہیں۔فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر ایک پیچ میں نصب جدید خفیہ کیمرے کی تصویر بھی شیئر کی اور کہا جاسوسی کے لیے تو ایسے کیمرے استعمال ہوتے ہیں تاہم صورتحال اس وقت دلچسپ ہو گئی جب مصطفی کھوکر نے پولنگ بوتھ کے ساتھ ایک پارٹیشن میں نصب ایسا ہی ایک پیچ بھی ڈھونڈ نکالا اور اس کی تصویر فواد چوہدری کو ٹیگ کر کے ٹوئٹر پر شیئر کر دی۔ فواد چوہدری نے سیکریٹری سینیٹ سے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ وہ ’کیمروں پر کمیٹی بنا دیں اس سے پہلے کہ مصدق ملک اور مصطفیٰ کھوکر ساری وائرنگ کو کیمرے سمجھ کے اکھاڑ دیں۔‘ تاہم سینیٹ سیکریٹیریٹ کی جانب سے تاحال اس معاملے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک طرف اس معاملے پر کافی تشویش ظاہر کی جا رہی جبکہ دوسرا طبقے اسے غیر سنجیدہ معاملہ قرار دے رہا ہے۔
صحافی حامد میر نے لکھا کہ ‘یہ سب کچھ ایمرجنسی میں ہوا لگتا ہے۔ اسی لیے زیادہ مہارت نظر نہیں آرہی۔ چئیرمین سینیٹ کے الیکشن میں پولنگ بوتھ کے اوپر کیمرے لگا کر سیکرٹ بیلٹ کو اوپن کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اگر یہ کیمرے ہٹ گئے تو بازی پلٹ سکتی ہے۔’ نذیر لغاری نے اپنے پیغام میں کہا کہ ‘سینیٹ کے پولنگ بُوتھ کے اندر خفیہ کیمرے لگا کر آئین کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔’
