خواتین صحافیوں کو دھمکیاں: ISPR، وزارت اطلاعات کے نمائندے طلب

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خواتین صحافیوں کو ملنے والی دھمکیوں کے حوالے سے ان کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کراتے ہوئے آئی ایس پی آر اور وزارت اطلاعات کے نمائندوں کو قائمہ کمیٹی میں طلب کرلیا ہے۔
اسلام آباد میں چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس ہوا، جس میں خواتین صحافیوں اور وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے بھی شرکت کی۔انسانی حقوق کمیٹی میں خواتین صحافیوں کو ملنے والی دھمکیوں کا معاملہ زیر غور آگیا۔
خیال رہے کہ چند روز قبل خواتین صحافیوں نے مشترکہ بیان میں ’حکومت سے وابستہ لوگوں’ کی جانب سے کیے جانے والے آن لائن حملوں سے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ حکام نے لوگوں کو آن لائن حملوں کے لیے اکسایا اور اس کے بعد ٹوئٹر اکاؤنٹس پر بڑی تعداد میں شیئر کیا گیا اور انہوں نے اپنی وابستگی حکمراں جماعت سے ظاہر کی۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم آزادی صحافت چاہتے ہیں، خواتین کے خلاف اس طرح کے اقدامات ہماری ثقافت کے بھی خلاف ہیں۔معروف صحافی اور اینکرعاصمہ شیرازی نے کمیٹی کو اس حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ جب ورکنگ خواتین گھر سے نکلتی ہیں تو ان کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کا لندن میں انٹرویو کیا تھا لیکن وہ انٹرویو نہیں چلا جس پر میرے خلاف مہم چلائی گئی۔ عاصمہ شیرازی کا کہنا تھا کہ اسی طرح میں نے مریم نواز کا انٹرویو کیا اور وہ انٹرویو بھی نہیں چلا پھر میرے خلاف مہم شروع ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ ہمارے خلاف جتنی بھی گالیوں کی مہم چلتی ہے اس کا قصور وار تحریک انصاف کو نہیں ٹھہراؤں گی، خواتین کو جان بوجھ کر معاشرے کے دیگر طبقوں سے علیحدہ کیا جارہا ہے۔اپنی بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ اگر ایک ٹویٹ کردیں تو اس کے نیچے جو کمنٹس آتے ہیں ان کو بیان نہیں کرسکتے۔عاصمہ شیرازی نے کہاکہ مجھے ہراساں کرنے کے لیے 2 بار گھر میں لوگ گھسے جب کہ غریدہ فاروقی بولیں کہ پی ٹی آئی سمیت اکثر گروپوں نے خواتین صحافیوں کو ہراساں کرنے کےلیے ’ان آفیشل‘ اکاؤنٹس بنا رکھے ہیں۔
صحافی بینظیر شاہ نے کہاکہ وزیراعظم کے فوکل پرسن ارسلان خالد اور پنجاب حکومت کے اظہر مشوانی انہیں مسلسل ہراساں کر رہے ہیں۔ خاتون اینکر ریما عمر نے اپنے ریکارڈ کرائے گئے بیان میں کہا کہ خواتین کی آن لائن ہراسانی ایک ناقابل تردید حساس حقیقت ہے، کسی خاتون کی ترقی کی وجہ اہلیت کی بجائے ان کی جنسی خصوصیت کو قرار دیا جاتا ہے جب کہ میرے شوہر کے ساتھ میری تصویر کی جگہ کلبھوشن جادھو کی تصویر لگا دی گئی۔اس دوران پی ٹی آئی کے رکن عطاء اللہ نے بات کرنے کی کوشش کی تو چیئرمین کمیٹی بلاول بھٹو زرداری نے روک دیا اور کہاکہ خواتین صحافی آئی ہیں، انہیں سننا ضروری ہے، آپس کی بات کے لیے دو دن مزید بیٹھ سکتے ہیں۔
اس موقع پروفاقی وزیر شیریں مزاری نے کہا کہ میں خود ان حالات کا شکار رہی ہوں اوریہ معاملہ سوشل میڈیا ٹیم کے ساتھ اٹھایا ہے۔انہوں نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا ٹیم نے اس معاملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا، اس لیے اس معاملے کو سائبر کرائم ونگ کو بھیجنا چاہیے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ خاتون اول کے خلاف بھی ٹرولنگ کی گئی، محمل سرفراز نے خود اس طرح کے ٹوئٹس کیے تھے۔
خواتین صحافیوں سے انہوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف اس طرح کی ٹرولنگ کی شدید مذمت کرتے ہیں، آپ کو جو اکاؤنٹس پاکستان تحریک انصاف کے معلوم ہوتے ہیں وہ فراہم کریں۔وزیر انسانی حقوق نے خواتین صحافیوں سے دھمکیاں دینے والے لوگوں کے اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی مانگ لیں اور کہا کہ ہم خود اس طرح کی ٹرولنگ کا شکار رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ میری بیٹی اور میں خود اس تجربے سے گزر چکی ہیں، خواجہ آصف نے جب میرے متعلق ٹرک کا بیان دیا تو میرے کارٹون بھی بنائے گئے تھے۔شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ میرے شوہر مجھے کہتے ہیں کہ تمہیں کس نے کہا تھا کہ سیاست کرو اور اب گالیوں کو بھی بھگت لو۔
بلاول بھٹو نے خواتین صحافیوں کو دھمکیوں کے معاملے پر آئی ایس پی آر اور وفاقی وزارت اطلاعات کے نمائندوں کو طلب کرلیا۔انہوں نے کہا کہ آئی ایس پی آر اور وزارت اطلاعات کے نمائندوں کو اس معاملے پر درخواست کریں گے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے خواتین صحافیوں کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے انصاف نہیں دلا سکے تو پیپلزپارٹی عدالت میں جانے کے لیے بھی آپ کے ساتھ ہے۔
یاد رہے کہ 12 اگست کو خواتین صحافیوں کے ایک گروپ اور تجزیہ کاروں نے آن لائن حملوں سے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے حامی لوگوں کی جانب سے ان پر ’توہین آمیز حملے‘ کیے جارہے ہیں۔مختلف صحافتی اداروں سے تعلق رکھنے والی 16 خواتین صحافیوں اور تجزیہ کاروں نے مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ ‘آن لائن حملوں کے پیش نظر صحافتی صنعت میں کام کرنا انتہائی دشوار ہوگیا ہے’۔
ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’آن لائن ہراساں ہونے والی خواتین مختلف نظریات یا نقطہ نظر کی حامل ہیں جو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پر تنقید بھی کرتی ہیں’۔انہوں نے کہا تھا کہ ‘کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے حکومتی پالیسیوں پر مذکورہ خواتین نے شدید تنقید کی تھی’۔مشترکہ دستاویز پر دستخط کرنے والی خواتین صحافیوں اورتجزیہ کاروں میں محمل سرفراز، بے نظیر شاہ، عاصمہ شیرازی، ریما عمر اور منیزے جہانگیر شامل تھیں۔
اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ ‘خواتین صحافیوں اور تجزیہ کاروں کی تصاویر اور ویڈیوز منظم مہم کے تحت مسخ حالت میں پھیلائی گئیں، سوشل میڈیا پر جعلی خبر پھیلانے والا، عوام کا دشمن اور رشوت خور قرار دیا گیا تاکہ صحافتی ساکھ متاثر ہو’۔ان کا کہنا تھا کہ آن لائن حملہ کرنے والوں نے صنف کی بنیاد پر انہیں تضحیک کا بھی نشانہ بنایا اور جسمانی یا جنسی تشدد کی دھمکیاں دیں۔خواتین صحافیوں نے کہا تھا کہ ‘رپورٹروں اور تجزیہ کاروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو ہیک کرنے کی کوشش کی گئی اور معلومات تک ان کی رسائی محدود کردی گئی’۔انہوں نے کہا تھا کہ ‘میڈیا میں موجود خواتین کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر رہنے اور آزادانہ طور پر بات کرنے میں انتہائی مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ متعدد کو سیلف سینسر کے لیے مجبور کیا جارہا ہے’۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button