شمالی وزیرستان:خودکش حملے، ٹارگٹ کلنگ میں 10 افراد ہلاک

شمالی وزیرستان میں فوجی قافلے پر خود کش حملے اور ٹارگٹ کلنگ کے دو مختلف واقعات میں تین فوجیوں اور بچوں سمیت 10 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں، پہلا واقعہ میرعلی کے علاقے عیدک میں اس وقت پیش آیا جب ایک خودکش حملہ آور نے فوجی قافلے کو نشانہ بنایا۔

شمالی وزیرستان میں ہی صدر مقام میران شاہ میں گزشتہ شب ساڑھے نو بجے درپہ خیل کے علاقے میں ٹارگٹ کلنگ کا ایک واقعہ پیش آیا جس میں نیک ولی نامی ہوٹل کے نزدیک فائرنگ سے چار افراد ہلاک ہوئے، واضح رہے کہ دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کے یہ واقعات ایک ایسے وقت پیش آ رہے ہیں جب ٹی ٹی پی اور حکومت کے درمیان سیزفائر جاری ہے۔ حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان سمیت کسی گروپ نے تاحال تسلیم نہیں کی ہے۔

آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں خود کش حملے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ فوج کے تین اہلکار اس حملے میں ہلاک ہوئے، ہلاک ہونے والوں میں حوالدار زبیر قادر، سپاہی عزیر افسر اور سپاہی قاسم مقصود شامل ہیں۔ مقامی اہلکاروں کے مطابق خودکش حملہ اس وقت کیا گیا جبکہ فوجی گاڑی پوسٹ سے باہر نکلی، دھماکے میں سات سیکیورٹی اہلکار اور تین بچے زخمی ہوئے جن کو ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم آئی ایس پی آر کے مطابق زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے تینوں بچے ہلاک ہوئے۔ ان بچوں کی شناخت گیارہ سالہ احمد حسن، آٹھ سالہ احسن اور چار سال کی بچی انعم کے نام سے ہوئی ہے۔

ڈپٹی کمشنر شمالی وزیرستان اور مقامی صحافیوں نے بھی خودکش حملے میں ایک راہگیر بچے کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔حملے میں زخمی فوجی اہلکاروں میں سے تین کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا تاہم فی الحال کسی کی گرفتاری کی اطلاع نہیں ہے۔اس بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر شمالی وزیرستان شاہد خان نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں حملوں کا خطرہ ہے اور تھریٹ الرٹس آ رہے ہیں۔ ہماری سیکیورٹی فورسز نے کچھ دن پہلے ہی ایک خودکش حملہ آور کو ہلاک کیا ہے۔اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان سمیت کسی گروپ نے تاحال تسلیم نہیں کی ہے۔

Back to top button