خیبر پختونخواہ میں ہندو مندر کو جلانے والے لوگ کون تھے؟


خیبر پختونخوا کے ضلع کرک کی تحصیل بانڈہ داؤد شاہ میں مشتعل مظاہرین کی جانب سے ایک ہندو مندر کی توسیع روکنے کے لیے اسے آگ لگانے کے واقعے نے پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ برتے جانے والے متعصبانہ سلوک بارے بحث دوبارہ سے چھیڑ دی ہے اور ہندو کمیونٹی سے وابستہ صارفین اس افسوسناک رویے کی کھل کر مذمت کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان میں کسی مذہبی اقلیت کی عبادت گاہ کو نقصان پہنچانے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ گذشتہ چند برسوں کے دوران ہندو اور مسیحی برادری کی عبادت گاہوں پر حملے بھی کیے گئے، جن میں کئی افراد ہلاک بھی ہوئے۔
حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ونود مہیش وری نے ہندو مندر جلانے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’تم لوگوں نے مندر نہیں بلکہ ہمارا اندر جلایا ہے۔‘ سوال یہ ہے کہ مندر جلانے والے لوگ دراصل تھے کون؟ اس کا جواب ہے باریش افراد۔پر مبنی ایک مخصوص مذہبی شدت پسند ٹولہ جو پاکستان کے کونے کونے میں موجود ہوتا ہے۔

اس معاملے پر چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمد نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پی اور چیف سیکریٹری خیبرپختون خوا سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ٹیری کے مقام پر قائم ہندوؤں کی سمادھی اور مندر پر توسیع کا کام کیا جارہا تھا، جس کے خلاف مقامی افراد گزشتہ کئی روز سے احتجاج کر رہے تھے۔ 30 دسمبر کی صبح 100 سے زائد مشتعل باریش افراد نے دھاوا بولا اور زیر تعمیر مندر میں توڑ پھوڑ کرنے کے بعد اسے نذرآتش کردیا۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آوروں کا تعلق ایک سیاسی مذہبی جماعت سے تھا جسکے مقامی رہنماؤں کی قیادت میں مظاہرین کی ایک بڑی تعداد ٹیری کے علاقے میں اکھٹی ہوئی جہاں پر حملے سے پہلے انکے قائدین نے تقاریر کیں۔ انکا کہنا تھا کہ حکومت اور انتظامیہ کبھی بھی مندر کی توسیع کو نہیں روکیں گے۔ اس لیے آج ہمیں خود ہی اس پر کچھ کر گزرنا چاہیے۔ اسکے بعد مظاہرین کی بڑی تعداد نے مندر پر ہلہ بول دیا۔ اس موقع پر ڈنڈوں سے لیس مظاہرین نے مندر کی توسیع والے حصے کو شدید نقصاں پہنچایا اور اسے نذر آتش کر دیا۔ مظاہرین کافی دیر تک توڑ پھوڑ کرتے رہے جس کے بعد پولیس کی بھاری نفری پہنچی اور مشتعل مظاہرین کو منتشر کیا۔۔

پشاور میں مقیم ہندو اسکالر اور فیتھ ٹورازم انٹرنیشنل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہارون سرب دیال نے بتایا کہ یہ سمادھی ہمارے یوگی بزرگوں کی یاد میں قیامِ پاکستان سے پہلے سے موجود ہے۔ کرک کے اس علاقے میں ہمارے یوگی تارکِ دنیا ہو کر یہاں یوگ ابیساس یعنی جوگ لینا اور مراقبہ کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ قیام پاکستان سے پہلے ہی ہمارے کئی یوگی بزرگ اس مقام پر اپنی عبادت اور ہندو مذہب کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ جس میں سندھ کے ایک بزرگ کرشن دوارا بھی ریاضت اور جوگ کیا کرتے تھے۔ ان کے مطابق قیامِ پاکستان کے بعد اس علاقے سے آہستہ آہستہ تمام ہندو برادری منتقل ہوگئی۔ لیکن سندھ سے ہمارے کرشن دوارا کو چاہنے والے ہندو بھائی ہر جمعرات کو عبادات و زیارت کے لیے اس مقام پر حاضری دیتے ہیں۔ ہارون سرب دیال کے مطابق یہ علاقہ ایک مذہبی ٹورازم کی حیثیت بھی اختیار کرتا جا رہا تھا۔ جب بڑی تعداد میں ہندوؤں نے یہاں آنا شروع کیا تو ہماری برادری نے حکومت کی اجازت کے ساتھ سمادھی کی توسیع کا منصوبہ بنایا تھا اور پیسے اکٹھے کر کے مندر کے اردگرد کی کچھ اور زمین بھی خرید کر اسمیں مذید جگہ بنانے کا کام شروع کیا۔

تاہم ایک مقامی صحافی ڈاکٹر اسحاق کے مطابق ہندوؤں کے مذکورہ مذہبی مقام پر طویل عرصے سے تنازع چل رہا تھا۔ یہ معاملہ عدالتوں میں بھی گیا جہاں سے چار مرلہ کے حوالے سے ہندوؤں کے حق میں فیصلہ ہوا تھا۔ اسحاق کے مطابق کچھ عرصے سے ہندوؤں نے اپنے مذہبی مقام کے اردگرد مالکان سے بات چیت کرکے جائیداد کو خریدنا شروع کیا اور مندر کی توسیع شروع کر دی تھی۔ جس سے مقامی لوگ ناراض تھے اور اس پر احتجاج بھی ہو رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی طور پر اس علاقے میں کوئی بھی ہندو موجود نہیں ہے۔ اس مقام پر ہفتے دس دن بعد ان کے وفود آتے رہتے ہیں جن کا مقامی لوگ بہت خیال رکھتے تھے۔ لیکن انکا کہنا تھا کہ مذکورہ مقام کی اپنی ایک اہمیت ہے۔ یہاں پر سندھ سے لوگ تو آتے ہی تھے مگر دوسرے ممالک سے بھی ہندو یہاں آتے ہیں جس سے مذہبی سیاحت کو فروغ مل رہا تھا۔

پاکستان ہندو کونسل کے چیئرمین کے مطابق سپریم کورٹ نے 2014 میں مندر کی تعمیر کے حق میں فیصلہ دیا تھا اور اس کی تعمیر کا آغاز 2016 میں ہوا تھا۔ یاد رہے کہ قیام پاکستان سے قبل اس علاقہ میں ہندوؤں کی اکثریت ہوتی تھی اور اسی لیے یہ مندر بنا تھا۔ دوسری جانب سپریم کورٹ آف پاکستان کے ایک اعلامیے میں بتایا گیا کہ چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد سے رکن قومی اسمبلی اور پاکستان ہندو کونسل کے پیٹرن ان چیف ڈاکٹر رمیش کمار نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران کرک میں ہجوم کی جانب سے ہندو بزرگ شری پرم ہنس جی مہاراج کی سمادھی کی بے حرمتی اور اسے نذرآتش کرنے کے واقعہ پر تبادلہ خیال ہوا۔ اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس پاکستان نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور رکن قومی اسمبلی کو بتایا کہ انہوں نے پہلے ہی اس معاملے کا نوٹس لیا ہے اور منگل 5 جنوری 2021 کو اسلام آباد میں اس کی سماعت مقرر کردی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ معاملے کو سماعت کےلیے مقرر کرنے کے ساتھ ساتھ اقلیتی حقوق کے ایک رکنی کمیشن، چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا اور آئی جی خیبر پختونخوا کو ہدایات کی ہیں کہ وہ مذکورہ مقام کا دورہ کریں اور 4 جنوری 2021 تک اپنی رپورٹ جمع کرائیں۔

اس حوالے سے پولیس حکام کا کہنا تھا کہ ہندو بزرگ کی سمادھی کو نذرآتش کرنے کے واقعے کے بعد پولیس نے رات گئے 28 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ گرفتاری کی اس خبر پر ایک سوشل میڈیا صارف پریم رتھی نے سوال اٹھایا اور لکھا: ’کیا یہ اس بات کی ضمانت ہے کہ دوبارہ کسی مندر پر حملہ نہیں کیا جائے گا؟‘ ایک اور صارف ریکھا مہیش وری نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا: ’جناب وزیراعظم، آپ نے مندر حملے پر کوئی ٹویٹ نہیں کی، کیا ہندو برابر کے پاکستانی شہری نہیں ہیں۔‘

ریکھا مہیش وری کے اس ٹویٹ کے جواب میں تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے حکومتی ایم این اے رمیش کمار نے لکھا: ’بلاول، مریم اور نواز شریف کی جانب سے بھی کوئی ٹویٹ نہیں کی گئی۔ یہ سب اقتدار کے بھوکے اشرافیہ ہیں اور عوام کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس سے بے نیاز ہیں۔‘ ریکھا مہیش وری نے مزید لکھا: ’میں ہندو پیدا ہوئی تھی اور ہندو ہی مروں گی۔‘ سماجی کارکن کپل دیو نے بھی وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا: ’خان صاحب اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم یہاں محفوظ محسوس کریں تو اس وحشیانہ واقعے کا نوٹس لیں ورنہ کبھی یہ دعویٰ نہ کریں کہ پاکستان میں تمام اقلیتیں محفوظ ہیں اور ان کے حقوق محفوظ ہیں۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button