داعش جنگجو پاکستان پہنچ گے، دہشتگردی کے واقعات تیز
افغانستان میں طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد وہاں موجود اسلامک سٹیٹ یعنی داعش کا جہادی نیٹ ورک اب نئے اور محفوظ ٹھکانوں کی تلاش میں آہستہ آہستہ پاکستان کا رخ کر رہا ہے جس سے پاک افغان سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات میں تیزی آگئی ہے۔
یاد رہے کہ افغانستان پر قبضے کے بعد افغان طالبان نے اپنے تمام مخالفین کو عام معافی دے دی تھی لیکن داعش کو معاف نہیں کیا تھا۔ چنانچہ کابل پر قبضے کے فوری بعد طالبان نے جیلوں میں قید تحریک طالبان پاکستان کے 700 سے زائد جنگجوؤں کو تو رہا کر دیا تھا لیکن داعش کے گرفتار سربراہ ابو عمر خراسانی کو جیل سے نکال کر قتل کر دیا گیا تھا۔ سلفی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے داعش کے سربراہ عمر خراسانی کا اصل نام مولوی ضیاالحق تھا جس کا تعلق افغانستان کے صوبہ کنڑ کے ضلع سوکئی سے تھا۔ عمر خراسانی جانوروں کی طرح انسانوں کو مارنے کے لیے بدنام تھا اور اسی وجہ سے افغان طالبان نے اپنے تمام مخالفین کے لئے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے داعش کو معافی نہیں دی تھی۔ اسی لیے اس سے قبضہ کرتے ہی فوری طور پر قتل کر دیا گیا۔
اب چونکہ پورے افغانستان پر طالبان کا قبضہ ہو چکا ہے لہذا وہ داعش کے لیے غیر محفوظ ہوتا جا رہا ہے۔ اس لیے اب یہ اطلاعات ہیں کہ محفوظ ٹھکانوں کی تلاش میں بڑی تعداد میں داعش کے جنگجو پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں۔ ان کے پاکستان آنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ داعش کے زیادہ تر جنگجو پہلے تحریک طالبان کا حصہ تھے اور ان کا تعلق بنیادی طور پر پاک افغان سرحدی علاقوں سے تھا۔
یاد رہے کہ داعش خراسان دراصل دولت اسلامیہ نامی یا داعش نامی تنظیم کی علاقائی شاخ ہے جو افغانستان اور پاکستان میں متحرک ہے۔ یہ افغانستان کی جہادی تنظیموں میں سے سب سے زیادہ انتہا پسند اور متشدد تنظیم سمھجی جاتی جو 2015 میں داعش کے عراق اور شام میں عروج کے زمانے میں قائم کی گئی تھی۔ داعش پاکستان اور افغانستان میں جہادی بھرتی کرتی ہے جن میں طالبان کے وہ ارکان بھی شامل ہوتے ہیں جو انتہا پسندی کی آخری حدوں کو چھونا چاہتے ہیں۔ داعش پر حالیہ برسوں میں گھناؤنی ترین کارروائیوں کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے جن میں لڑکیوں کے سکولوں، ہسپتالوں اور میٹرنٹی وارڈ پر حملے بھی شامل ہے جن میں حاملہ عورتوں اور نرسوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
لہٰذا اس متشدد اور انتہا پسند تنظیم کے اراکین کا پاکستان میں داخل ہونا ایک بڑے خطرے کی علامت ہے۔ سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ داعش سے وابستہ لوگوں نے پاکستان میں داخل ہونے کے بعد دہشت گردی کی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ داعش کی قیادت سمجھتی ہے کہ افغانستان میں طالبان کے برسر اقتدار آنے کی بنیادی وجہ پاکستانی مدد ہے لہٰذا اب وہ یہاں دہشتگرد حملوں سے حساب برابر کرنا چاہتے ہیں۔ اس وقت داعش کی دہشتگردانہ کارروائیوں کا مرکز بلوچستان بنتا ہوا نظر آتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد داعش کے علاوہ بلوچ علیحدگی پسند گروپوں کے جنگجو بھی پاکستان واپس آنا شروع ہو گئے ہیں اور انہوں نے یہاں کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ یاد رہے کہ چند روز پہلے پاکستانی سکیورٹی فورسز نے ایک آپریشن کے دوران داعش بلوچستان کے مقامی امیر ممتاز عرف پہلوان کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔
اس سے پہلے ایک اور آپریشن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے داعش سے تعلق رکھنے والے 11 افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔ وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے بھی بلوچستان میں داعش کی موجودگی کو تسلیم کرتے ہوئے اسکے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے بھی حالیہ دنوں میں ایک انٹرویو میں پاکستان کو درپیش خطرات میں داعش، بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیموں اور کالعدم تحریکِ طالبان کی نشاندہی کی تھی۔
بلوچستان حکومت کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق صرف اگست میں دہشت گردی کے 41 واقعات ہوئے جن میں سب سے زیادہ 16 حملے مکران ڈویژن میں ہوئے۔ بلوچستان میں فورسز میں سب سے زیادہ فرنٹیئر کور کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے خلاف 14 حملے کیے گئے جبکہ عام شہریوں پر 20 حملے ہوئے۔ چینی شہریوں اور پاکستان فوج کے خلاف ایک ایک حملہ کیا گیا۔ بلوچستان میں رواں برس اب تک دہشت گردی کے واقعات میں 25 سے زائد سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد 40 سے زائد ہے۔
