دنیائے کرکٹ میں تہلکہ مچانے والے انوکھے ترین آئوٹ کونسے؟

آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ2023 سری لنکا اور بنگلہ دیش کےدرمیان جاری ورلڈ کپ کے 38 ویں میچ میں اس وقت دلچسپ صورتِ حال پیدا ہوئی جب سری لنکا کے بیٹر انجیلو میتھیوز کو امپائر نے کریز پر دیر سے پہنچنے کی وجہ سے’’ٹائم آؤٹ‘‘ قرار دے دیا۔ ورلڈکپ کے میچ میں پہلی بار سری لنکا کے اینجیلو میتھوز بغیر کوئی گیند کھیلے آؤٹ ہوگئے۔کرکٹ کی تاریخ میں یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ کوئی کھلاڑی انوکھے طریقے سے آؤٹ ہوا ہو، اسی طرح کہ کافی واقعات ہیں، جنوبی افریقہ کے 1951 میں انگلینڈ کے دورے کے دوران اوول کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے جانے والے 5 ویں ٹیسٹ میچ میں بھی ایک انوکھا آؤٹ دیا گیا جب انگلینڈ کے بیٹر لین ہٹن کو اس وقت امپائر نے آؤٹ قرار دے دیا جب ان کے بلے سے گیند لگنے کے بعد وکٹ کو لگنے لگی اور انہوں نے تذبذب میں گیند کو دوبارہ بیٹ سے روک دیا۔نومبر 1987 میں پاکستان کے بیٹر رمیز راجہ نے انگلینڈ کے خلاف کھیلے جانے والے ایک روزہ میچ کی آخری گیند پر اپنی سینچری مکمل کرنے کے لیے درکار 2 رنز کے تعاقب میں پہلا رن مکمل کرنے کے بعد دوسرا رن لینے اور رن آؤٹ سے بچنے کے لیے گیند کو دوبارہ سے ہِٹ کر دیا جس پر امپائر نے انہیں آؤٹ قرار دیا۔1989 میں بھارت اور سری لنکا کے درمیان ایک روزہ میچ میں بھارتی بیٹر مہیندرا آمرناتھ کو فیلڈنگ میں رکاوٹ ڈالنے پر امپائر کی طرف سے آؤٹ قرار دے دیا گیا تھا۔انہوں نے گیند کو لات مار کر اس وقت دوسری طرف پھینک دیا تھا۔ جب سری لنکن فیلڈرز رتنائیکے اور ارجنا رانا ٹنگا انہیں رن آؤٹ کرنے کے لیے گیند پکڑنے جا رہے تھے۔سابق پاکستانی کپتان اور لیجنڈ بیٹرانضمام الحق کو 2006 میں بھارت کے خلاف کھیلے جانے والے ایک روزہ میچ میں اس وقت آؤٹ قرار دے دیا گیا جب ان کی کھیلی گئی شاٹ پر بھارتی فیلڈر سریش رائنا نے فیلڈنگ کرتے ہوئے گیند وکٹ کی طرف پھینک دی اورانضمام الحق نے گیند کو اپنے بلے سے روک دیا اور بھارتی ٹیم کی اپیل پر انہیں آؤٹ قرار دیا گیا، سابق پاکستانی کپتان محمد حفیظ کو فیلڈ میں رکاوٹ ڈالنے پر مارچ 2013 میں جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلے جانے والے ایک روزہ میچ میں اس وقت آؤٹ قرار دیا گیا جب انہوں نے وکٹوں کے درمیان دوسرا رنز لیتے ہوئے اپنی لائن تبدیل کی اور اے بی ڈیویلیئرز کی تھرو انہیں لگی۔اسی قانون کے تحت پاکستانی آل راؤنڈر بیٹر انور علی کو 2013 میں جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلے جانے والے دوسرے ایک روزہ میچ میں بھی آؤٹ قرار دیا گیا۔انہوں نے رن لیتے ہوئے اپنی لائن تبدیل کی۔ جس کی وجہ سے فیلڈر کی تھرو ان کے کندھے پر لگی جو کہ امپائرز کے مطابق رن آؤٹ سے بچنے کے لیے انور علی کی دانستہ کوشش تھی۔انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان 2015 میں کھیلے جانے والے ایک روزہ میچ کے 26ویں اوور کےمیں انگلش بیٹر بین اسٹوکس کو امپائرز نے اس وقت آؤٹ قرار دے دیا۔ جب آسٹریلوی بولر مچل اسٹارک نے بین اسٹوکس کو کرائی جانے والی بال پر فیلڈنگ کرتے ہوئے انہیں رن آؤٹ کرنے کی کوشش میں گیند سے وکٹ کو نشانہ بنایا تاہم گیند بین اسٹوکس کے بائیں ہاتھ پر لگی جوکہ اس وقت کریز سے باہر تھے۔1947 میں بھارتی بولر ’ونو منکڈ‘ نے سڈنی کے گراؤنڈ میں آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ میچ میں ’بل براؤن‘ کو کریز سے جلد نکلنے پر نان سٹرائیکینگ پر آؤٹ کیا تھا۔نان سٹرائیکینگ بلے باز کو رن آؤٹ کرنے کے اس طریقے کا نام ہندوستانی کرکٹر ونو مانکڈ کے نام پر رکھا گیا ہے، کرکٹ میں مینکڈ کرکے آوٹ کرنے کا یہ طریقہ کافی عرصے تک متنازعہ رہا۔

Back to top button