دنیا کے کروڑوں افراد کے ہاتھوں میں یہ ‘لکیر’ کیوں موجود نہیں ہوتی؟

یقین کرنا مشکل ہوگا مگر ہمارا جسم کسی میوزیم سے کم نہیں، جس میں ایسے قدیم فیچرز موجود ہیں جن کا مقصد اب سمجھ نہیں آتا۔عقل داڑھ سے لے کر اپنڈکس اور بھی بہت کچھ ایسا ہے جن کی موجودگی کا مقصد سائنسدانوں کی سمجھ سے باہر ہے۔

ان میں سے ایک چیز ہمارے ہاتھوں میں چھپی ہے بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ اب بھی بیشتر افراد کی کلائیوں میں اسے دیکھا جا سکتا ہے مگر متعدد اس سے محروم بھی ہوتے ہیں۔درحقیقت دنیا میں 15 فیصد افراد ایسے بھی ہیں جن کی کلائی میں یہ چیز موجود نہیں اور وہ ہے ایک مخصوص مسل۔

اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہ مسل ہاتھوں میں موجود ہے یا نہیں تو کسی سپاٹ میز پر ہاتھ کو رکھیں اور پھر چھوٹی انگلی سے انگوٹھے کو چھوئیں۔ایسا کرنے پر کیا آپ کو کلائی کے درمیان میں ایک مسل یا لکیر نظر آئے گی جو کسی حد تک ابھری ہوئی ہوگی؟

اگر ہاں تو آپ دنیا کے ان 85 فیصد افراد میں شامل ہیں جن کے ہاتھوں میں اب بھی پامیرس لونگس نامی یہ مسل موجود ہے۔مگر 15 فیصد افراد پیدائشی طور پر ایک یا دونوں ہاتھوں میں اس مسل کے بغیر پیدا ہوتے ہیں۔

Back to top button