دوڑ ’آگے‘ کی طرف اے گردشِ ایام تُو

تحریر:حماد غزنوی، بشکریہ : روزنامہ جنگ
تاریخ شاہد ہے، ڈوڈو سے ڈائنو سور تک، جو انواعِ حیات ضدی ہوتی ہیں مِٹ جاتی ہیں، جب کہ زندگی کے لچک دار مظاہر کرہ ارض کے بدلتے حالات سے ہم آہنگ ہو کر اپنی بقا کا بندوبست کر لیا کرتے ہیں۔ تہذیبوں کا بھی یہی معاملہ ہے، طرزِ کہن پر اڑے ہوئے معاشرے فنا کے گھاٹ اتر جاتے ہیں، اور یارانِ تیز گام محمل کو جا لیتے ہیں۔ آپ سب جانتے ہیں پرنٹنگ پریس کی طرف مسلمانوں کا کیا رویہ تھا، تین سو سال تک ترک بادشاہوں اور علما نے اسے’حرام‘ سمجھا، اور اس’ نجاست‘ سے اسلامی دنیا کو پاک رکھا۔ مسلمانوں کے نزدیک پرنٹنگ پریس پر چھپنے سے ’توہین قرآن‘ کا پہلو نکلتا تھا۔ ہماری بد بختیوں کا کھرا ان تین ظلمت زدہ صدیوں تک جاتا ہے۔ یہ رلا دینے والی داستان ہے، یہ طرزِ کہن پر اڑنے والی ایک ضدی تہذیب کا نوحہ ہے۔
اور اب اس سے بھی دردناک قصہ سنیے یعنی ’خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں۔‘ ہم آج بھی ’توہین‘ کے معاملات میں الجھے ہوئے ہیں، ہم آج بھی نئی دنیا کے ’شر‘ سے پناہ مانگ رہے ہیں، جون بھائی نے کہا تھا ”تھے عجب دھیان کے درودیوار…. گِرتے گِرتے بھی اپنے دھیان میں تھے۔“بے شک، پاکستان مسلمانوں کی اس تاریک روایت کا سب سے مستند وارث ہے۔ ہمارے مسائل آج بھی دنیا سے نرالے ہیں، ہم نے جن رنگلے پایوں پر اس ملک کی کھاٹ کھڑی کی ہے وہ سب کے سب فرضی ہیں، سب کے سب خیالی۔ چند نمونے دیکھیں، ہمیں بتایا گیا ہے کہ”پاکستان قائم رہنے کے لیے بنا ہے“۔ اس کا کیا مطلب ہوا؟قائد کا پاکستان تو 1971 میں ٹوٹ گیا تھا۔ جواب ملتا ہے، پاکستان ستائیسویں رمضان کو وجود میں آیا تھا اللہ اس کا محافظ ہے۔ میرے بھائی، خلافتِ صالح سے خلافتِ عثمانیہ تک درجنوں مسلم ریاستیں تاریخ کے گردباد میں گم ہو گئیں تو ہم کیا بیچتے ہیں، ریاستوں کے قائم رہنے اور پھلنے پھولنے کے اپنے اصول ہوتے ہیں، ان سب اصولوں کی نفی کر کے ہم کیسے زندہ رہ سکتے ہیں۔ آگے چلئے، ”ہندوستان ہمارا وجود مٹانا چاہتا ہے۔“بجا ارشاد، لیکن ایک بات سمجھائیے، پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تین جنگیں ہوئی ہیں، اور تینوں جنگیں ہم نے آغاز کی تھیں، مٹانا وہ ہمیں چاہتے تھے اور یلغار ہم ان پر کرتے رہے، بات کچھ سمجھ نہیں آئی۔
اور سنیں، ”کشمیر ہماری شہ رگ ہے،کشمیر بنے گا پاکستان۔“ ذرا تحمل سے سوچئے، یہ کیا نعرے ہیں، پچھتر سال ہم نے یہ نعرے لگائے، کشمیر کے شوق میں ملک دولخت کروایا، اور آخر بھارت نے کشمیر ہڑپ کر لیا تو کیا دنیا نے بھارت پر معاشی پابندیاں لگا دیں، ان کا تجارتی بائیکاٹ کر دیا؟ ایسا تو کچھ نہیں ہوا۔ بات صرف یہ ہے کہ ہندوستان نے پچھتر سال کشمیر کو ضم کرنے کی علمی اور معاشی تیاری کی، ہم نے نہیں کی۔ ہم نے صرف ضد کی۔ ہمیں بتایا گیا کہ ساری ترقی یافتہ دنیا ہمارے خلاف ہے اس لیے کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے، ہماری نیو کلیئر طاقت کے خلاف مسلسل سازش ہو رہی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اندازہ لگائیے کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس میں آج بھی اس کی غایتِ تخلیق پہ گرما گرم بحثیں ہوتی ہیں۔ اس خیالی دنیا کی دلدل میں دھنسے رہنے کا ’فائدہ‘ یہ ہوا کہ عام پاکستانی کو اس کی بنیادی ترین انسانی ضروریات بھی مہیا نہیں کی جا سکیں۔ زخم زخم عوام کو فراموش کر کے ہم ہوا میں تلواریں چلاتے رہے، ظلم یہ ہوا کہ عوام بھی اسی پیرانویا کا شکار ہو گئے، خیالی دشمنوں سے نبردآزما، فرضی معرکوں کے مجاہد۔
پاکستان کے سیاسی و معاشرتی منظر نامے پر نگاہ ڈالیں تو اس ذہنی ساخت کے مظاہرے جا بہ جا نظر آتے ہیں، عقل دشمنی کا چلن عام ہے، کسی دربار سے بیٹے ملتے ہیں، کوئی سرکارسوٹی مار کے کینسر کا علاج کرتے ہیں، مقدس ہستیوں کو خوابوں میں دیکھنے والے صحافیوں کا کاروبار خوب چمکتا ہے، پولیو ورکرز کو قتل کر دیا جاتا ہے ، اور گاہک بھی سب ہی خوش ہیں یہ سودا خرید کر۔آسمانِ سیاست پر بھی فرضی طیور کی خیالی چہچہاہٹ سے ہمہ ہمی رہتی ہے۔ ابھی کچھ دنوں کی بات ہے کہ کروڑوں پاکستانی مہینوں تک ایک ’سائفر‘ کو ڈی کوڈ کرنے کے جتن کرتے رہے، بہت دن امریکی سازش اور ’ امپورٹڈ‘ حکومت کی خِرد دشمن داستان سنتے رہے، کبھی کچھ کبھی کچھ۔
جس معاشرے میں لوگ کامل خلوص سے ’ڈیم فنڈ‘ میں عطیات دیتے ہوں، اور جہاں بہت سے لوگ پوری دیانت داری سے سمجھتے ہوں کہ حکومت چوروں کا دو سو بلین ڈالر ملک میں لے آئے گی ، اس معاشرے کے بارے فکر مندی ضروری ہو جاتی ہے۔ کوئی بچہ ایک منٹ میں آپ کو گوگل کر کے بتا سکتا ہے کہ انسانی تاریخ میں نہ کبھی اس طرح ڈیم بنا ہے، نہ کالا دھن واپس آیا ہے۔دنیاداریوں کو مذہب کا ٹیکہ کیسے لگتا ہے، ملاحظہ فرمائیے۔ بشارتیں ہوتی ہیں ایک آدمی سے طلاق لے کر دوسرے سے شادی کر لو۔ یہ ’بشارت‘ بیچ میں کہاں سے آ گئی۔ شادی کی اصل وجہ بتاتے ہوئے شرم آئے تو روحانیت کی دھند میں بدصورتی چھپا ئی جاتی ہے۔ ذرا غور کیجیے کہ سیاستدان مرشد کہلوانا پسند فرما رہے ہیں۔ زمان پارک میںایک کم عمر مقرر نے اگلے روز اکرام اللہ نیازی اور شوکت خانم کو انسانی تاریخ کے دوسرے خوش قسمت ترین والدین قرار دے دیا اور وہاں موجود پارٹی قیادت نے تالیاں پیٹ کر اسے داد دی۔
یہ غیر عقلی معاشرے کی جھلکیاں ہیں، یہ خِرد باختہ لوگوں کا احوال ہے، جنہیں یقین دلا دیا گیا ہے کہ دو جمع دو چار نہیں ہوتے ، جو نظر کے سامنے ہے جھوٹ ہے، بشارتیں، الہام اور خواب اصل حقیقت ہیں، ان دوستوں کا ایقان ہے کہ قوموں کو سڑکوں اور بجلی کے کارخانوں کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ قومیں لنگر خانوں اور پناہ گاہوں سے بنتی ہیں۔ امید ہے آپ کو اس دماغی ساخت کی سمجھ آ گئی ہو گی جس نے 1485 میں پرنٹنگ پریس پر پابندی لگائی تھی۔
