دوہری شہریت کیس میں واوڈا کی نااہلی کا امکان


بالآخر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پچھلے تین برسوں سے تاخیری حربے استعمال کرتے ہوئے اپنی دوہری شہریت کا کیس لٹکوانے والے فیصل واوڈا کی قسمت کا فیصلہ کرنے کا ذہن بنا لیا ہے۔ اس سلسلے میں چیف الیکشن کمشنر راجہ سکندر سلطان نے کیس کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک بینچ تشکیل دیا ہے جو واوڈا کے الیکشن 2018 میں اپنی دوہری شہریت چھپانے کے الزامات کی سماعت کرے گا۔
اس کیس کی سماعت 15 ستمبر 2021 کو نثار احمد درانی اور شاہ محمود جتوئی پر مشتمل دو رکنی بنچ کرے گا۔ یہ درخواست فیصل واوڈا کے مخالف امیدوار عبدالقادر مندوخیل کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ فیصل واوڈا کی دوہری شہریت کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی ایک درخواست زیر سماعت تھی تاہم اس پر فیصلہ آنے سے پہلے واوڈا نے بطور رکن قومی اسمبلی استعفی دے دیا تھا تا کہ نا اہلی سے بچ سکیں۔ اگرچہ واوڈا کے مستعفی ہونے کی وجہ سے یہ درخواست غیر موثر ہوگئی تھی لیکن اسلام آباد ہائی کورٹ نے تب اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ اگر فیصل نے 2018 کے انتخابات میں اپنی دوہری شہریت کو چھپایا ہے تو الیکشن کمیشن ان کے خلاف کارروائی کرنے کا مجاز ہے۔ فیصل ووڈا اس وقت سینیٹ کے رکن ہیں۔
خیال رہے کہ دہری شہریت کیس کا سامنا کرنے والے فیصل واوڈا نے پاکستان کے نظام انصاف کے ساتھ مذاق کرتے ہوئے پہلے تو اڑھائی برس تک اپنے خلاف دائر نااہلی کیس میں تاخیری حربے استعمال کئے اور پھر سینیٹر بننے کے لیے قومی اسمبلی سے استعفیٰ دے دیا۔ تاہم آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ دوہری شہریت کے معاملے پر غلط بیانی کرنے کی وجہ سے ان کا سینیٹ میں رہنا مشکل ہے کیونکہ اب الیکشن کمیشن آف پاکستان ان کے کیس کا فیصلہ کرنے جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق 15 ستمبر کو اس کیس کی سماعت شروع ہونے پر جھوٹا بیان حلفی جمع کروانے کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے فیصلوں کو بطور نظیر استعمال کرتے ہوئے الیکشن کمیشن واوڈا کو نااہل قرار دے سکتا ہے جس کے بعد ان کی سینیٹر شپ بھی ختم ہو جائے گی۔
واضح رہے کہ اسلام آبادہائیکورٹ نے اپنے 3 مارچ 2022 کے فیصلے میں لکھا تھا کہ بادی النظر میں واوڈا کا الیکشن کمیشن میں جمع کروایا جانے والا حلف نامہ جھوٹا ہے جس کی انہیں سزا ملنی چاہیئے۔ عدالت نے واوڈا کے خلاف نااہلی کیس میں اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ وفاقی وزیر کے مستعفی ہونے کے باعث انھیں قومی اسمبلی کی نشست سے نااہل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ تاہم سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق جھوٹا بیان حلفی جمع کرانے کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں جس کا فیصلہ اب الیکشن کمیشن کر سکتا ہے۔
یاد رہے کہ درخواست گزار کی طرف سے واوڈا پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ انھوں نے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کے لیے الیکشن کمیشن میں جمع کروائے گے بیان حلفی میں حلفاً کہا تھا کہ وہ دوہری شہریت کے حامل نہیں ہیں حالانکہ تب انکے پاس امریکہ کی شہریت تھی۔ لہذا بیان حلفی میں غلط بیانی کرنے پر انہیں آئین کے تحت نااہل قرار دیا جائے۔

Back to top button