دو برس میں سب الٹ کرنے کا ریکارڈ بنانے والی کٹھ پتلی سرکار

2018 کے انتخابات میں وسیع پیمانے پر پولیٹیکل انجینئرنگ اور دھاندلی کے ذریعے اقتدار دلوائے جانے کے دو برس بعد آج پاکستان تباہی کے دہانے پر کھڑا نظر آتا ہے اور سلیکٹڈ کا۔لقب پانے والی حکومت ہر محاذ پر ناکامی سے دو چار نظر آتی ہے۔دو فقروں میں کپتان سرکار کی کارکردگی بیان کرنا ہو تو اتنا کہنا ہی کافی ہوگا کہ موجودہ حکومت نے برسر اقتدار آنے کے بعد سے ابتک عوام کو سوائے مہنگائی، بیروزگاری، پریشانی اور تکلیف کے اور کچھ نہیں دیا۔
حکومتی ناقدین کا یہ کہنا ہے کہ عمران خان نے گزشتہ دو سال کے طرز حکومت سے خود کو ایک کٹھ پتلی حکمران ثابت کیا ہے جو اب تک اسٹیبلشمنٹ کی بیساکھیوں کے سہارے چل رہا ہے لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ ان دو برسوں میں صرف اپوزیشن رہنماؤں کے احتساب کے ایجنڈے پر چلنے کی بجائے عوام کی فلاح کا کوئی منصوبہ بھی بناتے جو انکے دور اقتدار میں تاریخ ساز معاشی بد حالی کا شکار ہو گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران کے اصل چیلنجز تو اِن کے معیشت، احتساب، طرز حکمرانی اور سفارت کاری کے شعبے سے متعلق وہ وعدے اور اعلانات ہیں جو ان کی انتخابی مہم اور منشور کا حصہ تھے۔تحریک انصاف حکومت ان شعبوں میں کس حد تک کامیاب یا ناکام ہوئی آئیے جانتے ہیں۔
ماہرین معاشیات کہتے ہیں کہ عام آدمی کو معیشت سے متعلق اعداد و شمار، ملکی قرضے یا خسارے سے کوئی غرض نہیں، وہ صرف معیشت کو اشیائے ضرورت کی قیمتوں اور روزگار کے دستیاب مواقعوں کے پس منظر میں دیکھتا ہے۔ اگر یہی پیمانہ رکھا جائے تو ماہرین کے مطابق گذشتہ دورِ حکومت کے اختتام پر آٹے کی فی کلو قیمت 32 روپے تھی جو اب 52 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ اسی دورانیے میں چینی کی قیمت 55 روپے سے بڑھ کر 110 روپے ہو گئی ہے۔
حکومت کے سالانہ پلان کی رپورٹ برائے 2020-21 کے مطابق ملک میں بیروزگار افراد کی تعداد 40 لاکھ سے بڑھ کر 60 لاکھ ہونے کی توقع ہے۔ پچھکے دو سال میں معیشت کی حالت ابتر ہوئی ہے اور جی ڈی پی پیداوار نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں آبادی مسلسل بڑھ رہی ہو اور اس میں جی ڈی پی نہ بڑھے تو یہ ایک بڑا سیٹ بیک ہے۔ خیال رہے کہ تحریکِ انصاف کی حکومت نے حال ہی میں ختم ہونے والے مالی سال 20-2019 کے دوران مجموعی طور پر 13 ارب ڈالر مالیت کے بیرونی قرض حاصل کیے۔ جو ملکی تاریخ میں حاصل کردہ قرضوں کا دوسرا بڑا حجم ہے۔
گزشتہ دو مالی سالوں کے دوران 29 ارب 20 کروڑ ڈالر مالیت کے بیرونی قرضے حاصل کیے گئے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق حاصل کردہ قرضوں میں سے 19 ارب 20 کروڑ ڈالر کی رقم پہلے سے حاصل کردہ قرضوں کی واپسی کے لیے استعمال کی گئی۔ یاد ریے کہ تجارتی خسارہ مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں 20 ارب ڈالر تھا جو تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے سال میں 10 ارب ڈالر تک لایا گیا اور اب یہ خسارہ تقریباً تین ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ جو ایک بڑی کامیابی ہے۔ لیک مسلہ یہ یے کہ عام آدمی حکومتی قرضوں یا خسارے کو نہیں دیکھتا بلکہ عام آدمی کے لیے یہ اہمیت رکھتی ہے کہ اس کی اشیائے ضرورت اس کی دسترس میں ہیں یا نہیں، اور ماہرین کے مطابق اس سطح پر عوام حکومت سے نالاں نظر آتی ہے۔
کپتان سرکار کے دو برسوں میں پاکستان کو سفارتی سطح پر بھی بڑے چیلنجز کا سامنا رہا۔ عمران خان نے حکومت میں آتے ہی انڈیا کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھایا مگر پلوامہ اور پھر بالاکوٹ حملے اور لائن آف کنٹرول پر دونوں ملکوں کے درمیان شدید تناؤ نے تعلقات کو بدترین سطح پر پہنچا دیا۔ رہی سہی امید اس وقت دم توڑ گئی جب انڈیا نے یکطرفہ طور پر اپنے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی۔ وزیر اعظم پاکستان نے عالمی سطح پر اس معاملے کو اٹھایا اور کئی ماہرین اسے پی ٹی آئی کی کامیابی قرار دیتے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ہی کشمیر کے معاملے پر او آئی سی کا اجلاس طلب کروانے میں ناکامی اور بیشتر مسلم ممالک کی جانب سے اس معاملے پر کھل کر پاکستان اور کشمیر کے حق میں بیانات نہ آنا ایک سفارتی ناکامی کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ حال ہی میں سعودی عرب سے متعلق وزیر خارجہ کے بیان کو جہاں کئی حلقوں کی جانب سے سفارتی آداب کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے، وہیں متعدد ماہرین سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اب خاص لائن سے ہٹ کر اپنے مفادات کی جانب بڑھ رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ گذشتہ دو برسوں میں اپوزیشن کے ساتھ تعلقات تو خراب تھے ہی مگر پی ٹی آئی کے اندر بھی تقسیم در تقسیم کی سیاست کافی کھل کر سامنے آئی۔ ایک بڑی کابینہ ہونے کے باوجود ان دو برسوں میں ’کنفیوژن‘ اور ’افراتفری‘ کا تاثر ملتا رہا اور بعض حکومتی وزرا جیسا کہ فواد چودھری نے تو ببانگ دہل پارٹی کے اندرونی اختلافی باتیں کیں۔ حکومت میں آنے کے بعد عمران خان کا سب سے بڑا نعرہ مالی بے ضابطگیوں میں ملوث افراد کے خلاف اعلان جنگ تھا۔ انھوں نے ملک کے لوٹی ہوئی دولت قومی خزانے میں واپس لانے، گڈ گوورننس اور مضبوط معیشت قائم کرنے جیسے اعلانات کیے، مگر سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ حکومت کا ہدف صرف ’مخالفین‘ ہی رہے ہیں۔
لیکن ان کے اس ارادے کو ایک بہت بڑا دھچکا اس وقت لگا جب ان کی اپنی ہی ٹیم میں شامل ان کے قریبی ساتھیوں کے نام انکوائری کے بعد منظر عام پر آئے۔ سیاسی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ عمران خان کی تمام تر سیاست احتساب کے گرد گھوم رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دو سال سے احتساب کا عمل جاری ہے مگر اس پر اب وہی سوالیہ نشان ہیں جو ماضی میں مختلف حکومتوں کے ادوار میں اٹھائے گئے۔ جب احتساب سے انتقام کی بو آنے لگے تو اس کے شفافیت پر حرف آجاتا ہے۔ ان دو سالوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ احتساب کا نزلہ اب بھی مخالفین پر گرتا ہے، اور وہی الزامات جب پی ٹی آئی کے اپنے رہنماؤں یا حکومتی حلیفوں پر لگتے ہیں تو ان سے نرمی برتی جاتی یے۔ ان ھالات میں موجودہ حکومت کے آئندہ تین برسوں میں بھی انھیں بہتری کی امید نہیں ہے جس کی وجہ ان کے خیال میں نیب قوانین میں اصلاحات کا نہ ہونا ہے۔ اور اس کا ذمہ دار وہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ’ورکنگ ریلیشن شپ‘ کے فقدان کو سمجھتے ہیں۔
دوسری جانب عمران خان اور فوج کے درمیان تعلقات کو بھی کچھ حلقے تنقید اور کچھ بہتر حکمت عملی قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کی حکومت پر الزام لگتا رہا کہ ‘اصل حکومت ملک کے طاقتور فوجی حلقے چلا رہے ہیں’ جبکہ اس کے حق میں بولنے والے کہتے ہیں کہ ‘یہ خوش آئند ہے کہ فوج اور حکومت ایک ہی صفحے پر ہیں۔ تجزیہ کار کہتے ہیں فوج کے ساتھ حکومتی تعلقات میں اتار چڑھاؤ تو چلتا رہتا ہے، ابھی فوج کے ساتھ تعلقات تو بہتر نظر آتے ہیں۔ مگر کئی خدشات جو حکومت کی خراب کاکردگی کے متعلق عام آدمی کے ذہن میں ہیں وہ فوج میں بھی موجود ہیں۔ مگر یہ واضح ہے کہ اس وقت ان کے پاس کوئی اور چوائس موجود نہیں کہ حکومت تبدیل ہوتی نظر آئے۔ دوسری جانب بدقسمتی سے موجودہ حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ اپنے تعلقات کو اس قدر خراب کر دیا ہے کہ اس کا بھی نقصان حکومت کو ہوتا ہے۔
پاکستان کے ماضی کے سیاسی منظر نامے کو دیکھتے ہوئے عام طور پر تین یا چار ماہ کے بارے میں ہی بات کی جاتی ہے۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ حکومت کے دو سال گزر جائیں تو کم از کم ایک بیانیہ اپنی موت آپ مر جاتا ہے، یعنی ’ہم تو نئی حکومت ہیں‘ یا یہ کہ ’پچھلی حکومت کا بویا کاٹ رہے ہیں‘، کیونکہ دو سال کی مدت کسی بھی حکومت کے لیے ایک بڑا عرصہ سمجھی جاتی ہے۔ لہذا پچھکے دو برسوں میں ہر محاذ پر ناکامی کی داستان رقم کرنے کے بعد اگلے برسوں میں کپتان سرکار کو کچھ تو ایسا کر کے دکھانا ہوگا کہ لوگ اسے جانے کے بعد بھی اچھے لفظوں میں یاد رکھیں۔
