دپیکا پڈوکون بھارتی طلباء کے ساتھ کھڑی ہوگئی

بالی وڈ کی ڈمپل گرل دپیکا پڈوکون کی جانب سے نئی دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں ہونے والے پر تشدد واقعے پر طلبہ سے اظہار یکجہتی کے جرات مندانہ اقدام پر افواجِ پاکستان کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بھی خوب سراہا اور ان کی بہادری کو سلام پیش کیا۔ مگر اپنے ٹوئٹر پیغام میں دپیکا کی بہادری کی تعریف کرنے کے بعد نجانے کیا ہوا کہ انہوں نے یہ ستائشی ٹویٹ اپنے اکاؤنٹ سے ڈیلیٹ کر دی۔
بھارت میں دپیکا کے اقدام کو ناپسند کرنے والوں نے ان کی آنے والی فلم چھپاک کے بائیکاٹ کی مہم بھی شروع کردی ہے۔ حالیہ دنوں بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں واقع جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں درجنوں نقاب پوش مسلح افراد نے حملہ کیا جس میں سٹوڈنٹ یونین کے صدر سمیت کئی طلبہ زخمی ہوئے، اس واقعے کی دنیا بھر میں مذمت کی گئی۔ مبینہ طور پر حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سٹوڈنٹ ونگ سے تعلق رکھنے والے مسلح افراد کو اس بات کا غصہ تھا کہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلباء متنازعہ شہریت بل کے خلاف احتجاج کیوں کررہے ہیں؟ غنڈہ گردی کے اس اقدام کے خلاف جہاں بہت سوں نے سوشل میڈیا پر طلبا سے اظہار یکجہتی کیا وہیں دپیکاپڈوکون نے دو قدم آگے بڑھتے ہوئے یونیورسٹی کیمپس میں انٹری دے کر طلبہ پر ہونے والے تشدد کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔
جب 7 جنوری کی شام دیپیکا اچانک یونیورسٹی پہنچیں تو طلباء کے حوصلے مزید بلند ہوئے۔ اگرچہ دپیکا نے وہاں مجمعے سے خطاب نہیں کیا تاہم انہوں نے اسٹوڈنٹس یونین کی صدر آئیشی گھوش سے ملاقات کی اور اس کے علاوہ چند دوسرے لوگوں سے بھی بات کی اور طلبہ کے ساتھ تصاویر بھی بنوائیں۔ جس کے بعد دپیکا وہاں کچھ دیر رہیں اور پھر چلی گئیں۔ دپیکا کے اس اقدام کو بھارتی سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے خوش آئند قرار دیا گیا اور بھارت میں ’آئی سپورٹ دپیکا‘ ٹاپ ٹرینڈ چل پڑا ۔ دوسری طرف کچھ سوشل میڈیا صارفین جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طَلبہ کے احتجاج می دپیکا کی شمولیت کو ’انڈیا مخالف‘ قرار دیتے ہوئے ان پر تنقید بھی کر رہے ہیں اور ان کی فلم ’چھپاک‘ کے بائیکاٹ کےلیے مہم چلا رہے ہیں۔
تاہم حیران کن طور پر دیپیکا کو شاباش دینے والوں میں آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور بھی شامل ہیں۔ 7 جنوری کی رات آصف غفور نے اپنے ذاتی ٹوئٹر اکاونٹ سے دیپیکا کی بہادری کو داد دیتے ہوئے ٹویٹ کیا جس میں انہوں نے لکھا کہ میں دپیکا کی تعریف کرتا ہوں کہ وہ مظلوم طلبہ اور سچ کے ساتھ کھڑی ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات میں جرآت مندانہ فیصلہ کرکےدپیکا بہادری کی علامت بنی ہیں اور بہت عزت کمائی ہے۔ دپیکا نے اپنے اقدام سے ثابت کیا ہے کہ انسانیت کسی بھی اور چیز سے بالاتر ہے۔
تاہم کچھ ہی دیر بعد آصف غفور نے اپنا ٹویٹ ڈیلیٹ کردیا جس کی وجوہات سامنے نہیں آ سکیں۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی پر مقلد مسلح نقاب پوش افراد کے حملے کے بعد بالی وڈ اداکارہ سوارا بھاسکر نے سوشل میڈیا پر اپنی ایک ویڈیو شیئر کی تھی جس میں انہوں نے اپیل کی تھی کہ کوئی جے این یو جائے اور وہاں جو ہو رہا ہے اسے روکے وہ بہت پریشان ہیں کیوں کہ ان کے والدین وہاں رہتے ہیں۔اداکارہ سونم کپور اور ٹوئنکل کھنہ نے بھی جے این یو پر ہونے والے حملے کو بہیمانہ قرار دیا ہے لیکن دپیکا پڈوکون کے یونیورسٹی جانے کو ’انتہائی ہمت‘ کا کام سمجھا جا رہا ہے۔
معروف بھارتی اخبار کی سابق مدیر مالنی پارتھا سارتھی نے ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ’اداکارہ دپیکا پاڈوکون کا جے این یو کے درد و غم میں مبتلا طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی بہت مضبوط اور معنی خیز عمل ہے۔ انہوں نے اپنی فلم کے بائيکاٹ کا خطرہ مول لیتے ہوئے بتا دیا ہے کہ وہ سلیبرٹی سے پہلے ایک انسان ہیں۔ امید ہے کہ دوسرے بالی وڈ والے اس اہم وقت کو پہنچانیں گے اور کھڑے ہوں گے۔فلم فیئر نے جے این یو میں دپیکا کی ایک تصویر پوسٹ کی اور لکھا کہ یہ تصویر ہزار الفاظ میں کہی جانے والی باتیں بیان کرتی ہے۔ دپیکا پاڈوکون دہلی کے جے این یو میں جاری مظاہرے میں۔
معروف مصنف شوم وج نے لکھا: دپیکا پاڈوکون کو سلام۔ جے این یو کے ساتھ اظہار یکجہتی مودی کے ساتھ بالی وڈ سٹارز کی ہزار سیلفیوں سے بہتر ہے۔ یہ سیلفیاں مودی کی دعوت پر ہیں اور کون ہے جو وزیر اعظم کو منع کر دے؟ دپیکا رضا کارانہ طور پر جے این یو میں ہیں اس لیے اصل ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ گزشتہ دنوں شہریت کے ترمیمی قانون کی مخالفت میں بولنے والے اداکاروں کے مقابلے میں نئے قانون کے حق میں دکھانے کے لیے وزیر اعظم مودی نے بالی وڈ کے بہت سے فنکاروں کو مدعو کیا تھا اور یہ پیغام دیا تھا کہ لوگوں کے ہردلعزیز فنکار ان کے حق میں ہیں۔ خیال رہے کہ 10 جنوری کو دپیکا پاڈوکون کی فلم چھپاک ریلیز ہو رہی ہے جس میں انہوں نے تیزاب کے حملے کا شکار ایک لڑکی کا کردار ادا کیا ہے اور اس فلم کے لیے دائیں بازو کے نظریات کے حامل بہت سے سرکرم افراد کی جانب سے بائیکاٹ کا سامنا ہے۔ بھارتی حکومت کے خلاف ہونے والے احتجاج میں شرکت کرنے پر انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے دیپیکا پڈوکون کو غدار قرار دیا جا رہا ہے۔ آر ایس ایس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ دیپیکا پڈوکون ہندوتوا کی مخالفت میں کھل کر سامنے آگئی ہیں لہذا ان کا بائیکاٹ کرنا چاہیے جس کے بعد انتہا پسند ہندوؤں نے دپیکا پڈوکون کی فلم کے ایڈوانس ٹکٹس کینسل کروانا شروع کر دیے ہیں اور سوشل میڈیا پر بائیکاٹ دیپیکا پڈوکون ٹرینڈ کر رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button