’’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘‘ کا دوسرا ٹریلر جاری کر دیا گیا

معروف ہدایتکار بلال لاشاری کی رہنمائی میں بننے والی فلم ’’ دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘‘ کا یوم آزادی کے موقع پر دوسرا ٹریلر ریلیز کر دیا گیا ہے، عمارہ حکمت کی پروڈکشن میں بننے والی فلم کو رواں برس 13 اکتوبر کو ریلیز کرنے کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ تین منٹ سے بھی کم دورانیے کے ٹریلر کو یوم آزادی کے موقع پر ریلیز کیا گیا تھا، جس میں فلم کی تمام مرکزی کاسٹ کو دکھایا گیا ہے، ٹریلر سے عندیہ ملتا ہے کہ نئی فلم بھی پہلی فلم کی طرح پنجابی زبان میں ہی ہوگی، تاہم ممکنہ طور پر اس میں اردو بھی شامل ہوگی۔
فلم میں فواد خان، حمزہ علی عباسی، ماہرہ خان اور حمیمہ ملک سمیت نیر اعجاز کے کرداروں کو دکھایا گیا ہے، ٹریلر سے عندیہ ملتا ہے کہ فلم میں بہترین ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اس کی عکسبندی جدید ترین انداز میں کی گئی ہے۔ فلم میں ماہرہ خان کو فواد خان کی محبوبہ کے طور پر دکھایا گیا ہے جبکہ فواد خان اور حمزہ علی عباسی کو ایکدوسرے کے مخالفین کے طور پر دکھایا گیا ہے، فلم میں فواد خان ’’مولا جٹ‘‘ جبکہ حمزہ علی عباسی ’نوری نت‘ کے طاقتور ولن کے روپ میں دکھائی دیں گے، فلم کے ٹریلر میں تمام کرداروں کو پنجابی زبان بولتے ہوئے دکھایا گیا ہے جبکہ اس میں پنجاب کی دیہی زندگی کی جھلک بھی دکھائی گئی ہے۔
’’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘‘ سے قبل ’’مولا جٹ‘‘ کے نام سے پروڈیوسر محمد سرور بھٹی نے 1979 میں بھی پنجابی زبان میں فلم بنائی تھی، جس میں سلطان راہی اور مصطفیٰ قریشی نے مولا جٹ اور نوری نت کے کردار ادا کیے تھے، سرور بھٹی نے نئی فلم کی ٹیم پر کاپی رائٹس کا کیس بھی دائر کیا تھا، جس پر بعد میں دونوں کے درمیان نامعلوم شرائط پر معاہدہ ہو گیا تھا۔ ’’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘‘ کو ابتدائی طور پر 2013 کے بعد بنانے کا اعلان کیا گیا تھا اور طویل عرصے بعد 2017 میں اس کی پہلی جھلکیاں جاری کی گئی تھیں، فلم کا ٹریلر 2018 میں ریلیز ہونے کے بعد اس فلم کی ٹیم کا اسی نام سے بنائی گئی پرانی پنجابی فلم کی ٹیم سے تنازع ہوا اور معاملہ عدالتوں تک جا پہنچا تھا۔ دو سال بعد 2020 میں ان کے درمیان معاہدہ ہوا تو ملک میں کرونا کی وجہ سے سینما بند ہوگئے اور فلم کی نمائش روک دی گئی، اب اسے رواں برس اکتوبر میں ریلیز کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے، جس پر شائقین بہت خوش دکھائی دے رہے ہیں۔
