رانا ثناء اللہ کا شہریار آفریدی کوعدالت میں بلانے کا مطالبہ

مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور ممبر قومی اسمبلی رانا ثناء اللہ کا نے وزیر مملکت شہریار آفریدی اور ڈائریکٹر جنرل انسداد منشیات فورس (اے این ایف) میجر جنرل عارف ملک کو عدالت میں بلانے کا مطالبہ کر دیا۔
منشیات برآمدگی کیس میں انسداد منشیات کی خصوصی عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا شہریار آفریدی اور ڈی جی اے این ایف کو عدالت میں بلایا جائے اور پوچھا جائے کہ اگر سازش ہوئی ہے تو بتایا جائے کس نے سارش کی؟ وہ ویڈیو بھی لائیں جس کا تذکرہ کیا گیا تھا۔ رانا ثناء اللہ نے کہا عدالت میں بھی یہی کہا کہ یہ بات عیاں ہو گئی ہے کہ یہ کیس سیاسی انتقام ہے، حکومت نے بدترین سیاسی انتقام کی بنیاد پر جھوٹا مقدمہ قائم کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو ختم کرنے کے لیے جھوٹے اور بے بنیاد کیسز بنانے کا طریقہ کار اپنایا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا مہنگائی بہت زیادہ ہے اور لوگوں کے کاروبار بند ہو چکے ہیں، اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے حکومت ایشوز بناتی ہے۔ رہنما ن لیگ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا مشترکہ اجلاس ہونے جا رہا ہے، عوامی مسائل پر ضرور لائحہ عمل بنائیں گے، اپوزیشن عوامی مسائل کو بھرپور طریقے سے اٹھائے گی۔
نواز شریف سے متعلق پوچھے گئے سوال پر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ جو مریض اپنے گھر سے اسپتال جا سکتا ہے تو کیا وہ ہوٹل نہیں جا سکتا؟ یاد رہے کہ چند روز قبل سابق وزیراعظم نواز شریف کی لندن کے ہوٹل میں ایک تصویر سوشل میڈیا کی زینت بنی تھی جس پر فواد چوہدری اور فیاض الحسن چوہان نے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا تھا۔
ایک اور سوال کے جواب میں رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ 2020 میں مڈٹرم انتخابات ہوں گے اور اس حکومت سے چھٹکارا ملے گا۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اپوزیشن کو مصروف رکھنے کیلئے جھوٹے مقدمے بنائے جا رہے ہیں، میرے خلاف مقدمہ سیاسی انتقام ہے، شہریارآفریدی نے قسم کھا کر کہا کہ میرے خلاف سازش میں نہ وہ ملوث ہیں نہ وزیراعظم، تو اس میں کون ملوث ہے۔ سرکاری وکیل نے عدالت میں کہا ان کے پاس جو تھا عدالت میں پیش کر دیا شہریار آفریدی اور ڈی جی اے این ایف کو عدالت میں طلب کیا جائے.
دوسری طرف مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ کے خلاف انسداد منشیات عدالت میں آج بھی فرد جرم عائد نہ ہوسکی۔
واضح رہے کہ انسداد منشیات عدالت نے رانا ثنا اللہ کو فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی کے لیے طلب کیا تھا۔
انسداد منشیات عدالت کے جج شاکر حسن نے سماعت کا آغاز کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ سے کہا کہ وہ بھی بیٹھ جائیں۔جس پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ‘میں اپنا کیس دیکھنا چاہتا ہوں’۔اس دوران عدالت میں رانا ثنا اللہ کے وکیل سید فرہاد علی شاہ نے کہا کہ میرے موکل کے خلاف چالان پیش کر دیا گیا لیکن رانا ثنا اللہ کی فوٹیج نہیں لگائی گئی۔انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق پراسیکیوشن کو تمام ثبوت چالان کے ساتھ جمع کرانے چاہیے اور اگر اے این ایف کے پاس کوئی فوٹیج نہیں ہے تو عدالت کو تحریری اپنا بیان دے۔
سید فرہاد شاہ نے کہا کہ چالان کے ساتھ لف کی گئی تمام دستاویزات رانا ثنا اللہ کو فراہم نہیں کی گئیں تاہم صرف چالان کے 2 صفحات دینے سے کارروائی مکمل نہیں ہوتی۔انہوں نے کہا کہ سی ڈی آر، کیمیکل تجزیہ، ایف آئی اے کی سفر کی تفصیلات کے خطوط فراہم نہیں کئے گئے جبکہ رانا ثنا اللہ پر الزام لگایا گیا ہے کہ ملزم کا بیرون اسمگلروں سے روابط تھے۔انہوں نے اپنے موقف میں کہا کہ رانا ثنا اللہ کی سفری ہسٹری کا مراسلہ انتہائی اہم ہے اور جب چالان پیش کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ لف دستاویزات کی کاپیاں فراہم کرنا بھی قانونی تقاضا ہے۔
رانا ثنا اللہ کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکل کے خلاف سیاسی کیس بنایا گیا، میڈیا کے ذریعے پورے پاکستان میں یہ جھوٹ بتایا گیا کہ رانا ثنا اللہ بین الاقوامی منشیات فروش ہیں۔انہوں نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کے خلاف جو بھی ثبوت ہیں ان کی کاپیز بھی ہمیں دے دیں اور فوری ٹرائل کا آغاز کر دیں۔جس کے بعد اے این ایف کے وکیل کے دلائل نے کہا کہ اس مرحلے میں رانا ثنا اللہ کو ثبوت کی کاپیاں فراہم نہیں کی جا سکتیں کیونکہ اسپیشل انوسٹی گیشن ٹیم ان کے خلاف تحقیقات کر رہی ہے۔
علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ اے این ایف کے چالان کے ساتھ مکمل دستاویزات لف کر دیے گئے ہیں اور ہم نے تو چالان عدالت میں جمع کرا دیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ رانا ثنا اللہ کے وکلا ٹرائل میں تاخیر کے لیے حربے استعمال کر رہے ہیں اور ہم عدالت سے استدعا کرتے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر ان کے خلاف ٹرائل کا حکم دے۔جس پر رانا ثنا اللہ کے وکیل نے کہا کہ اے این ایف کے وکیل بیان دے دیں کہ ان کے پاس رانا ثنا اللہ کی کوئی فوٹیج نہیں ہے ہم فرد جرم عائد کروا لیتے ہیں۔اس دوران انسداد منشیات عدالت کے جج شاکر حسن نے ریمارکس دیے کہ ‘میری گاڑی تھڑد کلاس گاڑی ہے نہ مجھے اسٹینو دیا جا رہا ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘میں نے تین مرتبہ متعلقہ منسٹری کو لکھا کے لیکن کوئی جواب نہیں دیا گیا’۔
علاوہ ازیں رانا ثنا اللہ کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ میرے وکل کی جان کو خطرہ ہے اور وہ ایک اپوزیشن لیڈر بھی ہیں اس لیے انہیں ان کی بلٹ پروف گاڑی اے این ایف کی کسٹڈی سے واپس دی جائے۔جس پر اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ رانا ثنا اللہ نے کبھی نہیں کہا کہ ان کی زندگی کو خطرہ ہے اور جو گاڑی منشیات سپلائی ہو اسے کس طرح واپس دی جاسکتی ہے۔عدالت نے رانا ثنا اللہ کے خلاف کیس کی سماعت 8 فروری تک ملتوی کر دی۔
بعدازاں رانا ثنا اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلے جج کو واٹس ایپ پر تبدیل کر دیا گیا کیونکہ وہ حکومت کی بات نہیں مان رہے تھے اور اب موجودہ جج کو اسٹینو گرافر اور گاڑی نہیں دی جا رہی۔انہوں نے کہا کہ پہلے ڈھائی ماہ تک عدالت میں جج ہی تعینات نہیں تھے۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ‘وفاقی وزیر مملکت شہریار آفریدی کہتے رہے کہ ایک ملزم کو فیصل آباد سے پکڑا اور اس کے مزید گرفتاریاں کیں اور ان تمام زیر حراست کا تعلق رانا ثنا اللہ سے ان کا تعلق ثابت ہوا تو ان ملزموں کو عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا جاتا’۔انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعظم عمران خان اور شہریار آفریدی میرے خلاف سازش میں شامل نہیں تو حکومت پتہ کرے کہ کون اس سازش کا ذمہ دار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘اگلی سماعت پر ہم شہریار آفریدی اور ڈی جی اے این ایف کو عدالت میں بلانے اور ویڈیو پیش کرنے کی استدعا کریں گے’۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ‘آج ثابت ہو گیا کہ میرے خلاف بدترین سیاسی انتقام کی بنیاد پر جھوٹا مقدمہ گھڑا گیا’۔
