راولپنڈی ایکسپریس شعیب اختر نےسچن ٹنڈولکر کے پاؤں کیوں پکڑ لئے؟

بھارت کے سابق کپتان نریندر سہواگ نے انکشاف کیا ہے کہ ایک بار پاکستان کے فاسٹ باؤلر نے سچن ٹنڈولکر کے قدموں میں گِر گئے تھے کہ کہیں سچن کی شکایت پر آئی سی سی ان پر پابندی نہ لگا دے۔ شعیب نے ایسا کیا جرم کیا کہ وہ اتنے خوفزدہ ہو گئے؟ اس کی تفصیل میں جانے سے پہلے، یہ بات طے ہے کہ پاک بھارت کرکٹ میچ خواہ دنیا کے کسی کونے میں ہو نہ صرف پاکستانیوں اور بھارتیوں کے دلوں کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں بلکہ اسلام آباد اور دہلی کا درجہء حرارت بھی اچانک بڑھ جاتا ہے۔۔ دوسری طرف دونوں ملکوں کے میڈیا پر لفظی بلے بازی اور باؤنسرز کا سلسلہ چل نکلتا ہے، سوشل میڈیا کے چیتے الگ مورچے سنبھال لیتے ہیں۔۔ بہرحال پاکستان اور بھارت کا میچ ہو اور فضا میں ہیجانی کیفیت نہ ہو ایسا ممکن نہیں۔
بھارت میں ایسے ہی ایک سنسنی خیز میچ کے دوران یہ دلچسپ واقعہ پیش آیا جس کی بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے یا پھر یہ نریندر سہواگ کا کمال ہے کہ وہ یہ واقعہ کسی کو بھولنے نہیں دیتے۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم بھارت کے دورے پر تھی، جب کھلاڑیوں کے اعزاز میں منعقدہ ایک پارٹی کے دوران ہمارے سپیڈ سٹار شعیب اختر بھارتی بلے باز سچن ٹنڈولکر کے پاؤں پڑ گئے کہ وہ کسی طرح انھیں معاف کردیں۔ سہواگ کے مطابق پارٹی زوروں پر تھی، پینے پلانے کا شغل بھی جاری تھا، شعیب اختر شاید کچھ زیادہ ہی موج مستی کے موڈ میں تھے۔۔انھوں نے جوش میں آ کر سچن کو کندھوں پر اٹھانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں دونوں فرش پر گِر گئے۔ اب شعیب جو اس وقت اتنے منہ پھٹ نہیں تھے، عمر بھی 23/24 سال تھی، سچن کے گِرنے سے خوفزدہ ہو گئے اور ان سے معافی مانگنے لگے۔ سچن اس زمانے میں شعیب سے کہیں زیادہ ہیوی تھے، چنانچہ سچن کو اٹھانے کی کوشش میں توازن برقرار نہ رکھ سکے۔۔ سہواگ نے یہ دیکھا تو ہنسنا شروع کر دیا۔ باقی کرکٹرز نے بھی شعیب کا خوب مذاق اڑایا لیکن سہواگ ان سب میں پیش پیش تھے۔ انھوں نے کہا، شعیب تم تو گئے، آئی سی سی میں شکایت ہو گئی تو تمھارا کیریئر ختم کیونکہ تم نے بھارت کے نمبر ون کھلاڑی کو زمین پر پٹخ دیا ہے۔۔ جس پر شعیب ڈر گئے اور لگے سچن سے معافیاں مانگنے اور تو اور وہ سچن کے قدموں میں بیٹھ گئے کہ جب تک انھیں معافی نہیں ملے گی، وہ نہیں اٹھیں گے۔ سہواگ کہتے ہیں کہ وہ اور سچن آج بھی جب اکٹھے ہوتے ہیں تو یہ واقعہ یاد کر کے بہت ہنستے ہیں۔ کرکٹ کی دنیا اس قسم کے واقعات سے بھری پڑی ہے، ویسے بھی دو مخالف ٹیموں کے کھلاڑی جب گراؤنڈ میں نہیں ہوتے تو مل کر خوب موج میلا کرتے ہیں لیکن جب گراؤنڈ میں اترتے ہیں تو لگتا ہے ایک دوسرے کے جانی دشمن ہیں۔ جیسے شعیب کہتے تھے کہ باؤلنگ کرواتے وقت ان کا دل چاہتا، سچن کا ہیلمٹ ہی اُڑا دیں بلکہ ایک میچ میں تو انھوں نے سچن کو زخمی کرنے کا تہیہ کر لیا تھا۔۔ یعنی کھلاڑیوں میں دوستیاں یاریاں گراؤنڈ میں اترنے سے پہلے تک ہی ہوتی ہیں، جب میچ پڑتا ہے تو مخالف کو چاروں شانے چِت کرنے کے سوا کچھ یاد نہیں رہتا!!

Back to top button