راہول گاندھی نے نریندر مودی کو سرنڈر مودی کیوں قرار دیا؟

لداخ میں تعینات چین کی ریڈ آرمی کے ہاتھوں 20 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے باوجود وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے کوئی ردعمل نہ دینے اور مسلسل خاموشی پر سیخ پا ہو کر کانگریس پارٹی کے سربراہ راہول گاندھی نے نریندر مودی کو سرنڈر مودی کا خطاب دے ڈالا ہے جس کے بعد بھارتی وزیراعظم اپنے سیاسی کیریئر کے مشکل ترین بحران کا شکار ہوگئے ہیں۔
یاد رہے کہ انڈیا چین سرحد کی لمبائی ساڑھے تین ہزار کلو میٹر ہے جبکہ پاک انڈیا بارڈر کی طوالت بھی تین ہزار تین سو کلومیٹر سے کم نہیں۔ لداخ کی سرحد پر تعینات چین اور بھارت کے فوجیوں کو ہتھیار رکھنا ممنوع ہے لیکن پھر بھی ایک حالیہ بارڈر جھڑپ کے دوران چین کی ریڈ آرمی کے جوانوں نے 20 بھارتی سورماؤں کو لاتوں اور مکوں سے ہی مار ڈالا۔ بیس فوجیوں کا مرنا اور وہ بھی کسی دہشت گرد یا خود کش کے ذریعے نہیں، کسی چھوٹے سے چھوٹے ملک کے لیے بھی ناقابلِ برداشت ہوتا ہے جبکہ انڈیا کوئی چھوٹا ملک بھی نہیں۔ تاہم اپنے فوجیوں کے مرنے کے بعد بھارت نے چین کی کسی بھی سرحد پر کسی قسم کا کوئی ردعمل نہیں دیا اور نہ ہی کوئی فوجی کارروائی کی۔
دوسری طرف اگر پاکستان کے ساتھ معمولی سی جھڑپ بھی ہو جائے تو بھارت اس کو ایک بین الاقوامی ایشو بنا دیتا ہے۔
جب نومبر 2008 کو ممبئی دہشت گرد حملوں میں ایک سو چھیاسٹھ شہری مارے گئے تھے تو بھارت نے ایک طوفان کھڑا کر دیا تھا اور اس واقعے کے اثرات پاکستان آج دن تک محسوس کر رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی عمارت سے واشنگٹن کے سٹیٹ ڈپارٹمنٹ تک اور اجمل قصاب کی سزائے موت سے سے لے کر مطلوب ملزم زکی الرحمان لکھوی اور حافظ سعید کی پاکستانی عدالتوں کے ذریعے گوشمالی تک ایک ایسا باب ہے جو بارہ برس سے کھلا ہوا ہے اور بند ہونے کا نام نہیں لیتا۔
اسی طرح 18 ستمبر 2016 کو کشمیر کی لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب واقع اڑی چھاؤنی پر حملے میں انیس بھارتی فوجی اور چار حملہ آور ہلاک ہو گئے۔ چند گھنٹے میں ہی انڈیا اس نتیجے پر پہنچ گیا کہ یہ میڈ ان پاکستان کارروائی ہے۔ چنانچہ ’گھس کے ماریں گے‘ کا نعرہِ مستانہ بلند ہوا۔ پاکستان سے ہر طرح کا سفارتی، سیاسی، تجارتی ثقافتی لین دین و رابطہ معطل ہو گیا۔ اس دوران مودی سرکار نے سرحد پار کوئی سرجیکل سٹرائیک بھی کی جس کا ریکارڈ آج تک کلاسیفائیڈ ہے۔ البتہ بالی وڈ اڑی اور سرجیکل سٹرائکس پر فلمیں بنا چکا ہے۔
جب 14 فروری 2019 کو کشمیری قصبے پلواما کے قریب ایک خودکش نے بارودی ٹرک اڑا دیا اور چالیس کے لگ بھگ انڈین نیم فوجی جوان ہلاک ہوئے تب بھی چند ہی گھنٹے کے اندر اندر خود کش کے قدموں کے نشانات اسلام آباد تک جاتے ہوئے پہچان لیے گئے۔
ایک بار پھر گھس کے ماریں گے کا غلغلہ ہوا۔ ایک ہفتے کے اندر اندر انڈین فضائیہ نے بالاکوٹ پر سرجیکل سٹرائکس کیں اور اتنے دہشت گرد مار ڈالے کہ آج تک گنتی جاری ہے۔ پورا لوک سبھا الیکشن پلواما کے شہیدوں کے نام پر لڑا اور جیتا گیا۔ آج بھی جب کوئی کہتا ہے کہ پاکستان سے بات چیت کا سلسلہ بحال کیا جائے تو دلیل یہ آتی ہے کہ دہشت گردی اور بات چیت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔
اس تناظر میں چین کی خوش قسمتی پر مزید رشک آتا ہے کہ وہ پاکستان نہیں۔ ورنہ اور کچھ نہیں تو ساڑھے تین ہزار کلو میٹر کی سرحد پر کہیں نہ کہیں تو انڈین توپ خانے نے کشمیر کی لائن آف کنٹرول کی طرح اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہوتا۔ انڈین وزیرِ داخلہ امت شاہ نے سال بھر پہلے لوک سبھا میں سینہ ٹھونک کر کہا تھا کہ انڈیا نہ صرف پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر، گلگت و بلتستان بلکہ چین کے قبضہ سے اکسائی چن کا علاقہ بھی چھڑوائے گا۔ آج چین کہہ رہا ہے کہ لداخ کی وادیِ گلوان بھی اسی کی ہے۔ مگر امت شاہ چپ ہیں۔
بیس بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کوئی معمولی بات نہیں ہوتی مگر ماضی کے برعکس اب تک لوک سبھا کا اجلاس تک نہیں بلایا گیا۔ بیجنگ سے انڈین سفیر کو صلاح مشورے کے بہانے بھی واپس آنے کو نہیں کہا گیا۔ کسی جونئیر وزیر تک کے منہ سے یہ تک نہیں کہلوایا گیا کہ کرارا جواب ملے گا یا چن چن کے ماریں گے۔ یہ تک نہیں کہا گیا کہ انڈیا اپنی مرضی کے وقت اور مقام پر مناسب جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی ایسی کسی واردات کے بعد دن میں چوبیس بار پاکستان کا نام لے چکے ہوتے مگر پچھلے سات دن میں ان کے لبوں پر ایک بار بھی چین کا نام نہیں آیا۔ بس یہ فرمایا کہ شہیدوں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔
کئی انڈین شہروں میں چینی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم چل رہی ہے۔ چینی صدر کے پتلے، چینی کھلونے اور ٹی وی سیٹ بھی جلائے گئے ہیں مگر اب تک دلی سے یہ اعلان نہیں ہوا کہ انڈیا دوطرفہ تجارتی تعلقات عارضی طور پر معطل کر رہا ہے جیسا کہ پاکستان کے ساتھ پچھلے ڈیڑھ برس سے معطل ہیں۔ بات یہ ہے کہ جب تجارتی تعلقات کا دائرہ نوے ارب ڈالر سے بھی بڑا ہو۔ جب انڈیا میں چینی سرمایہ کاری کا حجم تیس ارب ڈالر کے لگ بھگ ہو۔ جب پاکستان کے علاوہ نیپال، سری لنکا، مالدیپ، بنگلہ دیش اور برما سمیت کسی سے بھی ایسے مثالی مراسم نہ ہوں کہ ان پر بلاجھجھک تکیہ کیا جا سکے۔ اور جب چینی معیشت کا حجم چودہ ٹریلین اور انڈین معیشت کا حجم تین ٹریلین ڈالر ہو تو پھر گھس کے ماریں گے کا نعرہ مارنا ذرا مشکل ہو جاتا ہے۔
ان حالات میں کمہار کا غصہ گدھے پر ہی نکل سکتا ہے اور دھینگا مشتی کے بعد چور نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کپڑے جھاڑ کر اٹھ کھڑے ہونا ہی دانشمندی ہے۔ اتنی عقل تو پاگل میں بھی ہوتی ہے کہ کس کنگلے کے دروازے پر کب پتھر مارنا ہے اور کس چوہدری کے دروازے کو محض گھور کے نکل جانا ہے۔ لہذا اگر ان حالات میں راہول گاندھی نے چین کے سامنے بکری ہو جانے والے نریندر مودی کو سرنڈر مودی کا خطاب دیا ہے تو کچھ غلط نہیں کیا۔
