کیا طارق عزیز کرونا وائرس کے ہاتھوں موت کا شکار ہوئے؟

نیلام گھر سے شہرت حاصل کرنے والے معروف ٹی وی کمپیئر طارق عزیز کے حوالے سے اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ اپنی وفات سے تین روز پہلے سے وہ بخار اور انفیکشن میں مبتلا تھے لیکن اپنا کرونا ٹیسٹ کروانے سے انکاری تھے. ان کے خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ وفات والے دن صبح ناشتے کے بعد ان کی طبیعت بہت زیادہ بگڑی تو انہوں نے اپنی بیگم سے خود کو ہسپتال لے جانے کا کہا جس کے بعد وہ ڈرائیور اور اہلیہ کے ہمراہ گاڑی میں ہسپتال کے لئے روانہ ہوئے لیکن راستے میں ہی دم توڑ گئے۔ بتایا گیا ہے کہ ان کی اہلیہ ہاجرہ نے جو کہ خود بھی ڈاکٹر ہیں طارق عزیز کی نبض چیک کی اور ان کی موت کا یقین ہو جانے کے بعد ہسپتال جانے کی بجائے ان کی ڈیڈ باڈی لے کر گھر واپس آگئیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ طارق عزیز بھی کرونا وائرس میں مبتلا ہو چکے تھے لیکن اس حوالے سے انہوں نے کسی قسم کا کوئی ٹیسٹ نہیں کروایا تھا۔ ان کے 50 برس پرانے دوست ڈاکٹر مہدی حسن نے بھی تصدیق کی ہے کہ وفات سے ایک رات پہلے جب ان کی فون پر طارق عزیز سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ مجھے پچھلے تین روز سے بخار ہے اور طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔
’ابتداء ہے ربِ جلیل کے بابرکت نام سے، جو دلوں کے بھید خوب جانتا ہے… دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام!‘ یہ الفاظ آج بھی ایک نسل کے ذہنوں میں تر و تازہ ہیں، جنہیں سنتے ہی طارق عزیز کے پروگرام ’نیلام گھر‘ کی ابتداء یاد آجاتی ہے جو پاکستان کی تاریخ میں سب سے پہلا گیم شو بھی تھا۔
طارق عزیز ہمہ جہت اور عہد ساز شخصیت تھے، انہوں نے جو لکھا خوب لکھا جو کہا کمال کہا، ان کا انداز سب سے نرالہ تھا، مرحوم طارق عزیز کے جانے کی خبر نے ہر اس شخص کو اداس کردیا جو ان چھپن برسوں میں پی ٹی وی کے اس معروف اور کامیاب ترین میزبان کے ساتھ بڑا ہوا، طارق عزیز ہر گھر میں دیکھے جانے والے، پسند کئے جانے والے، کاپی کئے جانے والے، اور مانے جانے والے میزبان اور انسان تھے، پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا کر اپنے شو کا اختتام کرنے والے وہ واحد میزبان تھے، انہوں نے ملک اور قوم کی بہتری کےلئے ہمیشہ اپنے ہر شو میں لازمی بات کی۔
نیلام گھر ایک ایسا شو تھا جس کا مقصد وہ واٹر کولر اور چودہ انچ کے ٹی وی کا گفٹ نہیں تھا بلکہ یہ احساس تھا کہ ہم ملک کے اتنے بڑے میزبان طارق عزیز کے ایک آواز لگانے پر اپنے گھر کا بجلی کا بل، اپنے شناختی کارڈ، اپنی جیب میں موجود سو کا نوٹ دکھائیں گے۔ اپنے پارٹنر کے ساتھ مزاج آشنائی میں ہونے والے انتہائی مہذب اور انتہائی شگفتہ مذاق کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے۔ اپنے ساتھیوں کے ساتھ گاڑی کے دس سوالوں کے جواب دیں گے اور ہمارے ساتھ پوری قوم ان سوالات کا جواب گھر بیٹھے دے رہی ہوگی،بیت بازی، کوئز، آلو چھیلنا، مہمانوں سے ملاقات کروانا، طارق عزیز نے اسٹیج کو ایک ایسا سبق بنا دیا جسے آج تک تمام میزبانوں نے پڑھا اور کاپی کرنے کی کوشش کی۔
انتقال سے چھے دن پہلے تک کے ان کے ٹوئٹس عکاسی کرتے ہیں کہ ان کے دل و دماغ میں کیا کیفیات تھیں، انسان جب دنیا چھوڑ کر جانے والا ہوتا ہے تو اس کے الفاظ اور بھی قیمتی ہوجاتے ہیں۔ وفات سے چھے دن پہلے انہوں نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں لکھا کہ ’1965 والا جذبہ بیدار کرنے کی ضرورت ہے، جب مجھ سمیت میڈم نور جہاں، امان اﷲ مرحوم اور دیگر ٹی وی ریڈیو کے عظیم دوستوں نے جنگی نشریات کی، وزارت اطلاعات و نشریات سے گزارش ہے کہ چینلز پر میراتھن ٹرانسمیشن کا آغاز کرکے قوم کو بیدار کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔۔۔ہم یہ جنگ بھی جیتیں گے ‘
غور کیجئے تو کتنا محبت بھرا اور مخلصانہ مشورہ انہوں نے ان مشکل حالات میں اپنی قوم اور اپنی فیلڈ سے جڑے لوگوں کو دیا، یہ حقیقت ہے کہ وہ قوم کے ان لوگوں میں سے تھے جو مشکل وقت میں ہمیشہ ساتھ کھڑے رہے اور اپنے الفاظ سے سرحدوں کو بھی ہمت بخشی، یعنی چھے دن پہلے بھی وہ صرف اپنی قوم کا ہی سوچ رہے تھے۔
وفات سے چھے دن پہلے ہی انہوں نے ٹویٹر پر لکھا
’ باقی سارے قصے نے رد
بس قل ھو اﷲ ھو احد‘
وفات سے پانچ دن پہلے انہوں نے ٹویٹر پر شعر لکھا
’ کیسا موسم ہے بے یقینی کا
فاصلے ان دنوں شفا ٹہرے‘
انتقال سے چار دن پہلے انہوں نے ٹویٹر پر لکھا کہ ’کوئی انسان کتنا ہی گنہگار کیوں نہ ہو، رب العالمین اس کےلئے دعا کا وسیلہ توبہ کا راستہ اور رزق کا دروازہ کبھی بند نہیں کرتا‘
سفر آخرت پر روانہ ہونے سے چار دن پہلے وہ لکھتے ہیں کہ
’افلاک کے پروں سے جاری ہوا فرمان
والعصرا خسارے ہی خسارے میں ہے انسان
انتقال سے دو دن پہلے طارق عزیز نے کلمہ شہادت اپنے ٹوئٹ میں شئیر کیا اور پھر ایک دن پہلے وہ لکھتے ہیں’ یوں لگتا ہے وقت تھم گیا ہے، رواں دواں زندگی رک گئی ہے ، کئی دنوں سے بستر پر لیٹے لیٹے سوچ رہا ہوں کہ آزادانہ نقل و حرکت بھی مالک کی کتنی بڑی نعمت تھی ۔۔۔نجانے پرانا وقت کب لوٹ کر آتا ہے، ابھی تو کوئی امید نظر نہیں آتی‘
پھر شعر بھی لکھا
’جوں جوں زور جوانی کیتا مالک بنیا گھر دا
جوں جوں زور بڑھاپے کیتا کتا بنیا گھر دا‘
