رحمان ملک کے خلاف جنسی ہراسانی کا کیس درج نہ کرنے کا عدالتی فیصلہ کالعدم

اسلام آباد ہائی کورٹ نے امریکی شہری سنتھیا ڈی رچی کی جانب سے سابق وفاقی وزیر داخلہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر رحمان ملک کے خلاف اندراج مقدمہ سے متعلق درخواست مسترد کرنے کا مقامی عدالت کا ایک فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔
سنتھیا ڈی رچی نے کچھ عرصہ قبل اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت سے رجوع کرتے ہوئے استدعا کی تھی کہ سابق وزیر داخلہ کے خلاف انہیں (سنتھیا) مبینہ طور پر جنسی ہراساں کرنے پر ایف آئی آر درج کر جائے۔ تاہم مقامی عدالت نے پانچ اگست کو عدم ثبوتوں اور پولیس کی رپورٹ کی روشنی میں یہ درخواست مسترد کر دی تھی۔
سنتھیا رچی نے اس عدالتی فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بدھ کے روز اس درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ’جسٹس آف پیس‘ (مقامی عدالت) نے اپنے فیصلے میں اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔ مختصر فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مقامی عدالت نے مقدمے کے انداراج سے متعلق اپنا فیصلہ سناتے ہوئے قانون اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کو مدنظر نہیں رکھا اس لیے اس عدالتی فیصلے کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا ہے کہ سنتھیا ڈی رچی کی طرف سے سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کے خلاف مقدمے کے اندارج کی درخواست کو زیر التوا تصور کیا جائے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو حکم دیا ہے مقدمے کے اندارج کی اس درخواست کا معاملہ جسٹس آف پیس کو بھیجا جائے۔ اس فیصلے میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ یہ معاملہ اس جج کی سربراہی میں قائم ہونے والے جسٹس آف پیس کو نہ بھیجا جائے جنہوں نے ابتدا میں یہ درخواست مسترد کی تھی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا ہے کہ جسٹس آف پیس فریقین کو سن کر تین ہفتوں میں اس درخواست سے متعلق فیصلہ کریں۔
واضح رہے کہ سنتھیا ڈی رچی نے رحمان ملک سمیت سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے اہم رہنماؤں کو انہیں مبینہ طور پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے تھے تاہم ان رہنماؤں نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔ سنتھیا رچی نے سابق وزیر داخلہ کے خلاف مبینہ طور پر جنسی ہراسانی کے بارے میں ایک درخواست اسلام آباد کے تھانے سیکریٹریٹ میں بھی جمع کروائی تھی تاہم مقامی پولیس نے عدم ثبوت کی بنا پر اس درخواست پر کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز (منگل) اسلام آباد ہائی کورٹ نے سنتھیا ڈی رچی کو پاکستان کی سیاسی شخصیات کے خلاف بیانات دینے سے روکتے ہوئے وفاقی وزارت داخلہ سے بزنس ویزا پالیسی پر وضاحت بھی طلب کی تھی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے امریکی بلاگر سنتھیا رچی کو ڈی پورٹ کرنے کی درخواست پر سماعت کا آغاز کیا تھا تو حکومتی وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سنتھیا رچی نے وزارت داخلہ کو دیے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ پاکستان میں کسی سرکاری ادارے سے منسلک نہیں رہی ہیں۔
اس پر چیف جسٹس نے حکومتی وکیل سے استفسار کیا تھا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ پہلے تو عدالت کو بتایا گیا تھا کہ امریکی بلاگر پاکستان میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کے ساتھ پراجیکٹس پر کام کر رہی تھیں۔ عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا گیا۔ چیف جسٹس نے حکومتی وکیل سے پوچھا کہ اس حوالے سے پالیسی کیا ہے؟ کیا بیرون ملک سے آ کر کوئی بھی یہاں کچھ بھی کر سکتا ہے؟ کیا سنتھیا موجودہ حکومت کے خلاف بھی بیانات دیں تو کیا پالیسی یہی ہو گی؟
وزارت داخلہ کے نمائندے نے جب عدالت کے سامنے اس حوالے سے ایک آرڈر پیش کیا تو چیف جسٹس نے کہا یہ آپ نے کیا آرڈر جاری کیا ہے؟ کیا کوئی قانون یا پالیسی نہیں ہے؟
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیا آپ کے پاس کوئی دستاویز ہے جو بتائے کہ غیر ملکیوں کے لیے پاکستان کی ویزا پالیسی کیا ہے؟ کل کوئی اور بزنس ویزے پر آ کر وزیراعظم کے خلاف بیانات دے تو اسے بھی چھوڑ دیں گے؟
عدالت نے اس مقدمے کی سماعت 22 ستمبر تک ملتوی کر دی تھی۔
واضح رہے کہ امریکی شہری سنتھیا رچی کو ملک بدر کرنے کی درخواست سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک مقامی رہنما افتخار احمد نے دائر کر رکھی ہے۔ اس درخواست میں کہا گیا تھا کہ مذکورہ امریکی شہری کے پاکستان میں ویزے کی میعاد نہ صرف ختم ہو چکی ہے بلکہ وہ ایسی سرگرمیوں میں بھی ملوث ہیں جو ملک کے خلاف ہیں۔
گزشتہ روز سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کے حکم پر سنتھیا ڈی رچی کے پاکستان میں قیام سے متعلق وزارت داخلہ کا بیان بھی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ گزشتہ ماہ وزارت داخلہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کو آگاہ کیا تھا کہ امریکی شہری سنتھیا ڈی رچی کسی ایسی سرگرمی میں ملوث نہیں ہیں جو کہ غیر قانونی یا ملک کے قانون کے خلاف ہو۔ وزارت داخلہ نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ سنتھیا رچی کے پاس پاکستان میں رہنے سے متعلق تمام قانونی دستاویزات موجود ہیں اور ان کے ویزے کی میعاد 31 اگست تک ہے۔
گزشتہ سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے درخواست گزار کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہا تھا کہ وہ وزارت داخلہ کی اس رپورٹ کو عدالت میں چیلنچ کریں گے جس میں کہا گیا ہے امریکی بلاگر کا پاکستان میں قیام غیر قانونی نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اپنے دلائل کے دوران یہ ثابت کریں گے کہ سنتھیا رچی کو ویزے میں دی جانے والی توسیع نہ صرف غیرقانونی ہے بلکہ وہ پاکستان میں غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
انھوں نے الزام عائد کیا تھا کہ سیکریٹری داخلہ اس معاملے میں قانون کے مطابق کارروائی نہیں کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے امریکی شہری سنتھیا ڈی رچی کی جانب سے دائر کردہ ایک درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ایف آئی اے کو اُن کے خلاف تحقیقات جاری رکھنے کا حکم دیا تھا۔
اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج جہانگیر اعوان نے سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلعی صدر شکیل عباسی کی جانب سے دائر کردہ ایک درخواست پر ایف آئی اے کو سنتھیا رچی کے خلاف تحقیقات کرنے کا حکم دیا تھا۔
درخواست گزار نے سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے خلاف ‘نازیبا’ ٹویٹس کرنے اور درخواست گزار کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر سنتھیا رچی کے خلاف مقدمے کے اندارج کی استدعا کی تھی۔ سیشن کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف اور ایف آئی اے میں جاری تحقیقات کو رکوانے کے لیے سنتھیا رچی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جو کہ 22 جون کو مسترد کر دی گئی تھی۔
اسی روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس درخواست کی سماعت کے دوران درخواست گزار سنتھیا ڈی رچی کے وکیل نے ماتحت عدالت کی طرف سے جاری کیے گئے حکمنامے کا ذکر کیا تو چیف جسٹس نے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس حکم میں تو ایف آئی اے کو تحقیقات کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اپنے فیصلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کو انکوائری کا مکمل اختیار ہے، ‘ایف آئی اے سے توقع ہے کہ وہ کسی آبزرویشن سے متاثر ہوئے بغیر کارروائی کرے گی۔’
