رواں برس چینی کی سر پلس پیداوار کی توقع

ملک میں چینی کی پیداوار بھی سیاست کی نظر ہونے لگی ہے ، اطلاعات کے مطابق سندھ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان تنازع کی وجہ سے مبینہ طور پر سندھ میں شوگر ملز کو بند کیا رہا ہے۔

کراچی پریس کلب میں گفتگو کرتے ہوئے مشیر خزانہ شوکت ترین کے ترجمان مزمل اسلم نے ملک میں گنے کی پیداواراور سندھ میں بحران کا خدشہ ظاہر کیا ہے ، پاکستان کو رواں برس سرپلس چینی حاصل ہونے کی توقع ہے۔

ملک میں یومیہ 15 ہزار ٹن چینی استعمال کی جا رہی ہے جس میں 6 ہزار ٹن گھریلو جبکہ 9 ہزار ٹن تجارتی مقاصد کے لیے استعمال میں لائی جا رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ یہ صرف وفاقی حکومت نہیں جو قیمتوں پر اثر انداز ہوتی ہے بلکہ کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے ہر ادارے کے کردار کو جانچنا ہے۔ترجمان مشیر خزانہ نے مزید بتایا کہ یہی مثال سندھ کی ہے جہاں صوبائی حکومت گنے کی کرشنگ سیزن میں تاخیر کر رہی ہے۔

خدشہ ہے کہ اگر اس کرشنگ سیزن میں مزید تاخیر ہوئی اور کسانوں کو بروقت ادائیگی نہ کی گئی تو اگلی فصل (گندم) کی بوائی میں تاخیر ہو جائے گی ۔

Back to top button