روشن ڈیجیٹل اکائونٹ میں 2 ارب 72 کروڑ ڈالر کی آمد

سمندر پار پاکستانیوں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی وجہ سے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ (آر ڈی اے) کے ذریعے آنے والی رقوم 2 ارب 72 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔

اس عرصے کے دوران مجموعی حجم میں سے 68 فیصد یا ایک ارب 83 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری زیادہ ریٹرن والے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس (این پی سیز) میں کی گئی ہے۔نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کے ذریعے ڈالر کی مد میں 3، 6 اور 12 ماہ کے لیے 5.5 فیصد، 6 فیصد اور 6.5 فیصد کی شرح منافع دیتے ہیں

3 اور 5 سالہ سرٹیفکیٹس پر منافع کی شرح بالترتیب 6.7 فیصد اور 7 فیصد ہے تاہم روپے کی صورت میں شرح منافع خاصی بلند اور مختلف مدت کے لیے 9.5 فیصد سے 11 فیصد تک ہے۔

سٹیٹ بینک پاکستان کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ستمبر 2020 سے کی جانے والی سرمایہ کاری 2 ارب 67 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تک پہنچ چکی ہے جس سے ماہانہ 19 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی آمدنی ہوئی ہے۔ بینکرز کے مطابق روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے تحت ایکویٹی مارکیٹ کے لیے سرمایہ کاری صرف 2 کروڑ 70 لاکھ ڈالر یا مجموعی حجم کا ایک فیصد تھی۔

ترامیم نے مکمل اور حتمی ٹیکس کے نظام کی کوریج کو حصص اور میوچل فنڈز کی سرمایہ کاری پر منافع اور کیپٹل گینز کے علاوہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے ریئل اسٹیٹ سرمایہ کاری پر حاصل ہونے والے کیپٹل گینز تک بڑھا دیا ہے۔

حکومت اور اسٹیٹ بینک دونوں کو یقین ہے کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے رقوم کی آمد نے معاشی سرگرمیاں پیدا کرنے اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھا کر ملک کی ادائیگیوں کے توازن کو بہتر بنانے میں مدد کی ۔

Back to top button