55 فیصد افغانی خوراک کی قلت کا شکار
افغانستان میں 55 فیصد آبادی غذائی قلت کا شکار ہے ، تقریباً 2 کروڑ 30 لاکھ افراد یا افغان آبادی کا 55 فیصد بحران کا شکار ہیں۔
سیکریٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق نے نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے نشاندہی کی کہ رواں ہفتے ملک بھر میں جھڑپیں اور تشدد جاری ہیں۔
فرحان حق نے بتایا کہ رضاکاروں کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ 2 کروڑ 30 لاکھ افراد، یا افغان آبادی کا 55 فیصد مارچ 2022 تک غذائی قلت کا شکار ہو سکتا ہے۔
سال کے آخر تک ایک کروڑ 10 لاکھ افراد کی امداد کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور اس کے لیے 60 کروڑ 60 لاکھ ڈالرامداد کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ 82 ہزار سے زائد افراد ہنگامی پناہ گاہوں کیساتھ مدد فراہم کر رہے ہیں۔
15 اگست سے قبل افغانستان میں انسانی صورتحال دنیا کی بدترین شکل میں تھی رواں سال کے وسط تک آبادی کا نصف یا تقریباً ایک کروڑ 84 لاکھ افراد پہلے ہی تحفظاتی امداد کے منتظر تھے۔
