روپے کی بے قدری جاری، ڈالر 6 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

پاکستان میں ڈالر کی قیمت 6 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، انٹر بینک میں امریکی کرنسی کی قیمت 159 روپے 13 پیسے جبکہ اوپن مارکیٹ میں قیمت 158 روپے 50 پیسے کی سطح پر پہنچ گئی.
کاروباری ہفتے کے چوتھے روز انٹربینک میں ڈالر 58 پیسے مہنگا ہوگیا ہے جس کے بعد یہ 8 ماہ کے بعد 159 کی سطح پر پہنچ گیا۔ ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق انٹر بینک میں ڈالر آج 159.30 روپے میں فروخت ہوا۔اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قیمت میں 50 پیسے اضافہ ہوا ہے اور یہ 158.50 روپے میں دستیاب ہے۔
کرونا وائرس کے باعث جہاں دنیا بھر کی معیشت پر منفی اثرات پڑ رہے ہیں، وہیں پاکستان کی معیشت بھی شدید مشکلات کا شکار ہوتی چلی جا رہی ہے۔خاص کر پاکستان کی کرنسی مارکیٹ میں پاکستانی روپے کی قدر میں 3 روز کے دوران زبردست کمی ہوئی ہے۔ ڈالر کی اڑان کا سلسلہ جاری ہے اور انٹر بینک میں امریکی ڈالر 6 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ انٹر بینک میں 6 ماہ بعد ڈالر نے 158 روپے کی سطح عبور کی ہے۔ ملک بھر میں رواں ہفتے کے چوتھے کاروباری روز کے دوران انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر بالترتیب 68 پیسے اور 50 پیسے مہنگا ہو گیا۔
گزشتہ سال کے آغاز میں ڈالر کی قیمت مسلسل بڑھتی رہی، جنوری میں ڈالر 138 روپے 93 پیسے، فروری میں 138 روپے 90 پیسے اور مارچ میں 139 روپے10 پیسے تک پہنچ گیا۔اپریل 2019 میں ڈالر نے بڑی چھلانگ لگئی اور 141 روپے 50 پیسے پر آ گیا۔ مئی میں اس کی قیمت میں تاریخ کا ایک بڑا اضافہ دیکھا گیا اور یہ 151 روپے تک پہنچ گیا۔جون میں ڈالر نے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور تاریخ کی بلند ترین سطح 164 روپے پر پہنچ گیا۔جولائی 2019 میں ڈالر کی اڑان رک گئی اور ڈالر کمی کے بعد انٹربینک میں 160 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 161 روپے کا ہوگیا۔اگست 2019 میں روپے نے ڈالر کا جم کر مقابلہ کیا اور ڈالر 157.20 روپے تک پہنچ گیا۔ ستمبر 2019 کے اختتام پر ڈالر کی قیمت میں مزید کمی واقع ہوئی اور یہ 156.40 روپے پر پہنچ گیا۔اکتوبر 2019 کے اختتام پر روپے کی قدر مزید بہتر ہوئی اور ڈالر کی قیمت 155.70 روپے رہ گئی۔ نومبر2019 کے اختتام پر ڈالرکی قیمت خرید 155.25 اور قیمت فروخت 155.65 تھی۔ گزشتہ چھ ماہ سے ڈالر کی قیمت میں مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور اس دوران 9 روپے کی کمی آئی۔
اس حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ بلند شرح سود کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاروں نے زیادہ شرح منافع کی لالچ میں ڈالرز میں اپنا سرمایہ پاکستانی بینکوں میں رکھوایا تھا، تاہم اب جب اسٹیٹ بینک ممکنہ طور پر 17 مارچ کو شرح سود میں کمی کرنے جا رہا ہے، تو غیر ملکی سرمایہ کاروں نے اپنا سرمایہ نکالنا شروع کر دیا ہے، اسی باعث کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا ہے۔
