ریاست اور سیاست بند گلی میں داخل، شو ڈاؤن کا امکان

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت مخالف تحریک چلانے اور اسکا ٹیمپو بن جانے کے بعد ملکی سیاست اور پاکستانی ریاست دونوں بند گلی میں داخل ہو گئے ہیں اور اس چیز کا قوی امکان ہے کہ اگلے تین ماہ میں اس تحریک کا نتیجہ نکل آئے اور فائنل شو ڈاون ہو جائے۔ ایک ایسے وقت میں کہ جب حکومت اندرونی محاذ پر تیزی سے غیر مقبول ہو کر تنہا ہو رہی ہے، بیرونی محاذ پر آئسولیٹ ہو چکی ہے، معیشت زبوں حالی کا شکار ہے، مہنگائی عروج پر ہے اور عوام تنگ ہیں، اپوزیشن اتحاد نے حکومت مخالف تحریک تیز کر دی یے جس کا بنیادی مقصد مارچ میں ہونے والے سینٹ الیکشن سے پہلے ایوان کے اندر یا باہر سے تبدیلی لانا ہے اور عمران خان کو گھر بھجوانا ہے۔
سینئر صحافی اور اینکر پرسن عاصمہ شیرازی بی بی سی کے لیے اپنے تازہ تجزیے میں کہتی ہیں کہ سیاست میں ہر دروازہ کھلا رکھا جاتا ہے لیکن پاکستان میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ ہر طرف سے کھرکیاں اور دروازے بند کر دیے گئے ہیں۔ اپوزیشن حکومت سے اور حکومت اپوزیشن سے بات کرنے کو تیار نہیں۔ اسٹیبلشمنٹ بھی اب نظریں چُراتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایوان اقتدار میں سوائے لفظی گولہ باری اور چند سستے ترجمانوں کی روایتی گالم گلوچ کے کچھ اب بھی دستیاب نہیں۔ نتیجتاً اب ملکی سیاست ہی نہیں بلکہ ریاست بھی بند گلی میں داخل ہو چکی ہے اور حکومت اور ریاست دونوں بند گلی سے تب باہر نکلیں گے جب اپوزیشن کی تحریک کے نتیجے میں کوئی راستہ نکلے گا۔
کراچی میں مریم نواز کے کمرے کا دروازہ توڑ کر کیپٹن صفدر کی گرفتاری کے واقعے نے سیاست میں گرما گرمی کو اور بھی تیز کر دیا ہے۔ اصولی اوع عقلی طور پر سیاست کا مقابلہ سیاست سے کرنا چاہیے۔ لیکن جب سیاست کا مقابلہ ریاستی ہتھکنڈوں سے کیا جاتا ہے تو حکومت ہار جاتی ہے اور سیاست جیت جاتی ہے۔ اسی لیے کراچی میں اپوزیشن کے کامیاب جلسے کے بعد ریاست کی جانب سے مریم کے خلاف انتظامی ہتھکنڈے اپنانے کی پالیسی پٹ گئی اور سیاست جیت گئی جس سے حکومت کو نقصان اور اپوزیشن کو فائدہ ہوا۔
حکومتی دعووں کے برعکس اپوزیشن اتحاد کے جلسوں کو توقع سے زیادہ کامیابی مل رہی ہے اور عوام کی کی بڑی تعداد میں شرکت نے حکومتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ کہنے کو تو حکومتی ترجمان بڑی ڈھٹائی سے کہہ رہے ہیں کہ پی ڈی ایم کے تینوں جلسے پٹ گئے اور عوام نے اپوزیشن کی پکار پر کان نہیں دھرے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دیکھتی آنکھیں اور بولتی زبانیں بہت کچھ کہہ رہی ہیں۔ لوگ جھوٹ بول سکتے ہیں، جلسے میں شرکاءکی تعداد کم یا زیادہ بتا سکتے ہیں، لیکن ٹی وی کیمرے تو حقیقت حال کی گواہی دے رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک کے بڑھتے ہوئے ٹیمپو سے گھبرا کر وزیر اعظم نے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اپوزیشن کو یہ دھمکی دی کہ اب انہیں کوئی رعایت نہیں ملے گی اور ان کے خلاف کارروائی تیز ہوگی۔ اپوزیشن کو رعایت تو پہلے بھی کوئی نہیں ملی تھی لیکن اپوزیشن کے خلاف اپنی کارروائی تیز کرتے ہوئے کراچی جلسے کے بعد ریاستی اداروں نے حکومتی ایما پر بھونڈے طریقے سے کیپٹن صفدر کو گرفتار کر لیا۔ اس واقعے میں پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کا کردار سامنے آنے کے بعد اپوزیشن کی تحریک کو نہ صرف بڑھاوا ملا بلکہ اس حوالے سے نواز شریف کا اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ بھی درست ثابت ہو گیا۔ ثابت ہو گیا کہ پاکستان میں ریاست سے بالاتر ایک اور ریاست بھی کام کر رہی ہے اور عوام اور حکومتیں اسی کے یرغمالی ہوتے ہیں۔ یہی ریاست اب تک پاکستان میں الیکشن سٹیج کرواتی، الٹاتی، ہرواتی اور جتواتی رہی ہے۔
2018 کے انتخابات سے قبل بھی ایک سٹیج سجایا گیا تھا۔ سٹیج کے کردار انتخابات سے قبل ہی وجود میں آ چکے تھے۔ اس سے پہلے پاناما کیس میں نواز شریف کو دھر لینے کے بعد اقامہ رکھنے پر رخصتی اور پھر جی ٹی روڈ پر نواز شریف کا مجھے کیوں نکالا اور ’ووٹ کو عزت دو‘ کا بیانیہ ترتیب پا گیا۔ یہ سب ارادی طور پر ہوا یا غیر ارادی طور پر، مگر یہ سب ہو گیا اور آج ووٹ کو عزت دو کا نعرہ ن لیگ کا مقبول ترین بیانیہ بن چکا ہے۔ یوں نون لیگ بھی ’نظریاتی‘ ہو گئی اور اسکا ڈھائی سال کا ووٹ کو عزت دینے کا بیانیہ چلتے پاکستان ڈیموکریٹک الائنس میں ضم ہو گیا۔ جمعیت علمائے اسلام، پیپلز پارٹی اور دیگر چھوٹی بڑی دائیں اور بائیں ہاتھ کی جماعتوں نے ’نظریاتی‘ میاں صاحب کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور اب یہ ’بیانیہ‘ جی ٹی روڈ پر چڑھ چکا ہے.
سینئر صحافی عاصمہ شیرازی کے خیال میں پاناما کیس کے بعد نواز شریف نے بھانپ لیا تھا کہ بات ’جہاں سے چلی ہے وہاں نہ تو واپسی کی گنجائش ہے اور نہ ہی دوبارہ ویسا رشتہ اُستوار ہو پائے گا جیسا ماضی میں رہا ہے۔ اعلی عدلیہ سے یہ معاملہ پردہ نشینوں کی طرف شفٹ ہوا۔ پھر نواز شریف کو سزا ہوئی انہوں نے جیل جانا پڑ گیا۔ لیکن جب جیل میں میں بند نواز شریف اور مریم نواز پردہ نشینوں کے لیے پریشانی بننے لگے تو نواز شریف کو لندن بھجوانے کا فیصلہ ہوا۔ مگر کپتان حکومت کے اس ایک فیصلے نے سیاسی طور پر تحریک انصاف کی حکومت کو ایسی گزند پہنچائی کہ خان صاحب بل کھاتے رہ گئے مگر آج تک اس غم سے نکل نہیں پائے۔
اسی دوران ن لیگی قیادت سے یہ سوال بار بار پوچھا جانے لگا کہ آپ اپنے خلاف ڈرامہ سٹیج کرنے والے کرداروں کے نام کیوں نہیں لیتے؟ اب جبکہ کرداروں کے نام بھی میاں صاحب کی زبان پر آچُکے ہیں تو بات دور تلک نکل گئی ہے۔ نام نہ لینے اور لینے کے درمیان نہ جانے کہاں کہاں کتنا کتنا وقت لگا ہو گا، کتنی ملاقاتیں اور کیا کیا وعدے ہوئے ہوں گے اور ٹوٹے ہوں گے اور اب یہ عالم ہے کہ معاملات آخری حد تک جا پہنچ چکے ہیں اور واپسی کی کوئی گنجائش دکھائی نہیں دیتی۔ یعنی اب شو ڈاون کی سٹیج آ چکی ہے۔
عاصہ شیرازی کے خیال میں یہ بات اہم ترین ہے کہ اسلام آباد کا حکمران راولپنڈی والوں کی کبھی مجبوری نہیں بنا۔ یہ ایک دوسرے سے جُڑے مفادات تھے یا کچھ اور۔۔۔ لیکن جُڑواں شہر پہلی بار ایک ہی صفحے پر تھے اور وزیراعظم بار بار اسی بات کی گردوں کرتا تھا کہ اسکی حکومت اور فوج دونوں ایک پیج پر ہیں۔ مگر اب تو یہ صفحہ ہی اپوزیشن اور عوام کے ہاتھ آ گیا لگتا ہے۔ سول اور ملٹری ہم آہنگی شاید اب بھی آئیڈیل ہے مگر پیج پر لکھی تحریر کس کے ہاتھ، یہ معلوم نہیں۔
پہلے ہماری فوجی اسٹیبلشمنٹ سیاسی کرداروں کو کٹھ پُتلی بناتی تھی،لیکن اب سیاست دان آہستہ آہستہ ڈوریاں تھام رہے ہیں۔ پہلے طاقت کے مراکز اپنے مطابق سب کو چلاتے تھے، اب جہاں دیدہ سیاست دان گیند اپنی ڈی میں لے آئے ہیں۔ پہلے فیصلے بند کمروں میں ہوتے تھے مگر اب اُنھی فیصلوں کے خلاف چوک چوراہوں پر عوامی احتجاج ہو رہا ہے۔ پہلے جو سیاست دان کندھوں کی جانب اشارے کر کے بات کرتے دکھائی تھے اب ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر بڑے اعتماد سے نام لیکر بات کررہے ہیں۔ اپوزیشن اسٹیبلشمنٹ کے خلاف نعرہ زن ہے تو حکومتی ترجمان اور خود وزیراعظم ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں ناچنے والی کٹھ پُتلیوں کو طعنے دیتے دکھائی دیتے ہیں۔ وزیراعظم اپوزیشن اور پردہ نشینوں کے درمیان خفیہ ملاقاتوں پر بھی خفا خفا سے ہیں مگر اس سارے کھیل میں کچھ دوستی اور کچھ دشمنی میں، کچھ چاہتے اور کچھ نہ چاہتے ہوئے ’غیر سیاسی ریاستی کرداروں‘ کے ’سیاسی کردار‘ پر ہی بات ہو رہی ہے۔ پنجاب کی جی ٹی روڈ ہو، بلوچستان یا خیبر پختونخواہ کے دور دراز علاقے۔۔۔ ریاستی کرداروں کی سیاست میں مداخلت کے خلاف آوازیں بڑھ گئی ہیں۔
عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ میدانِ سیاست میں زیرک سیاست دان اپنی ٹائمنگ کے اعتبار سے میچ خود مقرر کر رہے ہیں۔۔ کب، کہاں، کتنا سکور کرنا ہے یہ بھی خود طے کر رہے ہیں۔ اصل امتحان اب اہل اختیار کا ہے کہ کھیل کھل کر کھیلنے دیں گے یا پچ ہی اُکھاڑیں گے۔ دونوں صورتوں میں تبدیلی تو آئے گی مگر اہم سوال یہ ہے کہ کس کی پسپائی ہو گی اور کس کی چڑھائی ہو گی؟
