ریلوے سے زیادہ کرپٹ کوئی ادارہ نہیں، چیف جسٹس گلزار احمد

سپریم کورٹ نے ریلوے خسارہ کیس میں وفاقی وزیر شیخ رشید، سیکریٹری ریلوے و دیگر کو 28جنوری کو طلب کرلیا۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے ریلوے میں کوئی چیز درست نہیں چل رہی، ریلوے سے زیادہ کرپٹ پاکستان میں کوئی ادارہ نہیں۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ریلوے خسارہ کیس کی سماعت کی۔ عدالت عظمیٰ نے ریلوے سے متعلق آڈٹ رپورٹ پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے وزارت لینے والے کو پہلے خود ٹرین پر سفر کرنا چاہیے، آپ کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہونے کے بجائے مینول ہے، ریلوے میں کوئی چیز درست انداز میں نہیں چل رہی ، اس سے زیادہ کرپٹ پاکستان میں کوئی ادارہ نہیں، اسٹیشن درست ہیں نہ ٹریک اور نہ ہی سگنل، ریل پر سفر کرنے والا ہر فرد خطرے میں سفر کررہا ہے، ٹرینوں میں نہ مسافر ہیں نہ مال گاڑیاں چل رہی ہیں۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ریلوے کا نظام چل ہی نہیں رہا اور رپورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ محکمے کو اربوں روپے کا خسارہ ہو رہا ہے۔
چیف جسٹس نے وزیر ریلوے کا نام لئے بغیر ریمارکس دیے کہ ریلوے والا روز حکومت گراتا اور بناتا ہے، لیکن وزارت سنبھال نہیں پارہے، ریلوے کا پورا محکمہ سیاست میں پڑا ہوا ہے، آج بھی ہم پاکستان میں اٹھارھویں صدی کی ریل چلا رہے ہیں، جب کہ دنیا بلٹ ٹرین چلا کر مزید آگے جارہی ہے، ریلوے میں جو آگ لگی تھی اس معاملے کا کیا ہوا؟۔
ریلوے کے وکیل نے بتایا کہ معاملے پر انکوائری ہوئی اور دو افراد کے خلاف کارروائی ہوئی ہے۔ چیف جسٹس نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چولھے میں پھینکیں اپنی کارروائی، ریلوے کے سی او عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوئے۔
وکیل ریلوے نے بتایا کہ نوٹس سابق سی او کو گیا تھا اور وہ اب موجود نہیں۔ عدالت نے سی او ریلوے سمیت دیگر حکام کو طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔
