ریٹائرڈ میجر کا بیٹے کی رہائی کے لیے آرمی چیف کو خط

پاکستانی فوج کے ریٹائرڈ میجر محمد صالح نے جنرل قمر باجوہ کو لکھے گئے خط میں ان سے اپنے اس بیٹے کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے جسے پانچ برس قبل سکیورٹی اداروں نے حراست میں لیا تھا۔ دوسری جانب عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ میجر (ر) صالح کو عدالتوں سے ریلیف نہیں ملا لہذا اب اس طرح کی حرکتیں کر کے سسٹم کو متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق سابق فوجی افسر ریٹائرڈ میجر محمد صالح نے جنرل قمر باجوہ کے نام خط میں اپیل کی ہے کہ اگر انکے بیٹے کو رہا نہیں کیا جا سکتا تو کم از کم اس کا جرم ہی بتا دیا جائے۔ انہوں نے اپنے خط میں مزید لکھا ہے کہ ’میری کمسن پوتی نے اپنے باپ کو ہوش سنبھالنے کے بعد نہیں دیکھا، صرف اس کی تصویر ہی دیکھی ہے اور اسے بتایا گیا ہے کہ یہ تمہارے والد ہیں جو کمائی کے لیے بیرون ملک گئے ہیں‘۔ میجر صالح کا خط میں یہ بھی کہنا ہے کہ اگر فوج ان کے بیٹے عبداللہ صالح کو رہا نہیں کر سکتی تو انھیں کم از کم اسکا جرم ہی بتا دیا جائے۔
دوسری جانب بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ عبداللہ صالح کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات ہیں جس کی وجہ سے انھیں تحویل میں لیا گیا ہے اور حساس معاملات ہونے کی وجہ سے ان الزامات کی تفصیل نہیں بتائی جا سکتی۔عسکری ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’ملزم عبداللہ صالح کے خلاف جو الزامات ہیں ان کے حوالے سے تمام تقاضے پورے کیے گئے ہیں اور ریاست کے قانون کے مطابق اس معاملے سے نمٹا جا رہا ہے۔‘
جنرل قمر باجوہ کو لکھے گئے خط میں میجر صالح نے بیٹے کی حراست کی تفصیلات بھی دی ہیں۔ انہوں نے آرمی چیف کے نام خط میں لکھا ہے کہ ان کا 32 سالہ چھوٹا بیٹا عبداللہ صالح علی ورچوئل یونیورسٹی راولپنڈی کیمپس کا طالب علم تھا۔ وہ برسز 28 اگست 2016 ڈیرہ اسماعیل خان میں اپنے سسرال والوں سے مل کر راولپنڈی آ رہا تھا جب ڈیرہ اسماعیل خان کے قریب درہ بند آرمی چیک پوسٹ پر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے اسے گاڑی سے اتار کر حراست میں لے لیا۔میجر ریٹائرڈ محمد صالح کے مطابق جب انھیں اپنے بیٹے کی حراست کا علم ہوا تو انھوں نے متعلقہ حکام سے ملاقات کی۔ انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ وہاں موجود سکیورٹی فورسز کے حکام نے انھیں بتایا کہ ان کے بیٹے کو ملٹری انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر جنرل کے حکم پر گرفتار کیا گیا ہے۔
آرمی چیف کو لکھے گئے خط میں میجر صالح نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے اس بارے ڈی جی ایم آئی کو چار خطوط لکھے جس میں مطالبہ کیا گیا کہ ان کے بیٹے کو کس جرم میں گرفتار کیا گیا ہے اس کے بارے میں نہ صرف آگاہ کیا جائے بلکہ اس کے خاندان کو ان سے ملنے کی اجازت دی جائے۔ فوج کے ریٹائرڈ میجر نے آرمی چیف کو لکھے گئے خط میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ ڈی جی ایم آئی کو لکھے گئے خطوط کا جواب نہ ملنے پر وہ اُنہیں خط لکھ رہے ہیں۔ خط میں یہی مطالبہ دہرایا گیا ہے کہ بتایا جائے کہ ان کے بیٹے کو کس جرم میں گرفتار کیا گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے زیر حراست بیٹے سے فیملی کی ملاقات کروائی جائے۔ خط میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ عبداللہ صالح کے دو کمسن بچے بھی ہیں۔
محمد صالح نے بی بی سی کو بتایا کہ جس وقت انکے بیٹے کو گرفتار کیا گیا تب ان کا پوتا تین سال کا جبکہ پوتی چند ماہ کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ابھی تک آرمی چیف کے جواب کے منتظر ہیں اور انھیں امید ہے کہ ان کے خط کا مثبت انداز میں جواب دیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے انکی درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے تھے کہ چونکہ ملک میں فوجی عدالتیں ختم ہو چکی ہیں اس لیے ان کا بیٹا جلد رہا ہو جائے گا، لیکن میجر صالح کے بقول ایسا نہیں ہوا اور ان کا بیٹا اب تک سکیورٹی اداروں کی تحویل میں ہے۔
آرمی چیف کو لکھے گئے خط میں میجر ریٹائرڈ محمد صالح نے عدالتی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ جب متعلقہ حکام کی طرف سے ان کی طرف سے لکھے گئے خطوط کا جواب نہیں دیا گیا تو اس کے بعد انھوں نے انصاف کے حصول کے لیے عدالتی دروازہ کھٹکھٹایا اور لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں ایک درخواست دائر کی۔ انھوں نے کہا کہ جب اس درخـواست پر نوٹس جاری کیا گیا تو ملٹری انٹیلیجنس کے ڈائریکٹریٹ نے وزارت دفاع کے توسط سے جواب دیتے ہوئے پہلے تو عبداللہ صالح کی گرفتاری سے انکار کیا اور پھر متعلقہ حکام نے تسلیم کر لیا کہ عبداللہ ان کی تحویل میں ہے اور اسے خیبر پختونخوا کی حکومت کے ماتحت لکی مروت میں قائم ایک حراستی مرکز میں تفتیش کے لیے رکھا ہوا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں میجر ریٹائرڈ صالح کی درخواست کی پیروی کرنے والے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کے مطابق عدالت عالیہ نے متعلقہ حکام کے اس بیان کے بعد اس درخواست کو یہ کہہ کر نمٹا دیا کہ چونکہ لکی مروت کا علاقہ ان کے دائرہ سماعت میں نہیں آتا اس لیے داد رسی کے لیے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا جائے۔
میجر صالح کے مطابق ان کے بیٹے کے خلاف کوئی مقدمہ تک قائم نہیں کیا گیا ہے۔عدالت میں اپنی درخواست میں انھوں نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 199 کے سب سیکشن تین کے تحت کسی سویلین پر آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا اور بالخصوص ایسے حالات میں جب کسی سویلین پر کوئی اعتراض نہ ہو اور اس کی حراست غیر قانونی تصور کی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل آرمی چیف اور کورکمانڈر کو خط لکھنے والے فوج کے ایک ریٹائرڈ میجر جنرل کے بیٹے کو بغاوت پر اکسانے کے الزام میں کورٹ مارشل کر کے پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے اور اس وقت ساہیوال کی ہائی سکیورٹی جیل میں ہے۔
بی بی سی نے جب عبداللہ صالح کے معاملے پر فوجی ذرائع سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ جب عدالتوں کو ایک شخص کے حراست میں ہونے کا علم ہے تو پھر کیسے اس کی حراست غیر قانونی قرار دی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک کی عدالتیں آزاد ہیں اور فوج کے جیگ برانچ کے سربراہ کو ایک ایسی ہی درخواست کی سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ میں طلب کیا جانا اس کی ایک واضح مثال ہے۔
