گوادر کے حقوق کے لیے دھرنا ختم کیوں نہیں ہو پا رہا؟
گوادرGwadar Pakistan میں مچھلی کے غیر قانونی شکار، منشیات فروشی، جا بجا چیک پوسٹوں اور ایف سی کے اختیارات کے خلاف مقامی آبادی کا دھرنا حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود کئی ہفتوں سے جاری ہے۔ دھرنا شرکاء کا مطالبہ ہے کہ محض نوٹیفکیشن جاری کرنے کی بجائے عملی اقدامات کئے جائیں ورنہ وہ غیر معینہ مدت تک دھرنا دے کر بیٹھے رہیں گے۔
24 نومبر کو حکومتی مذاکراتی ٹیم نے ایک مرتبہ پھر دھرنے کے مقام کا دورہ کیا اور دھرنے کے شرکاء کے مطالبات کو تسلیم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس کے مطابق فرنٹیئر کور کو سرحدی امور سے ہٹاکر اسے ضلع انتظامیہ کے حوالے کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ گوادر کی سمندری حدود میں غیر قانونی ٹرالنگ روکنے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ فشریز کے اہلکار سمندر میں مشترکہ گشت کریں گے۔ نوٹی فکیشن کے مطابق ڈی ایس پی لیگل کو ماہی گیروں کے کشتیوں کو بند کرنے کے مقدمے کو جلد نمٹانے کی ہدایت کی گئی ہے بجبکہ گوادرGwadar Pakistan شہر میں منشیات کے خلاف کارروائی کے ساتھ ضلع بھر میں شراب خانوں کے لائسنس رد کرنے کے لیے ڈی پی او گوادر کو خط بھی لکھا گیا ہے۔ان مطالبات کی منظوری اور نوٹی فکیشن کے اجرا کے بعد مولانا ہدایت الرحمٰن نے گوادر ایکسپریس وے اور مکران کوسٹل ہائی وے کو بند کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا۔ البتہ مقامی شہریوں نے دھرنا ختم کرنے کا کوئی اعلان نہیں کیا۔
دوسری جانب کوئٹہ کے ریڈ زون کے قریب ہوشاب میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے جانے والے بچوں کے لواحقین کا احتجاج بھی جاری ہے۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی حکومت اس طرح کے نوٹیفکیشن جاری کرتی رہی ہے لیکن عملی طور پر کوئی اقدامات نہیں کیے گئے لہٰذا جب تک ان کے مطالبات کو عملی جامہ نہیں پہنایا جاتا وہ دھرنا جاری رکھیں گے۔ انکے بقول حکومت کو تین دن کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ سرکاری حکم ناموں پر عمل یقینی بنائیں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو یہ دھرنا غیر معینہ مدت تک جاری رہے گا۔
ادھر حکومتی کمیٹی کے رکن اور صوبائی وزیر میر ظہور احمد بلیدی کہتے ہیں کہ یہ ایک عوامی جدوجہد ہے، ہم نے اس تحریک کی حمایت بھی کرتے ہیں اور حکومت کی کوشش ہے اس مسئلے کو حل کیا جائے اور امید ہے کہ جلد یہ دھرنا ختم ہو گا۔ خیال رہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے نقطۂ آغاز اور بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کے شہری گزشتہ کئی روز سے اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے احتجاج کر رہے ہیں اور دھرنا دیئے بیٹھے ہیں۔ یہ احتجاج گوادر کے عوام کی جانب سے شروع کی گئی ‘گوادر(Gwadar Pakistan کو حق دو’ تحریک کے تحت کیا جا رہا ہے اور گزشتہ بارہ روز سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس احتجاج کی صدارت سیاسی و سماجی رہنما مولانا ہدایت الرحمٰن کر رہے ہیں جن کا تعلق جماعتِ اسلامی سے ہے۔ مولانا ہدایت الرحمٰن کے بقول یہ کسی سیاسی جماعت کا احتجاج نہیں بلکہ اس میں گوادر اور مکران کے عوام شامل ہیں جن میں ماہی گیر، تاجر، اساتذہ، طالب علم اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں۔اس سے قبل 19 اگست کو بھی اسی تحریک کے تحت گوادر میں سر بندر کراس کے مقام پر ایک دھرنا دیا گیا تھا جو 21 اگست تک جاری رہا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے 19 اگست کو جو دھرنا دیا تھا وہ ماہی گیروں کے مسائل کے حوالے سے تھا۔ اس دوران صوبائی حکومت کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوئے تھے اور حکومت نے یقین دہانی کرائی تھی کہ شہر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور سمندر میں غیر قانونی ٹرالنگ کے مسائل حل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ٹیسٹ ٹیم کا اعلان
تاہم بعد ازاں صوبائی اور وفاقی حکومتون نے اس سلسلے میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔ واضح رہے کہ ”گوادر کو حق دو” تحریک کے مطالبات میں سب سے بڑا مطالبہ سمندر میں غیرقانونی طور پر مچھلیوں کے شکار کا خاتمہ ہے۔ تحریک کے رہنماؤں کا الزام ہے کہ صوبہ سندھ سے دو ہزار کے قریب ٹرالر بلوچستان کی سمندری حدود میں ٹرالنگ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مچھلیوں کے غیرقانونی شکار کے دوران ممنوعہ جال بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس سے نہ صرف گوادر بلکہ مقامی ماہی گیروں کا معاشی قتل ہو رہا ہے اور سمندری حیاتیات کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ مولانا ہدایت الرحمٰن نے دعویٰ کیا کہ اس سے قبل چین کے بھی چار سے پانچ ٹرالرز آئے اور مبینہ طور پر غیرقانونی شکار شروع کیا جس پر انہوں نے سخت ردِعمل دیا اور احتجاج کیا اور چینی ٹرالرز واپس لوٹ گئے۔ انہوں نے کہا کہ ”ایسا لگتا ہے کہ غیرقانونی طور پر مچھلی کا شکار کرنے والوں کے پیچھے بہت بڑا مافیا ہے اسی لیے ہمارا صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ ہے کہ گوادر تا مکران سمندری حدود میں غیر قانونی طور پر ٹرالنگ کو فی الفور روکا جائے۔ مظاہرین کا دوسرا بڑا مطالبہ گوادر میں منشیات کا خاتمہ ہے۔ دھرنے کے شرکا کا کہنا ہے کہ نہ صرف گوادر بلکہ مکران ڈویژن منشیات کا گڑھ بن چکا ہے جس سے نوجوان متاثر ہو رہے ہیں۔
مولانا ہدایت اللہ نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ منشیات کے اڈوں کے خلاف فی الفور آپریشن کیا جائے اور اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کیا جائے۔
دھرنا میں شامل مظاہرین کا ایک اور مطالبہ گوادر شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں کا خاتمہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چیک پوسٹوں کے ذریعے عوام کو بلا جواز تنگ کیا جاتا ہے۔ ان کے بقول سیکیورٹی چیک پوسٹیں ضرور بنائی جائیں مگر یہ عوام کی توہین کے لیے نہیں بلکہ شہریوں کے تحفظ کے لیے کام کریں۔
