ریکوڈک کیس میں پاکستان کو 14 ارب ڈالرز کا جرمانہ

عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کے تحت وفاقی حکومت کو پاکستان کے خلاف کیس کرنے والی غیر ملکی کمپنی کو 10 ارب ڈالرزجبکہ بلوچستان حکومت کو 4 ارب ڈالر ادا کرنا ہوں گے جبکہ یکمشت رقم ادا نہ کرنے تک یومیہ 60 لاکھ ڈالرز سود لگے گا۔ اسکے علاوہ امریکہ میں موجود روز ویلٹ ہوٹل سمیت پاکستان کے بیرون ملک تمام اثاثے بھی ضبط یا منجمد ہو جائیں گے۔ حکومت بلوچستان ریکوڈک کیس کی بیرون ملک پیروی پر پہلے ہی پانچ ارب روپے سے زائد رقم خرچ کر چکی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ پریشان کن صورتحال بلوچستان اسمبلی کے ممبران کو ایک ان کیمرہ بریفنگ کے دوران بتائی گئی۔ یہ بریفنگ بلوچستان میں سونے اور تانبے کے اربوں ڈالرز مالیت کے ریکوڈک منصوبے کے حوالے سے پیش رفت پر تھی۔
نو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے اِن کیمرا اسمبلی اجلاس میں حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے 42 اراکین اسمبلی نے شرکت کی۔ معاملے کی حساسیت کے پیش نظر میڈیا کو اجلاس کی کوریج کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔
اردو نیوز نے ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اس اجلاس سے ایک روز قبل سیکریٹری اسمبلی کی جانب سے چار نکات پر مشتمل ایس او پیز جاری کیے گئے جن پر عمل کرتے ہوئے تمام ارکان اسمبلی کو اپنے موبائل فون اسمبلی کے گیٹ پر ہی عملے کو جمع کرانے کا پابند کیا گیا۔ ارکان اسمبلی پر سٹاف ممبر ساتھ لے جانے اور اسمبلی سیکریٹریٹ اور ایم پیز ہاسٹل میں بھی تمام وزٹرز اور سرکاری و غیر سرکاری مسلح محافظوں کے داخلے پر پابندی لگائی گئی۔ ترجمان بلوچستان حکومت کے مطابق اس بریفنگ کا اہتمام صوبائی حکومت کی جانب سے کیا گیا تھا جس کا مقصد عوامی نمائندوں کو قومی اہمیت کے حامل اس منصوبے پر اعتماد میں لینا تھا۔ ترجمان کے مطابق 9 گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے اس طویل سیشن میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور دیگر متعلقہ وفاقی اداروں کے حکام نے بریفنگ دی۔ ریکوڈک پر عالمی اداروں کے فیصلوں اور ان پر عمل درآمد سے متعلق پیشرفت سے بھی اراکین کو آگاہ کیا گیا جس کے بعد سوال جواب کا سیشن ہوا۔ صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اراکین اسمبلی کے لیے اس نوعیت کی ان کیمرا بریفنگ کا اہتمام کیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے جنوری 2013 میں ریکوڈک کے ذخائر استعمال کرنے کے آسٹریلوی کمپنی ٹیتھیان کاپر کمپنی اور بلوچستان حکومت کے معاہدے کو کالعدم قرار دیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ جولائی 1993 میں ہونے والا یہ معاہدہ ملکی قوانین کے خلاف ہے اور اس کے بعد اس میں کی گئی تمام بھی ترامیم غیر قانونی اور معاہدے کے منافی ہیں۔2011 میں نواب اسلم رئیسانی کی حکومت نے کمپنی کی کان کنی کے لیے لائسنس کر لیے درخواست مسترد کی تھی۔ بلوچستان حکومت اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے خلاف ٹیتھیان کاپر کمپنی نے جنوری 2012ء میں ورلڈ بینک گروپ کے انٹرنیشنل سینٹر برائے سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس سے رجوع کیا۔
سرمایہ کاری سے متعلق اس عالمی ثالثی عدالت نے سات سال بعد فیصلہ سناتے ہوئے جولائی 2019 میں پاکستان پر تقریبا چھ ارب ڈالر جرمانہ عائد کیا جو پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار کے دو فیصد کے برابر رقم ہے۔
اس کے فوری بعد ٹیتھیان نے اس فیصلے کے نفاذ کے لیے کارروائی شروع کردی تھی اور برٹش ورجن آئی لینڈ کی عدالت نے دسمبر 2020 میں پی آئی اے کے نیویارک اور پیرس میں ہوٹل سمیت پاکستانی اثاثوں کو منجمد کرنے کا حکم دیا، تاہم بعد میں یہ فیصلہ منسوخ ہوا اور پاکستان نے عالمی عدالت سے مئی 2021 تک مشروط حکم امتناع بھی حاصل کر لیا۔
اب گذشتہ کئی ماہ سے ٹیتھیان کاپر کمپنی اور پاکستانی حکومت کے درمیان عدالت سے باہر معاملات طے کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ تقریباً اس دوران 30 نومبر 2021 کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اراکین نے قرارداد کے ذریعے ریکوڈک سے متعلق نئے مجوزہ معاہدے پر بلوچستان اسمبلی کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا۔ اس اجلاس میں حزب اختلاف کے اراکین نےخدشہ ظاہر کیا تھا کہ وفاقی حکومت بلوچستان حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر ریکوڈک پر نیا معاہدہ کرنے جا رہی ہے اور ریکوڈک اور صوبے کے دیگر قدرتی وسائل اور معدنیات کے حقیقی مالک ہونے کے باوجود فیصلہ سازی میں بلوچستان کے لوگوں کو شامل نہیں کیا جا رہا۔
بلوچستان اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند نے اجلاس میں شرکت کے بعد اردو نیوز کو بتایا کہ ریکوڈک سے متعلق ہمیں بڑی بھیانک تصویر دکھائی گئی اور بتایا گیا کہ عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کے تحت پاکستان کی وفاقی حکومت کو غیرملکی کمپنی کو 10 ارب ڈالر جبکہ بلوچستان کو 4 ارب ڈالر ادا کرنے ہوں گے اور رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں یومیہ 60 لاکھ ڈالر سود لگے گا جبکہ امریکہ میں روز ویلٹ ہوٹل سمیت پاکستان کے بیرون ملک اثاثے بھی ضبط یا منجمد ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بظاہر ان کی نیت یہی ہے کہ اسی کمپنی کے ساتھ معاملات طے کیے جائیں گے اور جرمانہ حکومت کے حصے میں سے کاٹا جائے گا۔ یار محمد رند نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ریکوڈک پر از سرنو معاہدے کے نکات حوصلہ افزا نہیں لگ رہے، ماضی کی حکومت کی غلطیوں کا خمیازہ صوبے، ملک اور عوام نے بھگتنا ہے۔‘
پی ٹی آئی رہنما نے مطالبہ کیا ہے کہ ریکوڈک پر از سرنو معاہدے سے قبل ٹُرتھ کمیشن بنا کر ماضی میں ہونے والے غلط فیصلوں اور اس کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔ اس منصوبے پر ان کیمرا بریفنگ کی بجائےعام اجلاس میں حقائق اور نئے معاہدے کے نکات بلوچستان اور پاکستان کے عوام کے سامنے لائے جائیں اور عوام کو اعتماد میں لے کر فیصلے کیے جائیں۔
یاد رہے کہ ریکوڈک ایران اور افغانستان کی سرحد کے قریب بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے نوکنڈی میں ٹیتھیان کی اراضیاتی پٹی پر واقع ہے۔ یہ پاکستان میں سونے، چاندی اور تانبے کا سب سے بڑا ذخیرہ مانا جاتا ہے اور اس کا شمار دنیا کے چند بڑے قیمتی زیر زمین ذخائر میں ہوتا ہے۔ ریکوڈک میں ایک کروڑ 30 لاکھ ٹن تانبے کے ذخائر اور دو کروڑ 30 لاکھ اونس سونا موجود ہے۔ ٹھیتان کاپر کمپنی کی رپورٹ کے مطابق ریکوڈک کا ’اقتصادی طور پر قابلِ کان کن حصہ چار ارب ٹن سے زائد ہے جس میں اوسطاً تانبا 0.53 فیصد ہے جبکہ سونے کی مقدار 0.3 گرام فی ٹن ہے۔ اس منصوبے کی کل عمر کا تخمینہ 56 سال لگایا گیا ہے۔ کمپنی نے ان قیمتی دھاتوں کے ذخائر کی کل مالیت کا تخمینہ صرف ایک سو ارب ڈالرز لگایا تھا۔ لیکن جیالوجیکل سروے آف پاکستان اور جوہری سائنس دان ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ ریکوڈک میں 600 کلومیٹر رقبے پر پھیلے ذخائر کی کل مالیت ایک ہزار ارب ڈالرز سے زائد ہے۔
