جنوری میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتمادآنے کا امکان

ڈیل کی افواہوں میں شدت آنے کے بعد اب اس امکان کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ جنوری میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے عدم اعتماد کی تحریک داخل کی جا سکتی ہے جس کے بعد وہ قومی اسمبلی توڑنے کی پوزیشن میں نہیں رہیں گے۔
اس امکان کا اظہار سینئر اینکر پرسن عاصمہ شیرازی نے بی بی سی کے لیے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کیا ہے۔ عاصمہ لکھتی ہیں کہ کل کیا ہو جائے؟ سیاسی نقشہ کیسا ہو گا؟ 2022 میں کس کی حکومت ہو گی؟ وطن عزیز میں اگلا آرمی چیف کسے بنایا جائے گا؟ یہ سب سوالات محض سوالات ہی ہیں۔ جواب یا تو وقت کے پاس ہے یا حالات کو خبر۔
ایسے میں سیاسی جوتشی کیا زائچہ بناتے ہیں، نجومی ستاروں کی کیا چال سجاتے ہیں اور علم الاعداد کس کے کتنے عدد بتاتے ہیں۔۔۔ یقیناً اس بارے دلچسپی رکھنے والے ہی خبر رکھے ہوئے ہوں گے۔ ہم لکھاری، سیاست کے طالبعلم صرف حال سے باخبر ہیں جو خاصا بےحال ہے۔
عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ کہ ڈیل کی خبریں ایک بار پھر گردش میں ہیں۔ یہ لفظ پاکستانی سیاست میں سال 2006 میں داخل ہوا۔ سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ میں ہونے والی گفتگو کو ’ڈیل‘ کا نام دیا گیا حالانکہ ’ڈیل‘ دو ہم پلہ گروہوں میں ہوتی ہے جبکہ پاکستان جیسے ملک میں کم از کم سیاسی حلقے قطعاً اسٹیبلشمنٹ کے ہم پلہ نہیں ہو سکتے۔ 2006 کے اوائل سے ہی پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ’ڈیل‘ کی خبریں گردش میں تھیں۔ پیپلز پارٹی اور اے آر ڈی میں شامل جماعتوں کی کوریج چونکہ میری ذمہ داری تھی اور بطور پارلیمانی رپورٹر خبروں سے آگاہی میرا پیشہ اور شوق بھی۔ لہذا مخصوص حالات ہماری نظر کے سامنے تھے۔ اُن دنوں فوجی اسٹیبلشمنٹ کو محسوس ہوا کہ سیاست دانوں کو ’انگیج‘ کرنا ضروری ہے تاکہ دن بہ دن کمزور ہوتی مشرف حکومت کے لیے ’اصلی عوامی نمائندہ حکومت‘ کا بندوبست کیا جائے۔
بقول عاصمہ، آمریتوں یا ہائبرڈ ادوار میں چوری شدہ حق حکمرانی ایک سٹیج پر ناکام ہونا شروع ہو جاتا ہے اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب مقتدر قوتیں اگلے اقتدار تک ’ہائبرنیشن‘ میں جانے کا منصوبہ بناتی ہیں۔ ’ڈیل‘ کی متلاشی اسٹیبلشمنٹ خود کو دوام دینے کے لیے مختصر دورانیے کی بیساکھیوں والی جمہوریت کو موقع فراہم کرتی ہے اور اس دوران اپنے آئندہ کے منصوبے تشکیل دیتی ہے۔ بہرحال 2006 اسی طرح بیت گیا اور 2007 میں عدلیہ بحالی تحریک کا آغاز ہوا، اب یہ کسی ’ڈیل‘ کا حصہ تھا یا نہیں مگر عوام کو مشرف حکومت کے خلاف اظہار کا ایک موقع ضرور مہیا ہو گیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اور جدہ کے بعد لندن میں موجود میاں نواز شریف پر آمر مشرف نے سیاست کے دروازے بند کر رکھے تھے۔ سیاسی رہنما وطن واپسی کے لیے رابطوں میں تھے اور یوں محترمہ مشرف کے قریبی ساتھی طارق عزیز اور اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی اشفاق پرویز کیانی کو وطن واپسی کے لیے رضامند کر پائیں۔ ان معاملات میں بیرونی قوتوں کی مداخلت تھی یا ضامن کون تھا اس سے قطع نظر پاکستان کی طاقتور اسٹیبلشمنٹ کو دونوں رہنماؤں کو وطن واپسی کی اجازت دینا ہی پڑی۔
عاصمہ کہتی ہیں کہ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ لاکھ سیاست دانوں پر تنقید کریں، ان کی بدعنوانیوں کے قصے درودیوار پر چسپاں کریں مگر عوام انھی سیاست دانوں سے اُمیدیں لگاتے ہیں اور اُنھیں ہی اپنی امیدوں کا محور گردانتے ہیں۔ ’بریانی کی پلیٹ پر بک جانے والے عوام‘ کا طعنے دینے والے غیر سیاسی لوگ کب جانتے ہیں کہ عوام سیاست سے مستقبل وابستہ کیوں کر لیتے ہیں۔ 2008 کے انتخابات سے قبل محترمہ کی شہادت کس ڈیل کا حصہ تھی اس پر زیادہ روشنی نہیں ڈالی جا سکتی البتہ اتنا ضرور ہے کہ بے نظیر بھٹو کی شہادت بھی جنرل مشرف کے اقتدار کی طوالت کی ضمانت نہ بن سکی۔ اب ایک بار پھر اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ڈیل کی کوششوں کی شنید ہے، ڈیل لینے والے سیاست دانوں کا تذکرہ تو ضرور ہے لیکن ڈیل دینے والوں کا کوئی ذکر نہیں اور نہ ہی کوئی نام سامنے آ رہا ہے۔ حالات پھر وہیں پر ہیں جہاں بھائی لوگوں کو ایک مختصر دورانیے کی ڈیل چاہیے۔ ڈیل سیاسی لوگ ہی دیتے ہیں لیکن سجی سجائی ٹی وی سکرینیں آدھا سچ دکھاتی ہیں۔
بقول عاصمہ شیرازی، جنوری میں دھماکہ نواز شریف کی آمد کا نہیں بلکہ تحریک عدم اعتماد کی صورت میں ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ تحریک عدم اعتماد قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں جمع ہونے کے بعد قومی اسمبلی تحلیل نہیں کی جا سکتی۔ پیپلز پارٹی اور پی ڈی ایم احتجاج کے موڈ میں ہیں جبکہ پیپلز پارٹی 5 جنوری سے حکومت مخالف تحریک کے آغاز کا عندیہ دے چکی ہے۔ ایک طرف حزب اختلاف سڑکوں پر احتجاج کا لائحہ عمل بنا رہی ہے تو دوسری طرف حکومت پر آئندہ چند دنوں میں منی بجٹ پارلیمنٹ سے منظور کروانے کا دباؤ ہے۔
اپوزیشن منی بجٹ مسترد کرنے کی کوشش کرے یا نہ کرے، حکومت کو اپنے اراکین اور اتحادیوں کی مخالفت کا سامنا ضرور کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ بعض حکومتی اراکین منی بجٹ کے نتیجے میں عوامی دباؤ کا سامنا کرنے کو تیار نہیں۔ حزب اختلاف 450 ارب کے لگ بھگ ٹیکسوں پر مشتمل مالیاتی بل کو مسترد کرنے کی کوشش میں بظاہر نظر نہیں آتی البتہ مخالفت کے لیے کمر ضرور کس رہی ہے۔ اپوزیشن حلقوں کی مالیاتی بل کے تناظر میں حکومت کو شکست تحریک انصاف کو سیاسی شہادت مہیا نہیں کر سکے گی تاہم اپوزیشن نے اس بارے میں مشترکہ لائحہ عمل بنانے کی تاحال کوئی کوشش نہیں کی۔
ان حالات میں پاکستان کے پسے عوام بھی ایک ڈیل کے منتظر ہیں کہ کب اُن کے حقوق تسلیم کیے جائیں اور اُنھیں جینے کا حق میسر ہو اور کب پالیسیوں کے محور صرف عوام ہوں۔ عاصمہ کے مطابق اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی جماعتیں اس بار کوئی ڈیل کرنے کی بجائے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈائیلاگ کو ترجیح دیں گی؟ خفیہ بات چیت کی بجائے معاملات منظر عام پر لائیں گی؟ اپنے ذاتی مفادات کو عوامی مفادات میں بدلیں گی؟ اگر ایسا ہوا تو یہ ڈائیلاگ عوام اور ریاست کا ڈائیلاگ بن جائے گا جس سے سیاست میں مقتدر حلقوں کی مداخلت کا دروازہ بند کرنے کا امکان کم از کم ضرور پیدا ہو سکتا ہے؟ لیکن ڈیل کا تاثر زائل کرنے کا زور لگانے والی سیاسی جماعتیں عوام کو اتنا تو بتائیں کہ اُنھیں بات چیت کے لیے کون بند کمروں میں دعوت دیتا ہے۔ کیا وقت آ گیا ہے کہ اب ڈیل کی بجائے ڈائیلاگ کیا جائے اور اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کو ختم کرنے کے حوالے سے کوئی لائحہ عمل طے کیا جائے آئے کیونکہ اسی میں فوج اور عوام دونوں کا فائدہ ہے۔
